LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نئے صوبوں کا معاملہ قومی مشاورت سے حل ہونا چاہیے: چودھری شجاعت حسین افغانستان پاکستان کیخلاف دہشت گردی کا اہم مرکز بن چکا ہے: واشنگٹن پوسٹ یمن میں حکومتی فورسز اور حوثی جنگجوؤں میں جھڑپوں سے 76 ہزار افراد بے گھر روسی حملوں میں شدت، رواں سال انتہائی مشکل موسم سرما کا سامنا ہو سکتا ہے: یوکرینی حکام ورلڈ الٹیمیٹ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ، ارشد ندیم میڈل کی دوڑ سے باہر 20 ستمبر کا لانگ مارچ ملکی سیاست کا رخ بدل دے گا: حافظ نعیم الرحمٰن ایران کے ساتھ جنگ مڈٹرم انتخابات کے بعد ختم ہوجائے گی: ٹرمپ کا دعویٰ عراق کا ایران کے ساتھ 3 سرحدی گزرگاہوں پر آمدورفت بحال کرنے کا اعلان سعودی آئل پائپ لائن پر ڈرون حملہ، عراقی فورسز نے لانچنگ سائٹ کا سراغ لگا لیا وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کا ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی امن و استحکام پر تبادلہ خیال 28 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کے حقوق پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے: سلمان اکرم راجہ ہرنائی میں پاک فوج کا بروقت ریسکیو آپریشن، 5 کان کن زندہ نکال لیے پٹرولیم لیوی کیخلاف جدوجہد سے حکومت ریلیف دینے پر مجبور ہوئی: حافظ نعیم وزیراعظم کا عوام کیلئے خصوصی پٹرول ریلیف سکیم کا اعلان پٹرولیم مصنوعات پر ریلیف: حکومت اور جماعت اسلامی کے مذاکرات منگل تک موخر

کرایہ سمجھ کر دیا گیا سکّہ دو ہزار سال پرانی تہذیب کا نکلا

Web Desk

11 March 2026

برطانیہ کے شہر لیڈز میں 1950 کی دہائی میں بس کرایہ ادا کرنے کے لیے استعمال ہونے والا ایک عجیب و غریب سکّہ تحقیق کے بعد دو ہزار سال سے بھی زائد قدیم تہذیب سے تعلق رکھنے والا نکلا۔

یہ سکّہ پہلے ایک مقامی بس ڈرائیور کے پاس کرایے کے طور پر آیا، بعد ازاں جیمز ایڈورڈز کے پاس پہنچا، جو لیڈز سٹی ٹرانسپورٹ میں چیف کیشیئر تھے۔ ان کا کام دن بھر جمع ہونے والے کرایوں کی گنتی کرنا اور دن کے اختتام پر رپورٹ دینا تھا۔ چونکہ یہ سکّہ رائج نہیں تھا، اس لیے مسٹر ایڈورڈز نے اسے اپنے گھر لے جا کر اپنے کم عمر پوتے پیٹر کو تحفے میں دیا، جس نے اسے چھوٹے لکڑی کے صندوق میں ستر برس تک محفوظ رکھا۔

بعد ازاں لیڈز یونیورسٹی کے ماہرین آثار قدیمہ نے تحقیق کے بعد بتایا کہ یہ سکّہ فونیقی تہذیب سے تعلق رکھنے والا کارتھی جینینز ہے اور پہلی صدی قبل مسیح میں ہسپانوی شہر قادِز میں ڈھالا گیا تھا۔

77 سالہ پیٹر کے مطابق ان کے دادا اکثر ایسے غیر ملکی سکے جمع کرتے اور انہیں الگ رکھتے، اور جب بھی پیٹر ان کے گھر آتے تو انہیں چند سکے دے دیا کرتے تھے۔