LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
عراق سے امریکی افواج کا انخلا مکمل، کل ’یوم خودمختاری‘ منانے کا اعلان پاکستان کا ایم ٹی آنر 25 کی بازیابی کے دوران جانی نقصان پر اظہار تعزیت پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں پارلیمانی امور پر مشاورت، اجلاس میں اہم معاملات زیر غور پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے کرسچن میرج بل 2026 کی منظوری دے دی پاکستان ایس سی او سربراہ اجلاس کی کامیاب میزبانی کیلئے پرعزم ہے: اسحاق ڈار ماسکو میں عالمی مذہبی کانفرنس، پاکستان سمیت 40 ممالک کے وفود کی شرکت آئی پی پیز نے ملک کی کمر توڑ دی، سسٹم کو بدل کر ضلعی معیشت پر جانا ہوگا، ایس ایم تنویر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے وکلا کی فہرست جیل حکام کے حوالے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد کی سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات، الوداعی دورہ دبئی سے اسرائیل جانے والی پرواز کی سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ کے پی حکومت گورننس اور دہشت گردی روکنے میں مکمل ناکام، سیاست کو زندگیوں پر ترجیح دی جا رہی ہے: وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ FIA انسداد دہشت گردی ونگ کی بڑی کارروائی، افغانیوں کے منسوخ شدہ شناختی کارڈ بحال کرنے والا نادرا کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر گرفتار سندھ طاس معاہدہ پاکستانیوں کی زندگی اور بقا کا مسئلہ، یکطرفہ معطلی غیر قانونی ہے: عطاء تارڑ ایف بی آر کا اسٹیل سیکٹر کے لیے بڑا اقدام، سیلز ٹیکس کی نئی شرحیں مقرر ایف بی آر کا سخت فیصلہ، مانیٹرنگ سسٹم سے منسلک نہ ہونے والے کاروباری مراکز سیل کرنے کا اعلان

طاعون سے مرنے والے ہزاروں افراد کی اجتماعی قبر دریافت

Web Desk

16 January 2026

محققین نے جرمنی میں واقع ایک قرونِ وسطیٰ کے گاؤں میں اپنی نوعیت کی پہلی اجتماعی قبر دریافت کر لی ہے، جس میں طاعون (بلیک ڈیتھ) سے مرنے والے ہزاروں افراد کے شواہد سامنے آئے ہیں۔

اس دریافت کو یورپ میں طاعون سے ہونے والی اموات کے حوالے سے مدفن کی پہلی باقاعدہ نشان دہی قرار دیا جا رہا ہے۔ تاریخی ریکارڈز کے مطابق 1346 سے 1353 کے دوران پھیلنے والی بلیک ڈیتھ نے یورپ کی تقریباً نصف آبادی کو ہلاک کر دیا تھا۔

ماہرین کے مطابق 14ویں صدی کے تحریری ریکارڈز میں ایرفرٹ شہر کے باہر بڑے گڑھوں میں ہزاروں لاشیں دفن کیے جانے کا ذکر موجود تھا، تاہم ان مقامات کی اب تک تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔

لیپزگ یونیورسٹی کے جغرافیہ دان مائیکل ہائن کا کہنا ہے کہ نئی تحقیق سے اس بات کے مضبوط شواہد ملے ہیں کہ دریافت ہونے والی قبر انہی تاریخی طاعون مدافن میں سے ایک ہے۔