LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاک روس مال بردار ریل سروس منصوبے پر کام جاری ہے: روسی سفیر سٹیٹ بینک کی ششماہی زری پالیسی رپورٹ جاری، معاشی نمو 4.5 فیصد تک رہنے کی پیشگوئی روس کے شہر نزنی کامسک میں ڈرون حملے، بچے سمیت 13 افراد ہلاک، 39 زخمی اسرائیل مکہ دفاعی معاہدے پر پریشان، خطرناک پیش رفت قرار دے دیا روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں جولائی کے دوران 28 کروڑ 20 لاکھ ڈالر موصول امریکا ایران مذاکرات میں غیر یقینی صورتحال، عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا ہوگیا مری کے مال روڈ پر 16 اگست تک دفعہ 144 نافذ، نوٹیفکیشن جاری کولمبیا میں 7.4 شدت کا زلزلہ، بڑے پیمانے پر تباہی، درجنوں ہلاکتیں اسحاق ڈار کا ایرانی وزیر خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر اہم تبادلہ خیال نئی دہلی کے بعد رانچی میں بھی طلبا پر بھارتی پولیس کا بدترین لاٹھی چارج امریکا کا ایرانی جزیرے خارگ سے تیل کی ترسیل مکمل رکنے کا دعویٰ بانی سے ملاقات نہ کرائی گئی تو سپریم کورٹ کے سامنے دھرنا دیں گے: سہیل آفریدی آزاد کشمیر الیکشن میں دھاندلی کیخلاف خاموش نہیں بیٹھیں گے: پلوشہ خان کا دو ٹوک اعلان اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال جعلی ویڈیو کیس: عظمیٰ بخاری کی ویڈیو لنک پر بیان ریکارڈ کرانے کی درخواست خارج

محمود احمدی نژاد اسرائیل کے رجیم چینج کے منصوبے کا حصہ تھے: امریکی اخبار کا دعویٰ

Web Desk

14 July 2026

امریکی اخبار “نیویارک ٹائمز” نے ایک انتہائی سنسنی خیز رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد ایران میں اسرائیل کے مقتدرہ تبدیلی (رجیم چینج) کے خفیہ منصوبے کا حصہ تھے۔ امریکی حکام اور دیگر باوثوق ذرائع کے حوالے سے شائع کردہ رپورٹ کے مطابق، اسرائیل نے ایران میں حکومت تبدیل کرنے کے کئی سالہ طویل منصوبے کے تحت احمدی نژاد کو دوبارہ اقتدار میں لانے کی بھرپور کوششیں کیں، حالانکہ سابق صدر کے طور پر ان کی عالمی شہرت ہمیشہ ایک کٹر اسرائیل مخالف اور ہولوکاسٹ کا انکار کرنے والے سخت گیر ایرانی رہنما کی رہی ہے۔ محمود احمدی نژاد 2005 سے 2013 تک ایران کے صدر رہے اور اپنے دورِ اقتدار میں انہوں نے امریکہ اور اسرائیل پر شدید ترین تنقید کی اور ایران کے جوہری پروگرام کو بھی تیزی سے آگے بڑھایا، تاہم رپورٹ کے مطابق پسِ پردہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی ‘موساد’ کے سربراہ ڈیوڈ برنیا خود احمدی نژاد کو دوبارہ اقتدار دلانے کی اس خفیہ مہم کی نگرانی کر رہے تھے۔

اخبار نے انکشاف کیا کہ اس مہم کے سلسلے میں ہنگری نے احمدی نژاد کو سال 2024 میں بڈاپسٹ میں منعقدہ موسمیاتی کانفرنس میں شرکت کی خصوصی دعوت دی تاکہ موساد کے سربراہ کو ان سے براہِ راست ملاقات کا موقع فراہم کیا جا سکے۔ کانفرنس کے دوران موساد کے چیف ڈیوڈ برنیا نے احمدی نژاد سے خفیہ ملاقات کی، جس کے دوران اسرائیلی حکام نے سابق ایرانی صدر کے سفر اور رہائش کے تمام اخراجات بھی خود ادا کیے۔ اس کے علاوہ بھی اسرائیلی انٹیلیجنس اہلکاروں نے بیرونِ ملک مختلف مقامات پر احمدی نژاد سے کئی ملاقاتیں کیں، اور فروری کے مہینے میں امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر انہیں ایران میں نظر بندی سے آزاد کرانے کی کوشش بھی کی تھی۔ دوسری جانب، اسرائیلی اخبار “ہارٹز” کی ایک الگ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مقتدرہ تبدیلی کا یہ خفیہ موساد منصوبہ بنیادی طور پر سال 2022 میں شروع کیا گیا تھا، جو 7 اکتوبر 2023 کے واقعات اور غزہ جنگ کے باعث کچھ عرصے کے لیے تعطل کا شکار ضرور ہوا، لیکن بعد ازاں غزہ جنگ کے عروج کے دوران اس منصوبے پر کام مزید تیز کر دیا گیا۔