LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
حکومت نے ٹی ٹی ایس فیکلٹی کی تنخواہوں میں 35 فیصد اضافے کی منظوری دیدی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کل 2 روزہ دورے پر چین روانہ ہوں گے عمان کے ساحل کے قریب حملے کا شکار جہاز سے لاپتا بھارتی انجینئر کی لاش مل گئی بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر انتخابی مہم کا شیڈول جاری کر دیا آزاد کشمیر بحران؛ بلاول بھٹو کا جے کے جے اے اے سی کو خط، دھرنے معطل کرنے کی اپیل گھڑیاں آگے پیچھے کرنے کا جھنجھٹ ختم؛ امریکی ایوانِ نمائندگان میں سال بھر ’ڈے لائٹ سیونگ ٹائم‘ مستقل کرنے کا بل منظور رواں سال کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور ترقی کا سال ہوگا: وزیراعظم وفاقی آئینی عدالت نے سندھ پبلک سروس کمیشن کیخلاف انکوائری کا حکم معطل کر دیا آئی ایم ایف نے پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں اضافے کا خدشہ ظاہر کر دیا شہدا کی توہین ناقابلِ قبول، مولانا فضل الرحمان قوم سے معافی مانگیں: سپیکر پنجاب اسمبلی شہدأ کی توہین ناقابل برداشت ہے، فوجی جوانوں اور اہلخانہ سے معذرت کرتا ہوں، طاہر اشرفی امریکی حملوں میں 30 سے زائد شہری اور 7 فوجی شہید، ایران کا بھرپور جواب دینے کا اعلان پنک سالٹ ویلیو ایڈیشن فنانسنگ سکیم کا آغاز، پروسیسنگ زون قائم کرنے کا اعلان بڑھتی آبادی ملک کو درپیش بڑا چیلنج، بروقت اقدامات ناگزیر ہیں: وزیر خزانہ وزیراعظم کی این ڈی ایم اے کو مون سون میں صوبوں کیساتھ بہتر روابط کی ہدایت

جماعت اسلامی کے دفتر پر حملے میں روسی ساختہ بم استعمال کیا گیا، بم ڈسپوزل یونٹ کی رپورٹ

Web Desk

15 July 2026

کراچی کے علاقے لیاری کی پھول پتی لین میں جماعت اسلامی کے زیرِ تعمیر دفتر پر ہونے والے دستی بم حملے کے بعد بم ڈسپوزل یونٹ (بی ڈی یو) نے جائے وقوعہ کا تفصیلی معائنہ مکمل کر کے اپنی ابتدائی رپورٹ مرتب کر لی ہے۔ بی ڈی یو کی رپورٹ کے مطابق، اس حملے میں روسی ساختہ ‘آر جی ڈی ون’ (RGD-1) دستی بم استعمال کیا گیا ہے۔ دھماکے کی جگہ سے پولیس اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کو بم کا لیور اور اس کی باڈی کے تقریباً 20 چھوٹے بڑے ٹکڑے ملے ہیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ دھماکے کی شدت سے زمین پر 3 انچ گہرا اور 8 انچ چوڑا گڑھا بن گیا، جبکہ لیاری میں ماضی میں ہونے والے دستی بم حملوں میں بھی 60 سے 70 فیصد تک روسی ساختہ بم ہی استعمال کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب، امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے سول ہسپتال کا دورہ کیا اور دھماکے میں زخمی ہونے والے جماعت کے تینوں کارکنوں کی عیادت کی۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے منعم ظفر نے حملے کی شدید مذمت کی اور اسے بدترین دہشت گردی قرار دیا۔ انہوں نے صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لیاری جیسے انتہائی گنجان آباد علاقے میں دن دہاڑے حملہ کر کے دہشت گردوں کا باآسانی فرار ہو جانا پولیس کی کارکردگی اور سیکیورٹی انتظامات پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ کراچی اور سندھ بھر میں بڑھتی ہوئی لاقانونیت اور بدامنی نے شہریوں کی زندگیوں کو داؤ پر لگا دیا ہے۔”

منعم ظفر نے عزم ظاہر کیا کہ لیاری کے عوام نے جس طرح جماعت اسلامی پر اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے، اس سے مخالفین شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس طرح کے بزدلانہ ہتھکنڈوں سے جماعت اسلامی کے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے اور پارٹی کی ’حق دو لیاری کو‘ مہم اور ’بدل دو نظام‘ تحریک ہر صورت پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی۔