LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
صدر آصف علی زرداری سے محسن نقوی کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال آئینِ پاکستان کو نہ ماننے والوں سے کوئی بات نہیں ہوگی: فیصل کریم پولیس پر تشدد کا کیس: ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ پر فرد جرم کی تاریخ مقرر ہراسگی قانون کے تحت کارروائی کیلئے جنسی نوعیت کا عنصر ضروری ہے: آئینی عدالت 4 اکتوبر کا لانگ مارچ فی الحال حتمی ہے، مگر حالات کے مطابق فیصلے کا حق رکھتے ہیں: سینیٹر علی ظفر پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 1.2 ارب ڈالر قسط کیلئے مذاکرات کا آغاز حکومت کا یکساں گیس ٹیرف نافذ کرنے کا فیصلہ، آئی ایم ایف سے منظوری لی جائے گی ملک بھر کے صارفین کے لیے بجلی مزید مہنگی کرنے کی تیاری نیتن یاہو نے اماراتی صدر کی دعوت پر ابوظہبی کا دورہ کیا: اسرائیلی وزیراعظم دفتر حافظ نعیم سے منسوب لغو بات پھیلائی جا رہی ہے: لیاقت بلوچ قطر نے ہمارے مؤقف سے امریکا کو آگاہ کر دیا، اب جواب کا انتظار ہے: عراقچی پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ، کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر پابندی عائد سعودی عرب کی سلامتی پاکستان کیلئے ریڈ لائن ہے: مولانا طاہر اشرفی پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز سکیورٹی فورسز کے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں آپریشنز، 7 دہشت گرد جہنم واصل

کم عمری میں ہی شہرت کے منفی پہلوؤں کا احساس ہو گیا تھا، جھانوی کپور

Web Desk

6 April 2026

بالی ووڈ اداکارہ جھانوی کپور نے ایک حالیہ پوڈ کاسٹ میں اپنے ساتھ پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اسکول کے دنوں میں ہی ‘ڈیپ فیک’ اور غیر اخلاقی مواد کا شکار ہو چکی ہیں۔ اداکارہ کے مطابق، جب وہ محض اسکول کی طالبہ تھیں، تو انہوں نے آئی ٹی کلاس کے دوران ایک فحش ویب سائٹ پر اپنی جعلی تصاویر دیکھیں، جس نے انہیں شدید ذہنی صدمے سے دوچار کر دیا۔ جھانوی کپور نے سوشل میڈیا پر مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ جعلی مواد کی بڑھتی ہوئی لہر پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ایسی تصاویر اور ویڈیوز بھی گردش کر رہی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، لیکن بعض اوقات مستند نیوز پلیٹ فارمز بھی انہیں شیئر کر دیتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں اداکاروں کے لیے پیشہ ورانہ مسائل اور بلیک میلنگ کا سبب بن سکتی ہے، لہٰذا ڈیجیٹل رضامندی اور ٹیکنالوجی کے اخلاقی استعمال کے لیے واضح حدود مقرر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔