LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی فوج نے آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صاف کر دیں: صدر ٹرمپ کا دعویٰ امریکی فوجی اڈوں کی منتقلی کیلئے بغداد اور واشنگٹن میں رابطے جاری میر رضا قتل کیس: مقتول کے معدے سے تیزاب کی موجودگی کے شواہد مل گئے امریکا سفارت کاری میں ناکامی کے بعد پابندیوں کا سہارا لیتا ہے: اسماعیل بقائی عمان میں پھنسے آئل ٹینکر سے خام تیل کا اخراج بدستور جاری امریکا سمجھ چکا آبنائے ہرمز فوجی طاقت سے نہیں کھلے گا: ایران کولمبیا میں شدید زلزلے کے بعد آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری،77 افراد ہلاک، درجنوں عمارتیں منہدم حکومت کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان روس جیسے وسیع ملک میں علاقوں کا آبادی سے خالی ہونا ناقابل قبول ہے: صدر پوتن حکومت بانی پی ٹی آئی کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی: احسن اقبال شمالی وزیرستان میں رات کے اوقات میں عوامی نقل و حرکت پر پابندی عائد ٹرمپ کا ایران سے جنگی نقصانات کا معاوضہ مانگنے کا اعلان محمد علی ملک سٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر مقرر، وزارت خزانہ کا نوٹیفکیشن جاری آزاد کشمیر انتخابات: ایل اے 14 غربی باغ میں بڑا اپ سیٹ، ساجد اقبال کی سردار عتیق کو شکست سپریم لیڈر نے ایران کی مسلح افواج میں اعلیٰ فوجی کمانڈروں کی تقرریاں کردیں

اسرائیل مکہ دفاعی معاہدے پر پریشان، خطرناک پیش رفت قرار دے دیا

Web Desk

10 August 2026

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے تاریخی ‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے’ پر اسرائیلی حکومت کی جانب سے شدید تشویش اور بے چینی کا اظہار کیا گیا ہے۔

اسرائیلی وزیر برائے امورِ تارکینِ وطن نے تینوں اہم اسلامی ممالک کے مابین اس پیش رفت کو اسرائیل کی سیکیورٹی کے لیے انتہائی خطرناک اور پریشان کن قرار دیا ہے۔ اسرائیلی وزیر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مکہ دفاعی معاہدہ خطے کی جیو پولیٹیکل صورتحال میں ایک انتہائی سنگین اور تشویشناک موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان پہلے سے ہی قریبی دفاعی و اسٹریٹجک تعلقات قائم ہیں، تاہم اب اس اتحاد اور بلاک میں ترکیہ بھی شامل ہو گیا ہے، جس کے اسرائیل کے ساتھ کئی اہم سفارتی و علاقائی معاملات پر پہلے ہی براہِ راست اختلافات اور تنازعات موجود ہیں۔

اسرائیلی وزیر نے انتباہی انداز میں کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ جیسے عسکری اور معاشی لحاظ سے اہم ممالک کے درمیان اس نوعیت کے بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون کے اسرائیل کے لیے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان تینوں طاقتور ممالک کا باہمی ملٹری اور اسٹریٹجک اشتراکِ عمل مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی مجموعی سیکیورٹی اور طاقت کے توازن پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔