LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
دہشت گردی کے خلاف بحیثیت قوم نبرد آزما ہونا ہوگا: بیرسٹر سلمان اکرم راجہ پی ٹی آئی کا قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کے بائیکاٹ کا فیصلہ برقرار دہشت گردی ایک ناسور، ہمارے شہداء قوم کے ہیرو ہیں: بیرسٹر گوہر خان کی میڈیا سے گفتگو سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر حملے ناقابلِ قبول ہیں: وزیراعظم آبنائے ہرمز کے قریب بندر عباس میں پانچ دھماکوں کی آوازیں، ایرانی سرکاری ٹی وی کیش لیس معیشت سے شفافیت اور پائیدار معاشی ترقی کو فروغ ملے گا، وزیراعظم امریکا اور ایران آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی یقینی بنائیں: چین مولانا نے پوری تاریخِ اسلام کے شہدا کی تضحیک کی: فیاض الحسن امریکا-ایران کشیدگی، امارات میں تمام امریکی قونصلرز کی تقرری منسوخ کراچی میں رینجرز کیمپ پر حملے کا ماسٹر مائنڈ قاری بشیر گرفتار پاکستان اور امریکا کا انسدادِ دہشتگردی، سائبر سکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق پاکستان اور بنگلہ دیش کا خواتین کو بااختیار بنانے اور دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق تیل کی قیمتیں ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں مریم نواز سنٹر آف اکیڈمک لیڈر شپ پائلٹ پراجیکٹ کی منظوری ایران آبنائے ہرمز کا محافظ ہے اور ہمیشہ رہے گا، ٹرمپ ٹول بہت زیادہ ہے: عباس عراقچی

جمعیت علمائے اسلام کا 22 مئی کو ملک گیر احتجاج کا اعلان

Web Desk

14 May 2026

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے 22 مئی کو ملک گیر احتجاجی مظاہروں کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بھر کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز میں مہنگائی کے خلاف احتجاج کیا جائے گا جبکہ 4 جون کو بلوچستان میں بڑا جلسہ منعقد کیا جائے گا۔

مولانا فضل الرحمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام ایک مؤثر سیاسی و دینی قوت ہے اور اسی جماعت کی برکت سے پاکستان محفوظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت کے علماء، کارکنان اور عہدیداران نے خون کی قربانیاں دی ہیں اور مختلف علاقوں میں انہیں مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ باجوڑ کے ایک جنازے میں اسی لاشیں اٹھائیں جبکہ کرم، وزیرستان اور مہمند میں بھی علماء کو ٹارگٹ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جمعیت علمائے اسلام کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ ملک کو تقسیم ہونے سے بچا رہی ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جمعیت جمہوری نظام پر یقین رکھتی ہے اور ہمیشہ انتخابات کے ذریعے سیاست کی، لیکن دھاندلی کے ذریعے انہیں پارلیمنٹ سے باہر رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف بعض قوتیں ان پر کفر کے فتوے لگاتی ہیں جبکہ دوسری جانب انہیں سیاسی عمل سے دور کیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جمعیت علمائے اسلام نفرت اور تعصب کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی بلکہ محبت، شائستگی اور اصولوں کی سیاست کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اختلاف رائے مہذب انداز میں ہونا چاہیے اور آئین شکنی ملک کی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے دفاعی اداروں کے احترام کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام اپنے شفاف عقیدے اور اصولی سیاست پر قائم ہے۔ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ، بیوروکریسی اور سیاست دانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت کو سیاست نہ سکھائی جائے بلکہ سیاست جمعیت سے سیکھی جائے۔