LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی میں ترامیم منظور، پٹرولیم مصنوعات کے سٹریٹیجک ریزروز بڑھانے کی ہدایت کویت کے وزیر خارجہ آج 2 روزہ دورے پر پاکستان پہنچیں گے نیتن یاہو امریکا پہنچ گئے، ٹرمپ سے ملاقات میں ایران جنگ پر تبادلہ خیال متوقع عمران خان رہائی فورس کیس: آئینی عدالت کا فریقین کو جواب جمع کرانے کیلئے مہلت پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال بہتر، پانی کا بہاؤ معمول پر آگیا آزاد کشمیر الیکشن: ن لیگ نے 8 نشستیں جیت کر میدان مار لیا، پیپلزپارٹی 4 پرکامیاب عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر مثبت رجحان صدر مملکت اور وزیراعظم کا 2030 تک ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ محسن نقوی کی قطری ہم منصب سے ملاقات، سکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق انتخابی عمل کا پہلا مرحلہ آزادانہ اور شفافیت سے مکمل ہوا:چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر اقوام متحدہ کی مقبوضہ مغربی کنارے اسرائیلی بستیوں کے توسیعی منصوبے کی شدید مذمت میرپور نے شیر پر مہر لگا کر اعلان کر دیا ترقی ن لیگ سے جڑی ہے: مریم اورنگزیب تہران نے ثالثوں کے ذریعے مذاکرات میں امریکی تجاویز مسترد کردیں استحکام پاکستان پارٹی کے ایل اے 6 کے امیدوار علی شان سونی گرفتار

سرحد پار دراندازی جاری رہی تو فوجی آپشن استعمال ہوگا،وزیر دفاع خواجہ آصف

Web Desk

6 November 2025

 وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ اگر افغانستان کی جانب سے سرحد پار دراندازی کا سلسلہ جاری رہا تو پاکستان اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا، جس میں فوجی آپشن بھی شامل ہے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ سے خصوصی گفتگو میں وزیر دفاع نے بتایا کہ پاکستان کا مؤقف واضح ہے افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ افغان طالبان اس مطالبے کو تسلیم تو کرتے ہیں لیکن تحریری ضمانت دینے سے گریزاں ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے اور دراندازی جاری رہی تو پاکستان کو اپنے دفاع کے لیے فیصلہ کن اقدام اٹھانا پڑے گا۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان استنبول میں مذاکرات کا تیسرا دور آج منعقد ہو رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اکتوبر میں خونریز سرحدی جھڑپوں کے بعد قطر اور ترکی کی ثالثی میں دوحہ میں امن مذاکرات کا آغاز ہوا تھا، جس میں 19 اکتوبر کو جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا تھا۔
تاہم 25 اکتوبر کو استنبول میں ہونے والا دوسرا دور کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا۔ بعد ازاں 30 اکتوبر کو ترکی کی درخواست پر دونوں فریقین نے مذاکرات کی بحالی پر رضامندی ظاہر کی اور سیزفائر برقرار رکھنے کے ساتھ ایک نگرانی و تصدیقی نظام پر اتفاق کیا، جس پر حتمی فیصلہ 6 نومبر کو استنبول اجلاس میں کیا جانا ہے۔
 میڈیا  رپورٹس کے مطابق آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک افغان طالبان قیادت سے مذاکرات میں شریک ہوں گے۔ وزیر دفاع نے بتایا کہ چونکہ افغان وزیر دفاع اجلاس میں شریک نہیں ہو رہے، اس لیے وہ خود بھی استنبول مذاکرات میں شرکت نہیں کر رہے۔