LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی فوج نے آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صاف کر دیں: صدر ٹرمپ کا دعویٰ امریکی فوجی اڈوں کی منتقلی کیلئے بغداد اور واشنگٹن میں رابطے جاری میر رضا قتل کیس: مقتول کے معدے سے تیزاب کی موجودگی کے شواہد مل گئے امریکا سفارت کاری میں ناکامی کے بعد پابندیوں کا سہارا لیتا ہے: اسماعیل بقائی عمان میں پھنسے آئل ٹینکر سے خام تیل کا اخراج بدستور جاری امریکا سمجھ چکا آبنائے ہرمز فوجی طاقت سے نہیں کھلے گا: ایران کولمبیا میں شدید زلزلے کے بعد آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری،77 افراد ہلاک، درجنوں عمارتیں منہدم حکومت کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان روس جیسے وسیع ملک میں علاقوں کا آبادی سے خالی ہونا ناقابل قبول ہے: صدر پوتن حکومت بانی پی ٹی آئی کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی: احسن اقبال شمالی وزیرستان میں رات کے اوقات میں عوامی نقل و حرکت پر پابندی عائد ٹرمپ کا ایران سے جنگی نقصانات کا معاوضہ مانگنے کا اعلان محمد علی ملک سٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر مقرر، وزارت خزانہ کا نوٹیفکیشن جاری آزاد کشمیر انتخابات: ایل اے 14 غربی باغ میں بڑا اپ سیٹ، ساجد اقبال کی سردار عتیق کو شکست سپریم لیڈر نے ایران کی مسلح افواج میں اعلیٰ فوجی کمانڈروں کی تقرریاں کردیں

پاک روس مال بردار ریل سروس منصوبے پر کام جاری ہے: روسی سفیر

Web Desk

10 August 2026

پاکستان میں تعینات روسی سفیر البرٹ خوریف (Albert Khorev) نے انکشاف کیا ہے کہ روس اور پاکستان دونوں ممالک کے درمیان تجارتی روابط کو فروغ دینے کے لیے ماسکو سے فیصل آباد اور ماسکو سے کراچی کے راستوں پر پہلی ڈائریکٹ مال بردار (فریٹ) ریل سروس شروع کرنے کے اہم منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اس مجوزہ راہداری میں بیلاروس کی شمولیت کے امکان پر بھی پیش رفت کی جا رہی ہے۔

روسی اخبار ‘ازویستیا’ (Izvestia) کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سفیر البرٹ خوریف نے بتایا کہ خطے میں پیش آنے والی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے باعث 2025 اور 2026 کے اوائل میں اس بین الاقوامی ریل منصوبے پر عمل درآمد کو چند مرتبہ مؤخر کرنا پڑا۔ تاہم، اب دونوں ممالک اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پرعزم ہیں۔

روسی سفیر کے مطابق اس وقت اسلام آباد اور ماسکو مال برداری کی خدمات سے متعلق باہمی معاہدے کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں، جبکہ اس روٹ میں شامل ملکوں کی ان نجی اور سرکاری کمپنیوں کی نشاندہی کا عمل بھی جاری ہے جو اس ریل راہداری کے ذریعے اپنے تجارتی سامان کی ترسیل میں دلچسپی رکھتی ہیں۔

البرٹ خوریف نے مزید کہا کہ اس منصوبے کا بنیادی مقصد روس کے دارالحکومت ماسکو اور پاکستان کے صنعتی و تجارتی مراکز فیصل آباد اور کراچی کے درمیان براہِ راست اور سستا ریل رابطہ قائم کرنا ہے، جبکہ بیلاروس کی اس میں شمولیت سے اس لاجسٹک کوریڈور کی افادیت مزید بڑھ جائے گی۔ دونوں جانب سے ضروری تجارتی، انتظامی اور ٹیکنیکل امور کو جلد از جلد حل کرنے کے لیے مسلسل گفتگو جاری ہے۔