LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی امریکی ڈی ایف سی وفد سے ملاقات: زراعت، توانائی اور معدنیات میں تعاون کا اعادہ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی امریکی ہم منصب سے ملاقات: اقتصادی تعاون اور امریکی سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق بھارتی نوجوانوں کی تحریک زور پکڑ گئی، ملک کے اندر اور باہر شدید احتجاج ٹرمپ انتظامیہ نے جنگ کیلئے کانگریس سے مزید 87 ارب ڈالر مانگ لئے جوہری تنصیبات پر حملہ ہوا تو خطے میں امریکی اتحادیوں کے مفادات کو نشانہ بنائیں گے، ایران فرانسیسی ایئرلائن نے مشرق وسطیٰ کی پروازیں منسوخ کر دیں سعودیہ کا ملٹی پل عمرہ ویز متعارف، قیام کی انتہائی حد 90 روز مقرر آئی ایم ایف کا یوکرین کو 690 ملین ڈالر قرض فراہم کرنے کا اعلان چین نے جاپانی کے نام نہاد تحفظات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا فلائی دبئی کی شام کے شہر حلب کیلئے روزانہ براہ راست پروازیں شروع اسرائیلی فوج کا غزہ میں مکان پر فضائی حملہ، فلسطینی میاں بیوی 4 بچوں سمیت شہید ایران جنگ میں امریکا کو جھونکنے والا اسرائیل پیچھے ہوگیا یوکرینی صدر نے فوج کے کمانڈر اِن چیف کو عہدے سے برطرف کر دیا ٹرمپ نے لبنان کیلئے براہ راست امریکی پروازیں بحال کرنے کی منظوری دے دی اربیل ایئرپورٹ میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر تمام پروازیں عارضی طور پر معطل

سرحد پار دراندازی جاری رہی تو فوجی آپشن استعمال ہوگا،وزیر دفاع خواجہ آصف

Web Desk

6 November 2025

 وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ اگر افغانستان کی جانب سے سرحد پار دراندازی کا سلسلہ جاری رہا تو پاکستان اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا، جس میں فوجی آپشن بھی شامل ہے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ سے خصوصی گفتگو میں وزیر دفاع نے بتایا کہ پاکستان کا مؤقف واضح ہے افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ افغان طالبان اس مطالبے کو تسلیم تو کرتے ہیں لیکن تحریری ضمانت دینے سے گریزاں ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے اور دراندازی جاری رہی تو پاکستان کو اپنے دفاع کے لیے فیصلہ کن اقدام اٹھانا پڑے گا۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان استنبول میں مذاکرات کا تیسرا دور آج منعقد ہو رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اکتوبر میں خونریز سرحدی جھڑپوں کے بعد قطر اور ترکی کی ثالثی میں دوحہ میں امن مذاکرات کا آغاز ہوا تھا، جس میں 19 اکتوبر کو جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا تھا۔
تاہم 25 اکتوبر کو استنبول میں ہونے والا دوسرا دور کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا۔ بعد ازاں 30 اکتوبر کو ترکی کی درخواست پر دونوں فریقین نے مذاکرات کی بحالی پر رضامندی ظاہر کی اور سیزفائر برقرار رکھنے کے ساتھ ایک نگرانی و تصدیقی نظام پر اتفاق کیا، جس پر حتمی فیصلہ 6 نومبر کو استنبول اجلاس میں کیا جانا ہے۔
 میڈیا  رپورٹس کے مطابق آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک افغان طالبان قیادت سے مذاکرات میں شریک ہوں گے۔ وزیر دفاع نے بتایا کہ چونکہ افغان وزیر دفاع اجلاس میں شریک نہیں ہو رہے، اس لیے وہ خود بھی استنبول مذاکرات میں شرکت نہیں کر رہے۔