LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ نے کہا وٹکوف، جیرڈ کشنر دوبارہ ماسکو آنے کیلئے تیار ہیں: ترجمان کریملن صدر ٹرمپ انقرہ میں نیٹو ممالک کے اجلاس میں شرکت کریں گے، وائٹ ہاؤس اوپیک پلس ممالک کا اگست کیلئے تیل کی پیداوار بڑھانے کا فیصلہ امریکی نیوی نے بحیرہ عرب میں لاپتہ اہلکار کی تلاش روک دی گروپ کیپٹن کو شہید کرنے والا ملزم سعد 9 گھنٹوں میں گرفتار کر لیا: آئی جی اسلام آباد وفاقی وزیر احسن اقبال کا دورہ امریکہ: ہیلتھ کیئر اور معاشی ترقی کے لیے سمندر پار پاکستانیوں کو شراکت داری کی دعوت، ٹیلی میڈیسن ماڈل کی تجویز فلسطینی علاقوں پر قبضہ ختم ہونے تک اسرائیل سے تعلقات بحال نہیں ہو سکتے، مصر یمنی فورسز اور حوثیوں کے درمیان جھڑپوں میں 65 اموات کی تصدیق شہید رہبراعلیٰ کے خون کا بدلہ ضرور لیں گے، مشیر ایرانی سپریم لیڈر پشاور: چینی باشندوں کی حفاظت کےلئے فول پروف نظام قائم امریکی صدر کی روسی ہم منصب کو یوکرین جنگ کے حل میں مدد کی پیشکش وعدہ کرتا ہوں شہید امام کے مشن کو جاری رکھوں گا: مسعود پزشکیان ایران اور قطر کے درمیان بحری تجارت 5 ماہ بعد بحال مؤثر سفارتکاری اور امن سے پاکستان کا عالمی تشخص مضبوط ہوا: فیصل کریم کنڈی اسرائیل کو خطے کو دوبارہ جنگ کی آگ میں دھکیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی: صدر اردوان

کابل یونیورسٹی میں دھماکا ، 20 طلبہ زخمی

Web Desk

5 July 2026

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں واقع کابل یونیورسٹی کے طلبہ ہاسٹل میں جمعہ کی شب ہونے والے ایک دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 20 طلبہ زخمی ہو گئے۔

مقامی ذرائع کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب طلبہ رات کے کھانے کے لیے ڈائننگ ہال کی طرف جا رہے تھے۔ دھماکے کے فوری بعد ریسکیو ٹیموں نے کارروائی کرتے ہوئے تمام زخمیوں کو علی آباد اسپتال منتقل کیا، جہاں طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام زخمی طلبہ کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

دھماکے کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں متعدد ایمبولینسوں کو کابل یونیورسٹی ہاسٹل کے باہر دیکھا جا سکتا ہے، جہاں امدادی کارکن زخمیوں کو نکالنے اور انہیں ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے میں مصروف رہے۔ ہاسٹل میں موجود ایک طالب علم نے اپنے آڈیو پیغام میں بتایا کہ واقعے کے فوراً بعد پورے ہاسٹل کی سکیورٹی کو انتہائی سخت کر دیا گیا ہے اور طلبہ کی نقل و حرکت کو مکمل طور پر محدود کر دیا گیا ہے۔ دھماکے کی اصل نوعیت ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی ہے اور نہ ہی کسی گروپ کی طرف سے اس کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے۔ طالبان حکومت کی جانب سے بھی تاحال اس دھماکے کی وجوہات، نوعیت یا ممکنہ ذمہ داروں کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، جس کے باعث واقعے کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔