مغرب میں جمہوریت اور مشرق میں کمیونزم ناکام، حل اسلامی نظام میں ہے: مولانا فضل الرحمٰن
Web Desk
18 June 2026
جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے عالمی جیو پولیٹیکل نظاموں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مغرب کا سرمایہ دارانہ جمہوری ماڈل اور مشرق کا کمیونسٹ نظام دونوں انسانیت کو مسائل کی دلدل سے نکالنے میں مکمل ناکام ہو چکے ہیں، اور اب دنیا کے تمام تر سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل کا واحد پائیدار حل صرف اور صرف اسلامی نظامِ حیات میں ہی مضمر ہے۔خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں منعقدہ عظیم الشان ‘شہید مولانا محمد ادریسؒ کانفرنس’ سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی نے خطے کی سیکیورٹی، انتخابی نظام اور اپنی جماعت کی دو سو سالہ جدوجہد پر تفصیلی تزویراتی موقف پیش کیا۔کانفرنس کے اہم اور کلیدی نکات درج ذیل ہیں:شہید مولانا محمد ادریسؒ کو خراجِ عقیدتامت کا نقصان: مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ مولانا محمد ادریسؒ کی شہادت صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کا ایک عظیم اور تزویراتی نقصان ہے۔سوچ اور فکر کی بقا: انہوں نے دشمن عناصر کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ “اگر تم ایک ادریس کو شہید کرو گے تو ارضِ پاک کے ہر کونے سے ایسی کئی جلیل القدر شخصیات پیدا ہوں گی، کیونکہ ان کی فکر، ان کی آواز اور ان کا عظیم نصب العین آج بھی زندہ ہے۔”کارکنوں کا عزم: انہوں نے چارسدہ کے فقید المثال اجتماع کو کارکنوں کے حوصلے پست ہونے کی توقع رکھنے والی قوتوں کے لیے ایک دندان شکن جواب قرار دیا۔مدارس کے خلاف سازشیں اور فکری محاذسربراہ جے یو آئی نے اپنی جماعت کے تاریخی پسِ منظر پر روشنی لاتے ہوئے کہا کہ جے یو آئی برصغیر میں دو سو سالہ طویل دینی و سیاسی تزویراتی جدوجہد کی امین اور وارث ہے:علاقائی نظریات کا خاتمہ: جماعت نے فرقہ واریت، لسانیت اور علاقائیت کے محدود اور زہریلے نظریات کا ہر سطح پر ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔دینی مدارس کا تحفظ: دینی مدارس اور علومِ دینیہ کے خلاف کی جانے والی تمام عالمی و مقامی سازشیں ماضی میں بھی بری طرح ناکام ہوئیں اور آئندہ بھی انہیں کبھی کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔کے پی، بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال اور بندوق کی سیاستمولانا فضل الرحمٰن نے ملک کی موجودہ جیو پولیٹیکل اور اندرونی سیکیورٹی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا:علاقائی صورتحال اور چیلنجزجے یو آئی کا تزویراتی موقف اور حلانسانی جان کی پامالی: خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں انسانی جان کی حرمت کو مسلسل پامال کیا جا رہا ہے۔بدامنی پھیلانے والی قوتیں دراصل بیرونی ایجنڈے پر کام کرنے والی طاقتوں کی آلہ کار ہیں۔بندوق کی سیاست: بعض شرپسند قوتیں بندوق کے زور پر خطے میں مستقل بدامنی اور خون خرابہ چاہتی ہیں۔جے یو آئی خطے میں امن، بقائے باہمی اور علم و تعلیم کے فروغ کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرتی رہے گی۔
متعلقہ عنوانات
پاکستان کا خطے میں کشیدگی پر اظہار تشویش، فریقین سے وعدوں کی پاسداری کی اپیل
12 July 2026
آبنائے ہرمز مکمل بند، جہازرانوں کو اگلے نوٹس تک سفر نہ کرنے کی ہدایت
12 July 2026
واشک میں مسلح افراد کی فائرنگ سے 5 افراد جاں بحق
12 July 2026
وزیراعظم شہباز شریف کی کل قطر روانگی متوقع
12 July 2026
بنگلادیش میں طوفانی بارشوں کے باعث 44 افراد ہلاک،متعدد لاپتہ
12 July 2026
جماعت اسلامی کا آزاد کشمیر میں قیام امن کیلئے گرینڈ جرگہ تشکیل دینے کا فیصلہ
12 July 2026
قطر نے سمندری سرگرمیاں غیر معینہ مدت تک معطل کر دیں، ایرانی حملوں کی شدید مذمت
12 July 2026
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی ملاقات
12 July 2026