LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ فٹبال ورلڈ کپ فائنل دیکھنے جائیں گے: وائٹ ہاؤس اسحاق ڈار کی چینی وزیر خارجہ سے ملاقات، سی پیک 2.0 پر پیش رفت کا جائزہ ایران نے عربوں کو واپس اونٹوں کے دور میں پہنچانے کی دھمکی دے دی امریکا کے ایران کے جنوبی علاقوں پر نئے فضائی حملے، تہران کی سخت ردعمل کی دھمکی ہسپتالوں اور طبی مراکز کو نشانہ بنانا جنگی جرم اور قابلِ مذمت عمل ہے: ایران ایران خطے کے عوام کے لیے ناقابلِ تسخیر قلعہ ہے، عبدالملک الحوثی ایران کا حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کی تیاری کا پیغام، عالمی توانائی بحران کا خدشہ خطے میں کشیدگی، مشرق وسطیٰ میں امریکی ایف-35 طیاروں کی فضائی نگرانی تیز غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، القسام کمانڈر سمیت 5 فلسطینی شہید خطے کی کشیدگی سے نمٹنے کے لئے مکمل تیاری رکھیں: وزیراعظم محسن نقوی کا بوئنگ ہیڈکوارٹرز کا دورہ، پی آئی اے کیلئے 16 نئے طیاروں پر پیش رفت اسحاق ڈار 2 روزہ سرکاری دورے پر شنگھائی پہنچ گئے پاکستان کا جاپانی سفیر کو ڈی مارش، مشترکہ اعلامیے پر احتجاج پنجاب حکومت خوابوں کی تعبیر تک نوجوانوں کا ساتھ دے گی: مریم نواز آبنائے ہرمز سرخ لکیر، خطے میں امریکی تنصیبات تباہ کر دیں گے: ایرانی افواج

اسرائیلی حملوں کے بعد بیروت کے ہسپتال زخمیوں سے بھر گئے، ادویات ختم ہونے کا خدشہ

Web Desk

10 April 2026

لبنان کے دارالحکومت بیروت سمیت ملک بھر میں حالیہ اسرائیلی فضائی حملوں نے انسانی المیہ جنم دے دیا ہے، جس کے باعث لبنانی نظامِ صحت مکمل طور پر مفلوج ہونے کے قریب پہنچ گیا ہے۔ اسرائیلی بمباری میں محض چند منٹوں کے اندر 100 سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق 300 سے زائد افراد جاں بحق اور ایک ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔ ہسپتالوں پر زخمیوں کا دباؤ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ بیروت کے ایک ہی ہسپتال میں ایک گھنٹے کے اندر 70 سے زائد شدید زخمی لائے گئے، جن میں بچوں، خواتین اور بزرگوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ طبی سہولیات اور ضروری سامان تیزی سے ختم ہو رہا ہے، جبکہ کئی شیر خوار بچے انتہائی نگہداشت کے وارڈز میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

طبی عملے اور امدادی کارکنوں کے مطابق زیادہ تر اموات عمارتیں گرنے اور دھماکوں کے نتیجے میں لگنے والی گہری چوٹوں کے باعث ہوئیں۔ لبنانی ریڈ کراس نے صورتحال کو “خوفناک” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہسپتال پہلے ہی محدود وسائل اور معاشی بحران کے باعث دباؤ میں تھے، اور اب ادویات و آلات کی شدید قلت پیدا ہو رہی ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) نے بھی متنبہ کیا ہے کہ اگر جنگی حالات برقرار رہے تو چند ہی دنوں میں اہم طبی کٹس ختم ہو سکتی ہیں۔ لبنان کے معاشی بحران اور بجلی کی شدید کمی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جہاں ہسپتال جنریٹرز پر چلنے کی وجہ سے بھاری اخراجات اور آپریشنل مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

دوسری جانب، اس مشکل گھڑی میں لبنانی شہریوں نے بے مثال یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بڑی تعداد میں خون کے عطیات دینا شروع کر دیئے ہیں۔ ہسپتالوں کے باہر اپنے لاپتہ عزیزوں کی تلاش میں سرگرداں خاندانوں کی موجودگی نے ماحول کو مزید سوگوار بنا دیا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مقامی سطح پر امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، لیکن لبنان کے گرتے ہوئے طبی ڈھانچے کو مکمل تباہی سے بچانے کا واحد حل فوری جنگ بندی اور عالمی برادری کی جانب سے بڑے پیمانے پر انسانی امداد کی فراہمی ہے۔