LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسلام آباد پولیس کی 10 بکتر بند گاڑیاں کے پی منتقل چاند نظر آگیا، پاکستان میں کل یکم جمادی الاول ہوگی صوبے کو انتشار نہیں خدمت کی ضرورت ہے، مریم نواز کی خیبر پختونخوا حکومت پر تنقید وزیراعظم نے خیبر پختونخوا کے امور کی نگرانی کیلئے 11 رکنی مانیٹرنگ کمیٹی قائم کر دی ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری خلیجی ممالک دیکھ چکے امریکی نام نہاد سکیورٹی چھتری کتنی مؤثر ہے: ایران ہماری پالیسی اسلام آباد سے آئے گی، کابل، قندھار اور جلال آباد سے نہیں: فیصل کریم کنڈی وزیراعظم کا ایس ایم ایز کیلئے قرضوں کا حجم 2028 تک 2.2 ٹریلین روپے کرنے کا حکم خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں امن و ترقی کیلئے فنڈز کی فوری فراہمی کا فیصلہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نفاذ کے خلاف سینیٹ میں قرارداد جمع صدر زرداری کی سیکریٹری خارجہ سے ملاقات، عالمی تعلقات مضبوط بنانے پر زور ترکی میں مسافر بس اور ٹرک میں تصادم، 11 افراد ہلاک، 27 زخمی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے برازیلی فوجی وفد کی ملاقات، دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق ایمرجنسی کا نفاذ تحریک انصاف کی ضد اور عدم تعاون کا نتیجہ ہے: طارق فضل چودھری وزیر خزانہ کی سربراہ ای ایس سی اے پی سے ملاقات، معاشی اصلاحات پر گفتگو

کرکٹر محمد رضوان کی این سی سی آئی اے انکوائری کے خلاف درخواست خارج

Web Desk

21 September 2026

لاہور ہائیکورٹ نے قومی کرکٹر محمد رضوان کی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کی انکوائری اور کال اپ نوٹس کے خلاف دائر درخواست کو خارج کرتے ہوئے 5 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم کی جانب سے جاری فیصلے میں محمد رضوان کو این سی سی آئی اے کی انکوائری میں شامل ہونے اور مکمل تعاون کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ ایجنسی کو قانون کے مطابق کارروائی کرنے اور کھلاڑی کو ہراساں نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ تحریری فیصلے کے مطابق سرکاری وکیل اور این سی سی آئی اے کا موقف ہے کہ یہ معاملہ پیکا (PECA) ایکٹ 2016ء کی دفعہ 14 (الیکٹرانک فراڈ اور ناجائز مالی فائدے) کے زمرے میں آتا ہے جو سائبر پٹرولنگ کے دوران سامنے آیا۔

عدالت نے کرکٹر کے وکیل کی اس دلیل کو رد کر دیا کہ معاملہ صرف آئی سی سی (ICC) کے اینٹی کرپشن یونٹ کا ہے، اور قرار دیا کہ آئی سی سی کوڈ محض ایک پیشہ ورانہ ضابطہ اخلاق ہے جو ریاستی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کارروائی سے نہیں روک سکتا۔ چیف جسٹس نے فیصلے میں لکھا کہ کال اپ نوٹس بذاتِ خود جرم عائد نہیں کرتا بلکہ محض موقف جاننے کا ذریعہ ہے، اور چونکہ محمد رضوان 10 ستمبر کو پیش ہو کر 14 ستمبر کو اپنا تحریری جواب جمع کرا چکے ہیں، اس لیے ایجنسی کی انکوائری نہ تو دائرہ اختیار سے باہر ہے اور نہ ہی بدنیتی پر مبنی۔ عدالت نے واضح کیا کہ انکوائری کے حتمی نتیجے سے کسی بھی شکایت کی صورت میں درخواست گزار قانون کے مطابق مناسب داد رسی کا طریقہ کار اختیار کر سکتے ہیں۔