LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ستھرا پنجاب بہترین منصوبہ، بدعنوانی یا غفلت برداشت نہیں ہوگی: مریم نواز ایران اور امریکہ کے درمیان سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے: بلاول بھٹو پاکستان میں ایڈز کے مریضوں میں خطرناک حد تک اضافہ مریضوں کی تعداد 84 ہزار تک پہنچ گئی پاکستان کا تجارتی خسارہ 31 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا؛ برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافہ وزیراعظم کی امارات میں میزائل اور ڈرون حملوں کی مذمت، جنگ بندی کے احترام کا مطالبہ امریکہ کیلئے صورتحال ناقابل برداشت، آبنائے ہرمز میں شرارت ختم ہو جائے گی: باقر قالیباف وزیراعظم شہباز شریف کی ترکیہ میں تباہ کن سیلاب پر ترک صدر و عوام سے تعزیت سندھ کابینہ کے بڑے فیصلے، ترقیاتی منصوبوں کے لیے اربوں روپے کی منظوری گوادر بندرگاہ پر مئی کا پہلا ٹرانس شپمنٹ کارگو جہاز لنگر انداز چین: آتش بازی کا سامان بنانے والی فیکٹری میں دھماکے سے 21 ہلاک، 61 زخمی چارسدہ میں شیخ الحدیث مولانا ادریس قاتلانہ حملے میں جاں بحق جے ڈی وینس کے سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ، ملزم ہلاک یو اے ای کی فجیرہ بندرگاہ پر ہیکر گروپ حندلہ نے سائبر آپریشن کیا، ایرانی میڈیا ایرانی حملوں کا بھرپور جواب، میزائل اور ڈرون تباہ، اماراتی وزارتِ دفاع کا بیان جاری پاکستان میں اپریل کے دوران تجارتی خسارہ 43 فیصد سے زائد بڑھ گیا

سرحد پار دراندازی جاری رہی تو فوجی آپشن استعمال ہوگا،وزیر دفاع خواجہ آصف

Web Desk

6 November 2025

 وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ اگر افغانستان کی جانب سے سرحد پار دراندازی کا سلسلہ جاری رہا تو پاکستان اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا، جس میں فوجی آپشن بھی شامل ہے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ سے خصوصی گفتگو میں وزیر دفاع نے بتایا کہ پاکستان کا مؤقف واضح ہے افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ افغان طالبان اس مطالبے کو تسلیم تو کرتے ہیں لیکن تحریری ضمانت دینے سے گریزاں ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے اور دراندازی جاری رہی تو پاکستان کو اپنے دفاع کے لیے فیصلہ کن اقدام اٹھانا پڑے گا۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان استنبول میں مذاکرات کا تیسرا دور آج منعقد ہو رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اکتوبر میں خونریز سرحدی جھڑپوں کے بعد قطر اور ترکی کی ثالثی میں دوحہ میں امن مذاکرات کا آغاز ہوا تھا، جس میں 19 اکتوبر کو جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا تھا۔
تاہم 25 اکتوبر کو استنبول میں ہونے والا دوسرا دور کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا۔ بعد ازاں 30 اکتوبر کو ترکی کی درخواست پر دونوں فریقین نے مذاکرات کی بحالی پر رضامندی ظاہر کی اور سیزفائر برقرار رکھنے کے ساتھ ایک نگرانی و تصدیقی نظام پر اتفاق کیا، جس پر حتمی فیصلہ 6 نومبر کو استنبول اجلاس میں کیا جانا ہے۔
 میڈیا  رپورٹس کے مطابق آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک افغان طالبان قیادت سے مذاکرات میں شریک ہوں گے۔ وزیر دفاع نے بتایا کہ چونکہ افغان وزیر دفاع اجلاس میں شریک نہیں ہو رہے، اس لیے وہ خود بھی استنبول مذاکرات میں شرکت نہیں کر رہے۔