LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پیپلز پارٹی کے رہنما عبدالقادر پٹیل کے مرکزی دفتر پر فائرنگ، ملزمان فرار حج 2027 کا پورا عمل ڈیجیٹل، 4 لاکھ رجسٹرڈ عازمین درخواستیں دے سکیں گے امریکی سکیورٹی گارنٹی ناقابل اعتبار ہونے پر مکہ دفاعی معاہدہ ہوا: ایران جولائی میں ترسیلاتِ زر 13 فیصد بڑھ گئیں، وزیراعظم کا اظہار اطمینان اسلام آباد ہائیکورٹ: ججز تعیناتی کی سمری منظور نہ ہونے پر صدر، وزیراعظم کو نوٹس ایران کو فوجی دباؤ سے زیادہ امریکی اقتصادی پابندیوں کی فکر ہے: امریکا اسحاق ڈار کا کویتی ہم منصب سے رابطہ، مکہ دفاعی معاہدے پر تبادلہ خیال ملک بھر کے بجلی صارفین پر مزید 23 ارب روپے کا بوجھ منتقل کرنے کی تیاری مریم نواز سے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس پاکستان کے وفد کی ملاقات، جدید نصاب کے فروغ پر تبادلہ خیال آبنائے ہرمز میں پاسدارانِ انقلاب کے حملوں کا سسلہ جاری ہے: برطانیہ شارکس پر جدید سینسرز نصب، سائنسدانوں کا شارک سے انوکھا کام لینا شروع ایران جنگ کے مستقبل پر امریکی کابینہ اور مسلح افواج کے درمیان اختلافات اداکارہ سے مبینہ زیادتی کا الزام، 73 سالہ بھارتی فلم ڈائریکٹر گرفتار سینٹ کام کا بحری ناکہ بندی کے دوران مزید 55 تجارتی جہازوں کا رخ موڑنے کا دعویٰ آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتحال، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں

اسلام آباد ہائیکورٹ: ججز تعیناتی کی سمری منظور نہ ہونے پر صدر، وزیراعظم کو نوٹس

Web Desk

10 August 2026

اسلام آباد ہائیکورٹ نے اعلیٰ عدلیہ میں نئے ججز کی تعیناتی سے متعلق سمری کی منظوری التوا میں رہنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم پاکستان کو ان کے سیکرٹریز کے ذریعے کل کے لیے نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔ عدالت نے وزارتِ قانون سے بھی کل تک جواب طلب کر لیا ہے۔

یہ فیصلہ درخواست گزار لقمان ظفر کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر سامنے آیا، جس کی پیروی وکیل زاہد آصف چودھری نے کی۔ سماعت کے دوران جسٹس ارباب محمد طاہر نے وفاقی حکومت کی عدم توجہی پر برہمی ظاہر کرتے ہوئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل راشد حفیظ سے استفسار کیا کہ سمری اس وقت کس اسٹیج پر رکی ہوئی ہے اور حکومت اپنی آئینی ذمہ داری کیوں نہیں نبھا رہی؟

جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ جوڈیشل کمیشن کی منظوری کے باوجود اسلام آباد ہائیکورٹ، سندھ ہائیکورٹ اور پشاور ہائیکورٹ کے ججز کی کنفرمیشن کا معاملہ لٹکا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئینی وقت (15 دن) گزرنے کے بعد اب 18 دن ہو چکے ہیں اور اس طرح سمری پر بلاوجہ التوا اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ وکیل صفائی نے مؤقف اپنایا کہ صدر سمری کو روک کر نہیں بیٹھ سکتے، جبکہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ صدر اب اسے مسترد بھی نہیں کر سکتے۔ عدالت نے وفاقی حکومت کو کل تک پوزیشن واضح کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔