LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق خبریں تشویشناک,اہم پریس کانفرنس مسلم لیگ (ن) دو تہائی اکثریت سے آزاد کشمیر میں حکومت بنائے گی: رانا ثناء اللہ پیپلز پارٹی کے رہنما عبدالقادر پٹیل کے مرکزی دفتر پر فائرنگ، ملزمان فرار حج 2027 کا پورا عمل ڈیجیٹل، 4 لاکھ رجسٹرڈ عازمین درخواستیں دے سکیں گے امریکی سکیورٹی گارنٹی ناقابل اعتبار ہونے پر مکہ دفاعی معاہدہ ہوا: ایران جولائی میں ترسیلاتِ زر 13 فیصد بڑھ گئیں، وزیراعظم کا اظہار اطمینان اسلام آباد ہائیکورٹ: ججز تعیناتی کی سمری منظور نہ ہونے پر صدر، وزیراعظم کو نوٹس ایران کو فوجی دباؤ سے زیادہ امریکی اقتصادی پابندیوں کی فکر ہے: امریکا اسحاق ڈار کا کویتی ہم منصب سے رابطہ، مکہ دفاعی معاہدے پر تبادلہ خیال ملک بھر کے بجلی صارفین پر مزید 23 ارب روپے کا بوجھ منتقل کرنے کی تیاری مریم نواز سے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس پاکستان کے وفد کی ملاقات، جدید نصاب کے فروغ پر تبادلہ خیال آبنائے ہرمز میں پاسدارانِ انقلاب کے حملوں کا سسلہ جاری ہے: برطانیہ شارکس پر جدید سینسرز نصب، سائنسدانوں کا شارک سے انوکھا کام لینا شروع ایران جنگ کے مستقبل پر امریکی کابینہ اور مسلح افواج کے درمیان اختلافات اداکارہ سے مبینہ زیادتی کا الزام، 73 سالہ بھارتی فلم ڈائریکٹر گرفتار

جماعت اسلامی کے دفتر پر حملے میں روسی ساختہ بم استعمال کیا گیا، بم ڈسپوزل یونٹ کی رپورٹ

Web Desk

15 July 2026

کراچی کے علاقے لیاری کی پھول پتی لین میں جماعت اسلامی کے زیرِ تعمیر دفتر پر ہونے والے دستی بم حملے کے بعد بم ڈسپوزل یونٹ (بی ڈی یو) نے جائے وقوعہ کا تفصیلی معائنہ مکمل کر کے اپنی ابتدائی رپورٹ مرتب کر لی ہے۔ بی ڈی یو کی رپورٹ کے مطابق، اس حملے میں روسی ساختہ ‘آر جی ڈی ون’ (RGD-1) دستی بم استعمال کیا گیا ہے۔ دھماکے کی جگہ سے پولیس اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کو بم کا لیور اور اس کی باڈی کے تقریباً 20 چھوٹے بڑے ٹکڑے ملے ہیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ دھماکے کی شدت سے زمین پر 3 انچ گہرا اور 8 انچ چوڑا گڑھا بن گیا، جبکہ لیاری میں ماضی میں ہونے والے دستی بم حملوں میں بھی 60 سے 70 فیصد تک روسی ساختہ بم ہی استعمال کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب، امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے سول ہسپتال کا دورہ کیا اور دھماکے میں زخمی ہونے والے جماعت کے تینوں کارکنوں کی عیادت کی۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے منعم ظفر نے حملے کی شدید مذمت کی اور اسے بدترین دہشت گردی قرار دیا۔ انہوں نے صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لیاری جیسے انتہائی گنجان آباد علاقے میں دن دہاڑے حملہ کر کے دہشت گردوں کا باآسانی فرار ہو جانا پولیس کی کارکردگی اور سیکیورٹی انتظامات پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ کراچی اور سندھ بھر میں بڑھتی ہوئی لاقانونیت اور بدامنی نے شہریوں کی زندگیوں کو داؤ پر لگا دیا ہے۔”

منعم ظفر نے عزم ظاہر کیا کہ لیاری کے عوام نے جس طرح جماعت اسلامی پر اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے، اس سے مخالفین شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس طرح کے بزدلانہ ہتھکنڈوں سے جماعت اسلامی کے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے اور پارٹی کی ’حق دو لیاری کو‘ مہم اور ’بدل دو نظام‘ تحریک ہر صورت پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی۔