LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
برآمدات میں اضافے کیلئے نجی شعبے کو بھی آگے آنا ہوگا: ہارون اختر خان معروف کوہ پیما سید علی شاہ کی میت 31 دن بعد فلک سیر کی چوٹی سے تلاش کرلی گئی آر ایل این جی کی عدم دستیابی سے بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی: پاور ڈویژن پاکستان کو دنیا کی 24 ویں بڑی معیشت اور جی 20 کا حصہ بنانا ہدف ہے: اسحاق ڈار پمز میں 14 بچوں کی ہلاکت ہمارے نظام پر بڑا سوالیہ نشان ہے: مصدق ملک کسی نے ہمیں دھرنے سے اٹھانے کی کوشش کی تو وہ اپنا شوق پورا کرلے: حافظ نعیم علی پرویز ملک کی او آئی سی سی آئی اور پی ایس او قیادت سے الگ الگ ملاقاتیں عوام کو جدید ڈیجیٹل مالیاتی نظام سے منسلک کرنا ترجیح ہے: شزا فاطمہ محسن نقوی کا جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا دورہ، امیگریشن سسٹم ڈاؤن ہونے پر فوری ہدایت پاکستان چین دوستی کو ڈیٹا، ٹیکنالوجی کے نئے دور میں داخل کرنا چاہتے ہیں: مریم نواز سہیل آفریدی کی آیت نور کے گھر آمد، ملزمان کو کڑی سزا دینے کی یقین دہانی نیپال و تبت میں سیلاب سے ہلاکتیں 626 ہو گئیں، 2000 سے زیادہ افراد تاحال لاپتہ ڈی آئی جی ساؤتھ کا ڈیفنس میں خواتین کے جھگڑے کی وائرل ویڈیو پر انکوائری کا فیصلہ امریکی پابندیوں کے تسلسل سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے: ایرانی صدر فیلڈ مارشل عاصم منیر کا پاکستان آرڈیننس فیکٹری واہ کا دورہ، پیداواری صلاحیتوں کا جائزہ لیا

سندھ طاس معاہدے کی پاسداری علاقائی امن و استحکام کیلئے ضروری ہے: اسحاق ڈار

Web Desk

28 August 2026

واشنگٹن: نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960ء سے قائم سندھ طاس معاہدہ (Indus Waters Treaty) صرف ایک روایتی معاہدہ نہیں بلکہ خطے کی آبی و اقتصادی سلامتی کے لیے ایک بنیادی قانونی فریم ورک ہے، جس کی پاسداری علاقائی امن کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

امریکہ میں پاکستانی سفارتخانے کے زیراہتمام سندھ طاس معاہدے کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ عالمی بینک کی ثالثی میں طے پانے والا یہ تاریخی معاہدہ کئی دہائیوں سے دونوں ممالک کے درمیان آبی وسائل کی تقسیم کی قانونی بنیاد فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پانی انسانی زندگی، غذائی تحفظ اور معاشی پائیداری کی بنیادی ضرورت ہے، اور بین الریاستی آبی تقسیم کو ہمیشہ عالمی قوانین اور معاہدوں کے تحت ہی برقرار رکھا جانا چاہیے۔

نائب وزیراعظم نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ پاکستان اپنے تاریخی اور قانوناً تفویض کردہ آبی حقوق کے مکمل تحفظ کے لیے عالمی قوانین، سفارتی ذرائع اور بین الاقوامی فورمز پر اپنا مؤثر مؤقف اجاگر کرتا رہے گا۔ انہوں نے اس بات پر اعادہ کیا کہ معاہدے کی بلا تعطل پاسداری ہی ریاستوں کے درمیان اعتماد کی بحالی اور جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی ضامن ہے۔