LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پولیس اور عدالتی نظام ناقص ، پورے سسٹم کو جڑ سے اکھاڑنا ہوگا: حافظ نعیم الرحمان سندھ طاس معاہدے کی پاسداری علاقائی امن و استحکام کیلئے ضروری ہے: اسحاق ڈار ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی، رائفل تھامے تصویر کیساتھ ’نو مور نائس گائے‘ کا پیغام امریکا ایران تنازع کا واحد قابلِ عمل حل مذاکرات اور سفارت کاری ہے: چین آبنائے ہرمز سے کسی جہاز کو بغیر اجازت گزرنے کی اجازت نہیں: ایران امریکا کو سمجھنا ہوگا کہ دباؤ سے سفارتکاری بحال نہیں ہوسکتی: عباس عراقچی ایل این جی کی قیمتوں میں بڑی کمی، اوگرا نے نوٹیفکیشن جاری کردیا روسی اخبارات میں سی آئی اے چیف کے دورہ ماسکو، برطانیہ کو روسی انتباہ اور سوئس پابندیوں کے مستقبل پر بحث پنجاب اسمبلی میں بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور پاکستان کے پورٹ سسٹم میں اصلاحات، 85 اقدامات پر عملدرآمد پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن میں مالی گوشواروں کی تفصیلات جمع کرادیں نو منتخب وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی نے عہدے کا حلف اٹھا لیا این ای ڈی یونیورسٹی اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ایران نے امریکی پابندیوں کو ریاستی دہشتگردی قرار دے دیا ہاکی ورلڈ کپ: پاکستان نے جنوبی افریقہ کو ہرا کر 11ویں پوزیشن حاصل کرلی

خیبرپختونخوا میں دریاؤں کے کنارے سونے کی غیر قانونی تلاش پر پابندی عائد

Web Desk

21 February 2026

پشاور: محکمہ داخلہ خیبر پختونخوا نے صوبائی کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں صوبے کے بڑے دریاؤں کے کناروں پر سونے کی غیر قانونی تلاش اور ہر قسم کی کان کنی پر فوری پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ پابندی ابتدائی طور پر 60 روز کے لیے نافذ کی گئی ہے، جس کا مقصد آبی حیات کا تحفظ اور ماحولیاتی آلودگی کو روکنا ہے۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق، اس پابندی کا اطلاق دریائے کابل، دریائے سوات اور دریائے سندھ پر ہوگا۔ متعلقہ اضلاع جن میں صوابی، سوات، نوشہرہ، کوہاٹ اور کرک شامل ہیں، کے ڈپٹی کمشنرز کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے حدود میں اس فیصلے پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی کھدائی نہ صرف دریاؤں کے فطری بہاؤ کو متاثر کر رہی ہے بلکہ اس سے زمینی کٹاؤ (Soil Erosion) اور پانی کی آلودگی میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ مزید برآں، ان سرگرمیوں سے مقامی سطح پر امن و امان کی صورتحال بگڑنے کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔