LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، روس فیلڈ مارشل کی جنگی لباس میں سعودی ولی عہد سے ملاقات غیر معمولی اہمیت کی حامل قرار لکی مروت میں دھماکا، ایس ایچ او سمیت 6 پولیس اہلکار شہید اسرائیل پر تازہ میزائل حملوں میں درجنوں افراد زخمی، متاثرہ علاقوں میں شہریوں کو انخلا کی ہدایت پنجاب میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے: عظمیٰ بخاری جمعة الوداع کے اجتماعات، یوم القدس کی ریلیاں، سکیورٹی ہائی الرٹ ایران کے اسرائیل پر نئے میزائل و ڈرون حملے، خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے بڑھ گئیں مشرقِ وسطیٰ کیلئے پاکستان سے پروازوں کا آپریشن بتدریج بحال مشرق وسطیٰ میں کشیدگی فوری ختم کی جائے، پاکستان کا سلامتی کونسل میں مطالبہ سعودی عرب نے شیبہ آئل فیلڈ کی جانب آنے والا ڈرون تباہ کر دیا امریکی ایندھن بردار طیارہ عراق میں گر کر تباہ، 6 افراد سوار تھے یوم القدس اور متوقع جمعۃ الوداع کے موقع پر سندھ میں آج سرکاری تعطیل ہوگی دبئی حکومت نے عیدالفطر کی سرکاری تعطیلات کا اعلان کردیا عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی، برینٹ تیل 101 ڈالر فی بیرل سے  تجاوز

سرحد پار دراندازی جاری رہی تو فوجی آپشن استعمال ہوگا،وزیر دفاع خواجہ آصف

Web Desk

6 November 2025

 وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ اگر افغانستان کی جانب سے سرحد پار دراندازی کا سلسلہ جاری رہا تو پاکستان اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا، جس میں فوجی آپشن بھی شامل ہے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ سے خصوصی گفتگو میں وزیر دفاع نے بتایا کہ پاکستان کا مؤقف واضح ہے افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ افغان طالبان اس مطالبے کو تسلیم تو کرتے ہیں لیکن تحریری ضمانت دینے سے گریزاں ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے اور دراندازی جاری رہی تو پاکستان کو اپنے دفاع کے لیے فیصلہ کن اقدام اٹھانا پڑے گا۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان استنبول میں مذاکرات کا تیسرا دور آج منعقد ہو رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اکتوبر میں خونریز سرحدی جھڑپوں کے بعد قطر اور ترکی کی ثالثی میں دوحہ میں امن مذاکرات کا آغاز ہوا تھا، جس میں 19 اکتوبر کو جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا تھا۔
تاہم 25 اکتوبر کو استنبول میں ہونے والا دوسرا دور کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا۔ بعد ازاں 30 اکتوبر کو ترکی کی درخواست پر دونوں فریقین نے مذاکرات کی بحالی پر رضامندی ظاہر کی اور سیزفائر برقرار رکھنے کے ساتھ ایک نگرانی و تصدیقی نظام پر اتفاق کیا، جس پر حتمی فیصلہ 6 نومبر کو استنبول اجلاس میں کیا جانا ہے۔
 میڈیا  رپورٹس کے مطابق آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک افغان طالبان قیادت سے مذاکرات میں شریک ہوں گے۔ وزیر دفاع نے بتایا کہ چونکہ افغان وزیر دفاع اجلاس میں شریک نہیں ہو رہے، اس لیے وہ خود بھی استنبول مذاکرات میں شرکت نہیں کر رہے۔