LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی مغرب میں جمہوریت اور مشرق میں کمیونزم ناکام، حل اسلامی نظام میں ہے: مولانا فضل الرحمٰن وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا تاریخی ٹیلیفونک رابطہ وزیراعظم نے کفایت شعاری اقدامات میں توسیع کی منظوری دے دی فیلڈ مارشل سے گھانا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کی ملاقات، عسکری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیر اعظم شہباز شریف نے دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ کردیا سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست سننے والا سنگل بنچ تحلیل اسحاق ڈار سے بحرینی ہم منصب کا رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال جنگ سے بہتر بات چیت ہوتی ہے: بلاول بھٹو زرداری اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات امریکا ایران مفاہمت کا خیر مقدم، پاکستان نے تاریخی کردار ادا کیا: صدر آصف زرداری پنجاب میں ذاتی جہاز کے لیے پیسے ہیں بنیادی ضروریات کے لیے نہیں ہیں,شہریار آفریدی بانی پی ٹی آئی کی شفا اسپتال منتقلی اور معالج تک رسائی کا کیس وکالت نامہ نہ ہونےسماعت ملتوی ملاقاتوں پر پابندی:سپریم کورٹ کا ہوم سیکریٹری پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری

مجھے اغوا کیا گیا، اب بھی وینزویلا کا صدر ہوں ،  مادورو کا امریکی عدالت میں الزامات تسلیم کرنے سے انکار

Web Desk

5 January 2026

وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے امریکی وفاقی عدالت میں منشیات اسمگلنگ اور دہشت گردی سمیت دیگر الزامات تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایک اچھے اور مہذب انسان ہیں اور انہیں اغوا کر کے امریکا لایا گیا ہے۔

مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو بروکلن سے بذریعہ ہیلی کاپٹر مین ہیٹن منتقل کیا گیا، جہاں سے انہیں ایک بکتر بند گاڑی میں عدالت لایا گیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق مادورو کو قیدیوں کا یونیفارم پہنایا گیا اور ہتھکڑیوں میں جکڑ کر عدالت میں پیش کیا گیا، جبکہ عدالتی کارروائی کو ہسپانوی زبان میں سمجھنے کے لیے انہوں نے ہیڈفون بھی پہن رکھے تھے۔

وفاقی عدالت کے جج نے جب مادورو سے شناخت پوچھی تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ وینزویلا کے صدر ہیں۔ اس پر جج نے ان کے خلاف منشیات اور دہشت گردی سے متعلق الزامات پڑھ کر سنائے، تاہم مادورو نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ
’’میں بے گناہ ہوں، اب بھی اپنے ملک کا صدر ہوں، یہاں جن باتوں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں سے کسی کا بھی میں قصوروار نہیں، مجھے اغوا کیا گیا ہے‘‘۔

عدالت میں سماعت کے دوران فضا اس وقت کشیدہ ہو گئی جب مادورو نے خود کو ’’جنگی قیدی‘‘ قرار دیا، جبکہ ایک موقع پر عدالت میں موجود ایک شخص سے ان کا جملوں کا سخت تبادلہ بھی ہوا۔

مادورو کی اہلیہ سیلیا فلوریس نے بھی عدالت میں اپنی بے گناہی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ کسی جرم میں ملوث نہیں ہیں۔

جج نے مقدمے میں طویل تاریخ دیتے ہوئے مادورو اور ان کی اہلیہ کو 17 مارچ کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

دوسری جانب عدالت کے باہر مظاہرین کی بڑی تعداد جمع رہی۔ بعض مظاہرین نے ’’USA Hands-off Venezuela‘‘ جبکہ کچھ نے ’’Thank You President Trump‘‘ کی تحریر والے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔

ادھر وینزویلا میں ڈیلسی رودریگز نے بطور عبوری صدر حلف اٹھاتے ہوئے نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو قومی ہیرو قرار دیا اور کہا کہ وہ ملک کی خودمختاری کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔

خیال رہے کہ نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو ہفتے کے روز وینزویلا میں ایک امریکی فوجی آپریشن کے دوران حراست میں لیا گیا تھا، جس کے بعد اتوار کے روز دونوں کو امریکا منتقل کر کے نیویارک کی ایک جیل میں رکھا گیا۔