LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کا فلسطینی خاندانوں کے گھروں کا محاصرہ بادامی باغ میں نامعلوم موٹرسائیکل سواروں کی فائرنگ، 2 پولیس اہلکار شہید وزیراعظم شہباز شریف سے ناروے کے وزیر خارجہ کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال پنجاب حکومت کا انتظامی اخراجات کم کرنے کیلئے 101 آسامیاں ختم کرنے کا فیصلہ اسحاق ڈار سے صدر ن لیگ آزاد کشمیر کی ملاقات، حکومت سازی سے متعلق امور پر گفتگو ناروے کے وزیر خارجہ کی جی ایچ کیو آمد، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات منشیات کیس: عدالت نے ملزمہ انمول عرف پنکی کو بری کر دیا کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے 8 اہلکاروں کو اغوا کرلیا: آزاد کشمیر پولیس قومی اسمبلی اور سینیٹ کا اجلاس 17 اگست کو طلب کرنے کا فیصلہ براڈ پیک حادثے میں لاپتہ ہونے والے پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی کی لاش مل گئی پاکستان کی پہلی چاند گاڑی کا نام جناح-1 رکھ دیا گیا اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تنخواہوں اور مراعات میں بڑا اضافہ اسرائیلی فورسز جنوبی لبنان میں گھروں کو تباہ اور نذرِ آتش کر رہی ہے: لبنانی میڈیا ملک بھر کیلئے فی یونٹ بجلی مسلسل 3 ماہ تک مہنگی ہونے کا امکان کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے 8 اہلکاروں کو اغوا کرلیا: آزاد کشمیر پولیس

پاکستان سمیت دنیا بھر میں بسنے والے کشمیری آج یوم شہدائے کشمیر منا رہے ہیں

Web Desk

13 July 2026

پاکستان، آزاد جموں و کشمیر اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج 13 جولائی کو ’یومِ شہدائے کشمیر‘ کے طور پر منا رہے ہیں۔ یہ دن 13 جولائی 1931 کو ڈوگرا فورسز کے ہاتھوں سرینگر سینٹرل جیل کے باہر شہید ہونے والے 22 سرفروش کشمیریوں کی لازوال قربانی کی یاد میں ہر سال عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے۔

کل جماعتی حریت کانفرنس کے کنوینر غلام محمد صفی نے اس موقع پر اپنے بیان میں کہا کہ 13 جولائی 1931 تحریکِ آزادیٔ کشمیر کا وہ تاریخی سنگ میل ہے جب حریت پسند عبدالقدیر کے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران جیل کے باہر ہزاروں کشمیری جمع تھے۔ ظہر کی نماز کا وقت ہونے پر جب ایک کشمیری نوجوان نے اذان دینا شروع کی تو ظالم ڈوگرا فوج نے گولی مار کر اسے شہید کر دیا۔ اس کے بعد دوسرا، تیسرا اور چوتھا نوجوان آگے بڑھا اور یکے بعد دیگرے 22 جوانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے، مگر اذانِ محمدی کو مکمل کیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ یہی قربانی کشمیر کی تحریکِ آزادی کی مضبوط بنیاد بنی، اور کشمیری عوام سات دہائیوں سے زائد عرصے سے بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف مسلسل برسرِپیکار ہیں۔

حریت رہنما منظور احمد شاہ نے مقبوضہ وادی کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے آج بھی مقبوضہ جموں و کشمیر کو ظلم و جبر کی آماجگاہ بنا رکھا ہے۔ انہوں نے اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ تین دہائیوں میں قابض بھارتی افواج کے ہاتھوں 96 ہزار سے زائد کشمیری جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں، جبکہ دو لاکھ سے زائد بچے یتیم اور ہزاروں بے گناہ کشمیری بھارت کی بدنام زمانہ جیلوں میں قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں۔ حریت رہنماؤں نے عزم ظاہر کیا کہ بھارتی مظالم کے باوجود مظلوم کشمیریوں کی حقِ خودارادیت کے لیے جدوجہد آزادی کے حصول تک جاری رہے گی۔