LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
کسی بھی دورے کے دوران مارکیٹیں اور کاروبار بند نہ کئے جائیں، مریم نواز کی حکام کو ہدایت امریکی انتخابات کے نتائج نے امریکا کو تاریخ میں کئی قدم پیچھے دھکیل دیا: ٹرمپ مصر میں مسافر ٹرین حادثہ، متعدد بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، 64 افراد زخمی غزہ میں بارشوں سے 70 ہزار خیمے زیر آب، ساڑھے 3 لاکھ بے گھر افراد متاثر ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم

کرایہ سمجھ کر دیا گیا سکّہ دو ہزار سال پرانی تہذیب کا نکلا

Web Desk

11 March 2026

برطانیہ کے شہر لیڈز میں 1950 کی دہائی میں بس کرایہ ادا کرنے کے لیے استعمال ہونے والا ایک عجیب و غریب سکّہ تحقیق کے بعد دو ہزار سال سے بھی زائد قدیم تہذیب سے تعلق رکھنے والا نکلا۔

یہ سکّہ پہلے ایک مقامی بس ڈرائیور کے پاس کرایے کے طور پر آیا، بعد ازاں جیمز ایڈورڈز کے پاس پہنچا، جو لیڈز سٹی ٹرانسپورٹ میں چیف کیشیئر تھے۔ ان کا کام دن بھر جمع ہونے والے کرایوں کی گنتی کرنا اور دن کے اختتام پر رپورٹ دینا تھا۔ چونکہ یہ سکّہ رائج نہیں تھا، اس لیے مسٹر ایڈورڈز نے اسے اپنے گھر لے جا کر اپنے کم عمر پوتے پیٹر کو تحفے میں دیا، جس نے اسے چھوٹے لکڑی کے صندوق میں ستر برس تک محفوظ رکھا۔

بعد ازاں لیڈز یونیورسٹی کے ماہرین آثار قدیمہ نے تحقیق کے بعد بتایا کہ یہ سکّہ فونیقی تہذیب سے تعلق رکھنے والا کارتھی جینینز ہے اور پہلی صدی قبل مسیح میں ہسپانوی شہر قادِز میں ڈھالا گیا تھا۔

77 سالہ پیٹر کے مطابق ان کے دادا اکثر ایسے غیر ملکی سکے جمع کرتے اور انہیں الگ رکھتے، اور جب بھی پیٹر ان کے گھر آتے تو انہیں چند سکے دے دیا کرتے تھے۔