LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا دورہ پاکستان منسوخ، وائٹ ہاؤس نے تصدیق کردی ایران نے مذاکرات کے حوالے سے امریکہ کی  شرائط مسترد کردیں: ایرانی سرکاری میڈیا جنگ بندی میں توسیع پر صدر ٹرمپ کا شکریہ، پاکستان کا سفارتی عمل جاری رکھنے کا اعلان صدر ٹرمپ نے امریکا ایران جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کردیا آبنائے ہرمز میں پھنسے ہزاروں ملاحوں کے لیے اقوام متحدہ کی مدد کی اپیل مذاکراتی ٹیم سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات کے مطابق چل رہی ہے: ایران ایران کے ساتھ جھوٹے وعدے کیے گئے، روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف عمران خان کی بہنیں آج بھی ملاقات کیے بغیر واپس لوٹ گئیں ایران-امریکا مذاکرات: ایران کا جواب نہیں آیا، امریکی نائب صدر کا دورہ پاکستان مؤخر مذاکرات کے لیے وفد اسلام آبادبھیجنے کاابھی تک فیصلہ نہیں کیا، ایرانی وزارت خارجہ جنگ بندی میں توسیع نہیں چاہتا،ایران کے معاملے میں جلدبازی سے فیصلہ نہیں کروں گا، ٹرمپ امریکاوایران جنگ میں توسیع پر غورکریں، سفارتکاری کو موقع دیں، اسحاق ڈار ایران کی جانب سے امن مذاکرات میں شرکت کےلیے تصدیق کا انتظارہے، عطاتارڑ پاک بحریہ کا فضا سے سطح سمندر پر مار کرنے والے تیمور کروز میزائل کا کامیاب تجربہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں میں تیزی کیلئے نیا نظام منظور

مجھے اغوا کیا گیا، اب بھی وینزویلا کا صدر ہوں ،  مادورو کا امریکی عدالت میں الزامات تسلیم کرنے سے انکار

Web Desk

5 January 2026

وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے امریکی وفاقی عدالت میں منشیات اسمگلنگ اور دہشت گردی سمیت دیگر الزامات تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایک اچھے اور مہذب انسان ہیں اور انہیں اغوا کر کے امریکا لایا گیا ہے۔

مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو بروکلن سے بذریعہ ہیلی کاپٹر مین ہیٹن منتقل کیا گیا، جہاں سے انہیں ایک بکتر بند گاڑی میں عدالت لایا گیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق مادورو کو قیدیوں کا یونیفارم پہنایا گیا اور ہتھکڑیوں میں جکڑ کر عدالت میں پیش کیا گیا، جبکہ عدالتی کارروائی کو ہسپانوی زبان میں سمجھنے کے لیے انہوں نے ہیڈفون بھی پہن رکھے تھے۔

وفاقی عدالت کے جج نے جب مادورو سے شناخت پوچھی تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ وینزویلا کے صدر ہیں۔ اس پر جج نے ان کے خلاف منشیات اور دہشت گردی سے متعلق الزامات پڑھ کر سنائے، تاہم مادورو نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ
’’میں بے گناہ ہوں، اب بھی اپنے ملک کا صدر ہوں، یہاں جن باتوں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں سے کسی کا بھی میں قصوروار نہیں، مجھے اغوا کیا گیا ہے‘‘۔

عدالت میں سماعت کے دوران فضا اس وقت کشیدہ ہو گئی جب مادورو نے خود کو ’’جنگی قیدی‘‘ قرار دیا، جبکہ ایک موقع پر عدالت میں موجود ایک شخص سے ان کا جملوں کا سخت تبادلہ بھی ہوا۔

مادورو کی اہلیہ سیلیا فلوریس نے بھی عدالت میں اپنی بے گناہی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ کسی جرم میں ملوث نہیں ہیں۔

جج نے مقدمے میں طویل تاریخ دیتے ہوئے مادورو اور ان کی اہلیہ کو 17 مارچ کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

دوسری جانب عدالت کے باہر مظاہرین کی بڑی تعداد جمع رہی۔ بعض مظاہرین نے ’’USA Hands-off Venezuela‘‘ جبکہ کچھ نے ’’Thank You President Trump‘‘ کی تحریر والے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔

ادھر وینزویلا میں ڈیلسی رودریگز نے بطور عبوری صدر حلف اٹھاتے ہوئے نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو قومی ہیرو قرار دیا اور کہا کہ وہ ملک کی خودمختاری کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔

خیال رہے کہ نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو ہفتے کے روز وینزویلا میں ایک امریکی فوجی آپریشن کے دوران حراست میں لیا گیا تھا، جس کے بعد اتوار کے روز دونوں کو امریکا منتقل کر کے نیویارک کی ایک جیل میں رکھا گیا۔