LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسرائیلی انتخابات: ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کی برتری، اکثریت سے دور شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا حکومت اور پیپلز پارٹی مذاکرات کا دوسرا دور ختم، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق سعودی سفیر کی خواجہ آصف سے ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم نامہ جاری برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا ماسکو میں تیسرے روس افریقہ سربراہی اجلاس کا آغاز، پوتن کا کثیر قطبی عالمی نظام پر زور

خیبرپختونخوا میں دریاؤں کے کنارے سونے کی غیر قانونی تلاش پر پابندی عائد

Web Desk

21 February 2026

پشاور: محکمہ داخلہ خیبر پختونخوا نے صوبائی کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں صوبے کے بڑے دریاؤں کے کناروں پر سونے کی غیر قانونی تلاش اور ہر قسم کی کان کنی پر فوری پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ پابندی ابتدائی طور پر 60 روز کے لیے نافذ کی گئی ہے، جس کا مقصد آبی حیات کا تحفظ اور ماحولیاتی آلودگی کو روکنا ہے۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق، اس پابندی کا اطلاق دریائے کابل، دریائے سوات اور دریائے سندھ پر ہوگا۔ متعلقہ اضلاع جن میں صوابی، سوات، نوشہرہ، کوہاٹ اور کرک شامل ہیں، کے ڈپٹی کمشنرز کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے حدود میں اس فیصلے پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی کھدائی نہ صرف دریاؤں کے فطری بہاؤ کو متاثر کر رہی ہے بلکہ اس سے زمینی کٹاؤ (Soil Erosion) اور پانی کی آلودگی میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ مزید برآں، ان سرگرمیوں سے مقامی سطح پر امن و امان کی صورتحال بگڑنے کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔