LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایل پی جی کی قیمتوں میں بڑی کمی، اوگرا نے نوٹیفکیشن جاری کردیا امریکی سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ, پیدائشی شہریت کا حق برقرار، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا صدارتی حکم نامہ مسترد شہید سپریم لیڈر کی تعزیتی تقریب، ایران کا پاکستان کو خصوصی دعوت نامہ بلوچستان میں گیس کمپنی کے 6 مزدور اغوا لاہور کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے ہلاکتیں؛ وزیر اعلیٰ نے نوٹس لے لیا جولائی تا ستمبر معمول سے زیادہ گرمی، فلیش فلڈ اور سیلاب کی پیشگوئی مولانا فضل الرحمان کی آزاد کشمیر کے معاملے پر ثالثی کی پیشکش امریکی وفد کی قطری حکام سے اہم ملاقاتیں، ایران سے براہِ راست مذاکرات کا امکان مسترد برطانیہ کا دفاعی بجٹ 2029 تک 80 ارب پاؤنڈ سالانہ کرنے کا اعلان لاہور میں اکیڈمی کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق، متعدد زخمی پانی کا بہاؤ روکنا جنگی جرم، بھارت سندھ طاس نظام پر ناانصافی کر رہا ہے: ڈاکٹر وکٹر گاؤ گلگت میں گلیشیئرز کے پگھلاؤ سے چھموگڑھ نالے میں طغیانی، درجنوں افراد پھنس گئے حکومت نے کبھی پی ٹی آئی سے رابطہ نہیں کیا، علیمہ خان کے دعوے غلط ہیں: طلال چودھری بلاول بھٹو کی فضل الرحمان سے ملاقات، ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلۂ خیال عالمی دریائی معاہدوں کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بہت بھاری ہو سکتی ہے: اسحاق ڈار

آئی ایم ایف شرائط، ایف بی آر کا افسران کے اثاثوں تک بینکوں کی رسائی کے اعداد و شمار جاری کرنے کا فیصلہ

Web Desk

30 June 2026

عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی سخت شرائط پر عملدرآمد کرتے ہوئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سول بیوروکریسی کے اثاثوں تک بینکوں کی رسائی سے متعلق اہم اعداد و شمار پبلک کرنے کا باضابطہ فیصلہ کر لیا ہے۔

ایف بی آر کے ایک اعلیٰ سطحی مراسلے کے مطابق، اینٹی منی لانڈرنگ (AML) اور دہشتگردی کی مالی معاونت کی روک تھام (CFT) کے عالمی مقاصد کو پورا کرنے کے لیے بینکوں کو ایک مخصوص ڈیجیٹل پورٹل کے ذریعے گریڈ 17 سے لے کر گریڈ 22 تک کے اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کے اثاثہ جات کے گوشواروں (Asset Declarations) تک رسائی فراہم کی جا رہی ہے۔

آئی ایم ایف کے بینچ مارک کی شق 38(ایف) کے تحت ایف بی آر کے لیے یہ لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ جون 2026 تک اپنی آفیشل ویب سائٹ پر اس رسائی کے مکمل اعداد و شمار شائع کرے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ملکی نظام میں شفافیت کو فروغ دینا اور بینکنگ سیکٹر میں اس ڈیجیٹل سہولت سے متعلق آگاہی پیدا کرنا ہے۔

ایف بی آر کے اعلامیے کے مطابق، گزشتہ 6 ماہ یعنی دسمبر 2025 سے مئی 2026 تک کے عرصے میں بینکوں کی جانب سے سرکاری افسران کے اثاثے چیک کرنے کے لیے موصول ہونے والی درخواستوں، ان کی منظوری اور مسترد کیے جانے کی تمام تر تفصیلات ویب سائٹ پر اپ لوڈ کی جا رہی ہیں۔

جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، اس 6 ماہ کے عرصے میں بینکوں کی طرف سے مجموعی طور پر 2,628 درخواستیں موصول ہوئیں، جن کی جانچ پڑتال کے بعد ایف بی آر نے 2,205 درخواستوں کو منظور کرتے ہوئے افسران کے اثاثوں تک رسائی دی، جبکہ قواعد و ضوابط پر پورا نہ اترنے والی 423 درخواستوں کو مسترد کر دیا گیا۔