LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

شارکس پر جدید سینسرز نصب، سائنسدانوں کا شارک سے انوکھا کام لینا شروع

Web Desk

10 August 2026

فلموں میں شارک مچھلی کو ہمیشہ ایک خونخوار اور خوفناک شکاری کے طور پر دکھایا جاتا ہے، لیکن امریکی سائنسدان اب انہی شارکس کو سمندروں کی تہوں سے اہم معلومات اکٹھی کرنے والے قدرتی ‘ڈیٹا آبزرور’ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ یونیورسٹی آف ڈیلاویئر کی تحقیق کے مطابق، محققین شارکس پر ایسے الیکٹرانک سینسرز (Tags) نصب کر رہے ہیں جو سمندر کے پانی کے درجہ حرارت، نمکیات کی مقدار اور گہرائی کا ریئل ٹائم ڈیٹا ریکارڈ کرتے ہیں۔ یہ متحرک سینسرز جیسے ہی شارک سطحِ آب پر آتی ہے، سیٹلائٹ نیٹ ورک کے ذریعے تمام اہم معلومات سائنسدانوں تک منتقل کر دیتے ہیں، جس سے موسمیاتی اور ماحولیاتی ماڈلنگ میں بڑی پیشرفت کی توقع ہے۔

اس تحقیق کے سربراہ پروفیسر آرون کارلائل اور ان کی ٹیم کے مطابق شمالی بحرِ اوقیانوس (North Atlantic) میں شارٹ فِن ماکو، بلیو شارک، سموتھ ہیمر ہیڈ اور کم عمر گریٹ وائٹ شارک جیسی نسلوں پر یہ سینسرز کامیابی سے لگائے جا رہے ہیں۔ جانوروں کی فلاح و بہبود کا خاص خیال رکھتے ہوئے 5 منٹ سے بھی کم وقت میں ٹیگ نصب کیا جاتا ہے، جو وقت کے ساتھ گل کر خود بخود الگ ہو جاتا ہے۔ سائنسدانوں کو امید ہے کہ اگر یہ منصوبہ مکمل طور پر کامیاب رہتا ہے تو شارکس سے حاصل کردہ ڈیٹا امریکی مشرقی ساحل کی طرف بڑھنے والے خوفناک سمندری طوفانوں اور ہیکینز (Hurricanes) کی شدت کی قبل از وقت درست پیشگوئی کرنے میں انتہائی معاون ثابت ہوگا۔