LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان اور جنوبی افریقہ ویمنز انڈر 19 کا پہلا ٹی 20 میچ آج ہوگا شہداء کی قربانیوں کو تنخواہ سے جوڑنا سیاسی تنقید نہیں بلکہ اخلاقی بے حسی ہےخواجہ آصف ایران کے بحرین میں ففتھ فلیٹ، اماراتی ٹینکروں، امریکی بحری جہاز پر حملے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمہ کیلئے ایران سے معاہدہ اب بھی ممکن ہے: ٹرمپ پاکستان کی سعودی عرب پر حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت انٹرنل ریونیو سروس کیخلاف مقدمے میں ٹرمپ کی نمائندگی کرنیوالے وکلا کو سزائیں سنادی گئیں امریکا کو آبنائے ہرمز پر ٹیکس یا فیس عائد کرنے کا اختیار نہیں: مارک ویلر ایران، امریکا کے درمیان جنگ بندی ختم ، مذاکرات کا راستہ اب بھی کھلا ہے: میڈیا رپورٹ امریکی فوج کے ایران پر تیسرے روز بھی فضائی حملے، کئی شہروں میں دھماکے خواجہ محمد آصف نے فضل الرحمان کے بیان کو اخلاقی بے حسی قرار دیدیا امریکی بحری جہاز کو کروز میزائلوں سے نشانہ بنایا: ایران امریکی فوج نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی تصدیق کر دی محمود احمدی نژاد اسرائیل کے رجیم چینج کے منصوبے کا حصہ تھے: امریکی اخبار کا دعویٰ عون چودھری کا فضل الرحمان سے شہدا کے لواحقین اور پوری قوم سے معافی مانگنے کا مطالبہ قومی اتحاد، یکجہتی، اداروں کا احترام ملکی استحکام کیلئے ناگزیر ہے: سپیکر پنجاب اسمبلی

محمود احمدی نژاد اسرائیل کے رجیم چینج کے منصوبے کا حصہ تھے: امریکی اخبار کا دعویٰ

Web Desk

14 July 2026

امریکی اخبار “نیویارک ٹائمز” نے ایک انتہائی سنسنی خیز رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد ایران میں اسرائیل کے مقتدرہ تبدیلی (رجیم چینج) کے خفیہ منصوبے کا حصہ تھے۔ امریکی حکام اور دیگر باوثوق ذرائع کے حوالے سے شائع کردہ رپورٹ کے مطابق، اسرائیل نے ایران میں حکومت تبدیل کرنے کے کئی سالہ طویل منصوبے کے تحت احمدی نژاد کو دوبارہ اقتدار میں لانے کی بھرپور کوششیں کیں، حالانکہ سابق صدر کے طور پر ان کی عالمی شہرت ہمیشہ ایک کٹر اسرائیل مخالف اور ہولوکاسٹ کا انکار کرنے والے سخت گیر ایرانی رہنما کی رہی ہے۔ محمود احمدی نژاد 2005 سے 2013 تک ایران کے صدر رہے اور اپنے دورِ اقتدار میں انہوں نے امریکہ اور اسرائیل پر شدید ترین تنقید کی اور ایران کے جوہری پروگرام کو بھی تیزی سے آگے بڑھایا، تاہم رپورٹ کے مطابق پسِ پردہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی ‘موساد’ کے سربراہ ڈیوڈ برنیا خود احمدی نژاد کو دوبارہ اقتدار دلانے کی اس خفیہ مہم کی نگرانی کر رہے تھے۔

اخبار نے انکشاف کیا کہ اس مہم کے سلسلے میں ہنگری نے احمدی نژاد کو سال 2024 میں بڈاپسٹ میں منعقدہ موسمیاتی کانفرنس میں شرکت کی خصوصی دعوت دی تاکہ موساد کے سربراہ کو ان سے براہِ راست ملاقات کا موقع فراہم کیا جا سکے۔ کانفرنس کے دوران موساد کے چیف ڈیوڈ برنیا نے احمدی نژاد سے خفیہ ملاقات کی، جس کے دوران اسرائیلی حکام نے سابق ایرانی صدر کے سفر اور رہائش کے تمام اخراجات بھی خود ادا کیے۔ اس کے علاوہ بھی اسرائیلی انٹیلیجنس اہلکاروں نے بیرونِ ملک مختلف مقامات پر احمدی نژاد سے کئی ملاقاتیں کیں، اور فروری کے مہینے میں امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر انہیں ایران میں نظر بندی سے آزاد کرانے کی کوشش بھی کی تھی۔ دوسری جانب، اسرائیلی اخبار “ہارٹز” کی ایک الگ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مقتدرہ تبدیلی کا یہ خفیہ موساد منصوبہ بنیادی طور پر سال 2022 میں شروع کیا گیا تھا، جو 7 اکتوبر 2023 کے واقعات اور غزہ جنگ کے باعث کچھ عرصے کے لیے تعطل کا شکار ضرور ہوا، لیکن بعد ازاں غزہ جنگ کے عروج کے دوران اس منصوبے پر کام مزید تیز کر دیا گیا۔