LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی عباس عراقچی سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال اسلام آباد ہائیکورٹ: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو طبی سہولیات، اخبارات اور کتابیں فراہم کرنے کی ہدایت اسلام آباد ہائیکورٹ: جیل حکام کو بانی پی ٹی آئی کی بشریٰ بی بی، اہلخانہ سے ملاقات اور بیٹوں سے ٹیلی فون پر بات کرانے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی جیل قیدِ تنہائی کیخلاف درخواستیں قابلِ سماعت قرار عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ یورپی یونین واشنگٹن کے غیر قانونی اقدامات میں شریک بن چکی ہے: اسماعیل بقائی ایران تیل و گیس کی ترسیل میں خلل ڈالنے کیلئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہے: جے ڈی وینس آبنائے ہرمز سے گزرنے والے سعودی آئل ٹینکر کو روک لیا گیا: ایرانی میڈیا وزیراعظم شہباز شریف کی شنگھائی تعاون تنظیم سربراہان مملکت کے اجلاس میں شرکت صدر مملکت آصف علی زرداری ویانا سے لندن پہنچ گئے امریکی فوج کے سیکرٹری ڈین ڈرسکول مستعفی ایران کی حملوں کیلئے سرزمین دینے والے ممالک کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی ایران کا امریکا کے کسی بھی حملے کا جواب کئی گنا زیادہ شدت سے دینے کا اعلان ٹرمپ آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ بنانے کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتے: ابوفضل شکارچی ترکیہ نے اسرائیلی وزیراعظم کو دنیا کی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیدیا

مجھے اغوا کیا گیا، اب بھی وینزویلا کا صدر ہوں ،  مادورو کا امریکی عدالت میں الزامات تسلیم کرنے سے انکار

Web Desk

5 January 2026

وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے امریکی وفاقی عدالت میں منشیات اسمگلنگ اور دہشت گردی سمیت دیگر الزامات تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایک اچھے اور مہذب انسان ہیں اور انہیں اغوا کر کے امریکا لایا گیا ہے۔

مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو بروکلن سے بذریعہ ہیلی کاپٹر مین ہیٹن منتقل کیا گیا، جہاں سے انہیں ایک بکتر بند گاڑی میں عدالت لایا گیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق مادورو کو قیدیوں کا یونیفارم پہنایا گیا اور ہتھکڑیوں میں جکڑ کر عدالت میں پیش کیا گیا، جبکہ عدالتی کارروائی کو ہسپانوی زبان میں سمجھنے کے لیے انہوں نے ہیڈفون بھی پہن رکھے تھے۔

وفاقی عدالت کے جج نے جب مادورو سے شناخت پوچھی تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ وینزویلا کے صدر ہیں۔ اس پر جج نے ان کے خلاف منشیات اور دہشت گردی سے متعلق الزامات پڑھ کر سنائے، تاہم مادورو نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ
’’میں بے گناہ ہوں، اب بھی اپنے ملک کا صدر ہوں، یہاں جن باتوں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں سے کسی کا بھی میں قصوروار نہیں، مجھے اغوا کیا گیا ہے‘‘۔

عدالت میں سماعت کے دوران فضا اس وقت کشیدہ ہو گئی جب مادورو نے خود کو ’’جنگی قیدی‘‘ قرار دیا، جبکہ ایک موقع پر عدالت میں موجود ایک شخص سے ان کا جملوں کا سخت تبادلہ بھی ہوا۔

مادورو کی اہلیہ سیلیا فلوریس نے بھی عدالت میں اپنی بے گناہی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ کسی جرم میں ملوث نہیں ہیں۔

جج نے مقدمے میں طویل تاریخ دیتے ہوئے مادورو اور ان کی اہلیہ کو 17 مارچ کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

دوسری جانب عدالت کے باہر مظاہرین کی بڑی تعداد جمع رہی۔ بعض مظاہرین نے ’’USA Hands-off Venezuela‘‘ جبکہ کچھ نے ’’Thank You President Trump‘‘ کی تحریر والے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔

ادھر وینزویلا میں ڈیلسی رودریگز نے بطور عبوری صدر حلف اٹھاتے ہوئے نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو قومی ہیرو قرار دیا اور کہا کہ وہ ملک کی خودمختاری کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔

خیال رہے کہ نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو ہفتے کے روز وینزویلا میں ایک امریکی فوجی آپریشن کے دوران حراست میں لیا گیا تھا، جس کے بعد اتوار کے روز دونوں کو امریکا منتقل کر کے نیویارک کی ایک جیل میں رکھا گیا۔