شارکس پر جدید سینسرز نصب، سائنسدانوں کا شارک سے انوکھا کام لینا شروع
Web Desk
10 August 2026
فلموں میں شارک مچھلی کو ہمیشہ ایک خونخوار اور خوفناک شکاری کے طور پر دکھایا جاتا ہے، لیکن امریکی سائنسدان اب انہی شارکس کو سمندروں کی تہوں سے اہم معلومات اکٹھی کرنے والے قدرتی ‘ڈیٹا آبزرور’ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ یونیورسٹی آف ڈیلاویئر کی تحقیق کے مطابق، محققین شارکس پر ایسے الیکٹرانک سینسرز (Tags) نصب کر رہے ہیں جو سمندر کے پانی کے درجہ حرارت، نمکیات کی مقدار اور گہرائی کا ریئل ٹائم ڈیٹا ریکارڈ کرتے ہیں۔ یہ متحرک سینسرز جیسے ہی شارک سطحِ آب پر آتی ہے، سیٹلائٹ نیٹ ورک کے ذریعے تمام اہم معلومات سائنسدانوں تک منتقل کر دیتے ہیں، جس سے موسمیاتی اور ماحولیاتی ماڈلنگ میں بڑی پیشرفت کی توقع ہے۔
اس تحقیق کے سربراہ پروفیسر آرون کارلائل اور ان کی ٹیم کے مطابق شمالی بحرِ اوقیانوس (North Atlantic) میں شارٹ فِن ماکو، بلیو شارک، سموتھ ہیمر ہیڈ اور کم عمر گریٹ وائٹ شارک جیسی نسلوں پر یہ سینسرز کامیابی سے لگائے جا رہے ہیں۔ جانوروں کی فلاح و بہبود کا خاص خیال رکھتے ہوئے 5 منٹ سے بھی کم وقت میں ٹیگ نصب کیا جاتا ہے، جو وقت کے ساتھ گل کر خود بخود الگ ہو جاتا ہے۔ سائنسدانوں کو امید ہے کہ اگر یہ منصوبہ مکمل طور پر کامیاب رہتا ہے تو شارکس سے حاصل کردہ ڈیٹا امریکی مشرقی ساحل کی طرف بڑھنے والے خوفناک سمندری طوفانوں اور ہیکینز (Hurricanes) کی شدت کی قبل از وقت درست پیشگوئی کرنے میں انتہائی معاون ثابت ہوگا۔
متعلقہ عنوانات
ایران کو فوجی دباؤ سے زیادہ امریکی اقتصادی پابندیوں کی فکر ہے: امریکا
10 August 2026
اسحاق ڈار کا کویتی ہم منصب سے رابطہ، مکہ دفاعی معاہدے پر تبادلہ خیال
10 August 2026
ملک بھر کے بجلی صارفین پر مزید 23 ارب روپے کا بوجھ منتقل کرنے کی تیاری
10 August 2026
مریم نواز سے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس پاکستان کے وفد کی ملاقات، جدید نصاب کے فروغ پر تبادلہ خیال
10 August 2026
گوگل کی کمپیوٹر سے تصاویر بیک اپ کرنے کے طریقے میں اہم تبدیلی
10 August 2026
آبنائے ہرمز میں پاسدارانِ انقلاب کے حملوں کا سسلہ جاری ہے: برطانیہ
10 August 2026
ایران جنگ کے مستقبل پر امریکی کابینہ اور مسلح افواج کے درمیان اختلافات
10 August 2026
گروک کے لئے نیا امیجِن ایمیج 2.0 ماڈل متعارف
10 August 2026