LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی اپنی زندگیاں اور ٹیکس پرائی جنگ کیلئے استعمال نہ ہونے دیں، اسماعیل بقائی چین کا مشترکہ سلامتی کے فروغ پر زور ایران کے دیرینہ اصول کی عکاسی ہے، قالیباف دنیا کا نقشہ تبدیل ہوگا، اقوام متحدہ میں نئے عالمی نقشے کی قرارداد منظور کراچی: ڈیلیوری کے دوران گلے پر تیز دھار آلہ پھرنے سے نومولود جاں بحق یوکرین میں پرامن تصفیے کی ٹھوس شرائط ابھی موجود نہیں، روسی صدارتی ترجمان امریکا اور اسرائیل جنگ کے ذریعے ایران کو تقسیم کرنیکی کوشش کر رہے: مسعود پزشکیان ٹرمپ انتظامیہ نے مشرق وسطیٰ کیلئے نئی حکمت عملی پر کام شروع کر دیا، ایگزیوس میلونی دوسری عالمی جنگ کے بعد طویل ترین حکومت کرنے والی وزیراعظم بن گئیں امریکا کیلئے مناسب لائحہ عمل یہ ہے کہ وہ خطے سے انخلا کرے، ترجمان ایرانی فوج ایرانی وزیر خارجہ کی اردن کے ہم منصب پر شدید تنقید ایرانی حکام کا جنگ کے دوران امریکا کے 370 طیاروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ امریکی محکمہ خارجہ نے سعودی عرب کو جدید ہتھیار بیچنے کی منظوری دے دی احسن اقبال نے ملک میں 15 نئے صوبوں کی تجویز دیدی لاہور سمیت بڑے شہروں سے میئر کا عہدہ ختم کرنے سے بلدیاتی نظام کمزور ہوگا: سعد رفیق امریکی صدر ٹرمپ کی ایران کے پِک ایکس ماؤنٹین پر حملے کی دھمکی

کم عمری میں ہی شہرت کے منفی پہلوؤں کا احساس ہو گیا تھا، جھانوی کپور

Web Desk

6 April 2026

بالی ووڈ اداکارہ جھانوی کپور نے ایک حالیہ پوڈ کاسٹ میں اپنے ساتھ پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اسکول کے دنوں میں ہی ‘ڈیپ فیک’ اور غیر اخلاقی مواد کا شکار ہو چکی ہیں۔ اداکارہ کے مطابق، جب وہ محض اسکول کی طالبہ تھیں، تو انہوں نے آئی ٹی کلاس کے دوران ایک فحش ویب سائٹ پر اپنی جعلی تصاویر دیکھیں، جس نے انہیں شدید ذہنی صدمے سے دوچار کر دیا۔ جھانوی کپور نے سوشل میڈیا پر مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ جعلی مواد کی بڑھتی ہوئی لہر پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ایسی تصاویر اور ویڈیوز بھی گردش کر رہی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، لیکن بعض اوقات مستند نیوز پلیٹ فارمز بھی انہیں شیئر کر دیتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں اداکاروں کے لیے پیشہ ورانہ مسائل اور بلیک میلنگ کا سبب بن سکتی ہے، لہٰذا ڈیجیٹل رضامندی اور ٹیکنالوجی کے اخلاقی استعمال کے لیے واضح حدود مقرر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔