LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
احتجاج ہمارا حق،27 ستمبر کو پوری قوت کے ساتھ نکلیں گے: سہیل آفریدی امریکا کا ایرانی صدر کی میڈیا ٹیم کو ویزے دینے سے انکار ایران پر حملے کا فیصلہ کن جواب دیں گے: جنرل امیر حاتمی اسلام آباد کنٹینروں سے بھر گیا، کسی کو احتجاج کا حق نہیں دیا جا رہا: مولانا فضل الرحمان محسن نقوی تہران پہنچ گئے، ایرانی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں متوقع امریکا ٹیک صنعت کا بڑا شراکت دار، جلد ایپل اور گول بھی پاکستان آرہے ہیں: شزہ فاطمہ دو ماہ میں ترسیلات زر 6.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں: احسن اقبال کا دعویٰ سہیل آفریدی اگر ڈیلیور نہیں کر سکتے تو گھر چلے جائیں: عطا تارڑ سٹاک مارکیٹ میں تیزی، کاروبار کا مثبت رجحان رہا ایم کیو ایم کی اتوار والی ریلی ریفرنڈم تھا، دھمکیوں سے نہیں ڈرتے : خالد مقبول صدیقی روسی اسٹیٹ ڈوما کے الیکشن: صدر پوتن کی حامی جماعت یونائیٹڈ رشیا کو واضح برتری خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی زمینی و فضائی کارروائی، 37 دہشت گرد ہلاک اسرائیلی وزیر کا مسجد اقصیٰ پر دھاوا، مذہبی رسومات کی ادائیگی، سعودیہ اور قطر کی شدید مذمت شادی کی تقریب میں مضر صحت کھانا کھانے سے 400 افراد کی حالت غیر ہوگئی حوثیوں کا سعودی عرب پر 24 گھنٹوں میں 28 فضائی حملوں کا الزام

کرکٹر محمد رضوان کی این سی سی آئی اے انکوائری کے خلاف درخواست خارج

Web Desk

21 September 2026

لاہور ہائیکورٹ نے قومی کرکٹر محمد رضوان کی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کی انکوائری اور کال اپ نوٹس کے خلاف دائر درخواست کو خارج کرتے ہوئے 5 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم کی جانب سے جاری فیصلے میں محمد رضوان کو این سی سی آئی اے کی انکوائری میں شامل ہونے اور مکمل تعاون کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ ایجنسی کو قانون کے مطابق کارروائی کرنے اور کھلاڑی کو ہراساں نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ تحریری فیصلے کے مطابق سرکاری وکیل اور این سی سی آئی اے کا موقف ہے کہ یہ معاملہ پیکا (PECA) ایکٹ 2016ء کی دفعہ 14 (الیکٹرانک فراڈ اور ناجائز مالی فائدے) کے زمرے میں آتا ہے جو سائبر پٹرولنگ کے دوران سامنے آیا۔

عدالت نے کرکٹر کے وکیل کی اس دلیل کو رد کر دیا کہ معاملہ صرف آئی سی سی (ICC) کے اینٹی کرپشن یونٹ کا ہے، اور قرار دیا کہ آئی سی سی کوڈ محض ایک پیشہ ورانہ ضابطہ اخلاق ہے جو ریاستی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کارروائی سے نہیں روک سکتا۔ چیف جسٹس نے فیصلے میں لکھا کہ کال اپ نوٹس بذاتِ خود جرم عائد نہیں کرتا بلکہ محض موقف جاننے کا ذریعہ ہے، اور چونکہ محمد رضوان 10 ستمبر کو پیش ہو کر 14 ستمبر کو اپنا تحریری جواب جمع کرا چکے ہیں، اس لیے ایجنسی کی انکوائری نہ تو دائرہ اختیار سے باہر ہے اور نہ ہی بدنیتی پر مبنی۔ عدالت نے واضح کیا کہ انکوائری کے حتمی نتیجے سے کسی بھی شکایت کی صورت میں درخواست گزار قانون کے مطابق مناسب داد رسی کا طریقہ کار اختیار کر سکتے ہیں۔