LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
تیل کی قیمتیں کم رکھنا امریکا کی پہلی ، ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنا دوسری ترجیح ہے: جے ڈی وینس انڈونیشیا میں زلزلے سے جانی نقصان پر وزیراعظم کا اظہار افسوس آزاد کشمیر الیکشن: نتائج کو’’فارم 47 پلس‘‘ کے نام سے یاد رکھا جائیگا: شرجیل میمن نیویارک کی تاریخی پاکستان ڈے پریڈ 42ویں سال میں داخل، بلال سعید پہلی بار میڈیسن ایونیو پر سر بکھیریں گے شور پرود کے پہاڑی سلسلے میں سکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن،10 دہشت گرد ہلاک آزاد کشمیر میں عوام نے انتشار اور تشدد کی سیاست کو مسترد کر دیا: مریم نواز دنیا کے کسی معاشرے نے خواتین کو محکوم رکھ کر ترقی نہیں کی: چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ مخالفین کیساتھ ہمیشہ اچھا سلوک کیا، امید نہیں تھی کہ پیپلزپارٹی کی طرف سے شکایت کا موقع ملے گا: نوازشریف مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت کا اجلاس شروع، آزادکشمیر میں حکومت سازی پر غور بھارتی حکام نے میرواعظ عمر فاروق کو ایک بار پھر گھر میں نظر بند کردیا لبنانی حکومت فوج کو اسرائیلی دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہی ہے: حزب اللہ انڈونیشیا میں 7.7 شدت کا زلزلہ، سونامی کا خطرہ ٹل گیا، 20 افراد جاں بحق وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کو ہر ممکن امداد فراہم کرنے کی ہدایت آسمان کی طرف دیکھ رہا ہوں، بے گناہ لوگ جیلوں میں قید ہیں: شیخ رشید امریکا ایران مذاکرات میں ڈیڈ لاک، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ

کابل یونیورسٹی میں دھماکا ، 20 طلبہ زخمی

Web Desk

5 July 2026

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں واقع کابل یونیورسٹی کے طلبہ ہاسٹل میں جمعہ کی شب ہونے والے ایک دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 20 طلبہ زخمی ہو گئے۔

مقامی ذرائع کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب طلبہ رات کے کھانے کے لیے ڈائننگ ہال کی طرف جا رہے تھے۔ دھماکے کے فوری بعد ریسکیو ٹیموں نے کارروائی کرتے ہوئے تمام زخمیوں کو علی آباد اسپتال منتقل کیا، جہاں طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام زخمی طلبہ کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

دھماکے کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں متعدد ایمبولینسوں کو کابل یونیورسٹی ہاسٹل کے باہر دیکھا جا سکتا ہے، جہاں امدادی کارکن زخمیوں کو نکالنے اور انہیں ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے میں مصروف رہے۔ ہاسٹل میں موجود ایک طالب علم نے اپنے آڈیو پیغام میں بتایا کہ واقعے کے فوراً بعد پورے ہاسٹل کی سکیورٹی کو انتہائی سخت کر دیا گیا ہے اور طلبہ کی نقل و حرکت کو مکمل طور پر محدود کر دیا گیا ہے۔ دھماکے کی اصل نوعیت ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی ہے اور نہ ہی کسی گروپ کی طرف سے اس کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے۔ طالبان حکومت کی جانب سے بھی تاحال اس دھماکے کی وجوہات، نوعیت یا ممکنہ ذمہ داروں کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، جس کے باعث واقعے کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔