سندھ طاس معاہدے کی پاسداری علاقائی امن و استحکام کیلئے ضروری ہے: اسحاق ڈار
Web Desk
28 August 2026
واشنگٹن: نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960ء سے قائم سندھ طاس معاہدہ (Indus Waters Treaty) صرف ایک روایتی معاہدہ نہیں بلکہ خطے کی آبی و اقتصادی سلامتی کے لیے ایک بنیادی قانونی فریم ورک ہے، جس کی پاسداری علاقائی امن کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
امریکہ میں پاکستانی سفارتخانے کے زیراہتمام سندھ طاس معاہدے کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ عالمی بینک کی ثالثی میں طے پانے والا یہ تاریخی معاہدہ کئی دہائیوں سے دونوں ممالک کے درمیان آبی وسائل کی تقسیم کی قانونی بنیاد فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پانی انسانی زندگی، غذائی تحفظ اور معاشی پائیداری کی بنیادی ضرورت ہے، اور بین الریاستی آبی تقسیم کو ہمیشہ عالمی قوانین اور معاہدوں کے تحت ہی برقرار رکھا جانا چاہیے۔
نائب وزیراعظم نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ پاکستان اپنے تاریخی اور قانوناً تفویض کردہ آبی حقوق کے مکمل تحفظ کے لیے عالمی قوانین، سفارتی ذرائع اور بین الاقوامی فورمز پر اپنا مؤثر مؤقف اجاگر کرتا رہے گا۔ انہوں نے اس بات پر اعادہ کیا کہ معاہدے کی بلا تعطل پاسداری ہی ریاستوں کے درمیان اعتماد کی بحالی اور جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی ضامن ہے۔
متعلقہ عنوانات
پاور سیکٹر اصلاحات، ریگولیٹری اداروں کی خودمختاری اور مؤثریت مضبوط بنانے پر غور
19 September 2026
روس میں پارلیمانی انتخابات شروع، پاکستانی مبصر وفد بھی ماسکو پہنچ گیا
19 September 2026
اپوسٹیل اور دستاویزات کی تصدیق کے نظام کی تحقیقات کیلئے انکوائری کمیٹی قائم
19 September 2026
ٹرمپ اور نیتن یاہو کے اقتدار تک آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی، باقر ذوالقدر
19 September 2026
پاکستان کیخلاف کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
19 September 2026
امریکا پوری ایرانی قوم کی معاشی زندگی کو نشانہ بنا رہا ہے، اسماعیل بقائی
19 September 2026
نوجوانوں کواے آئی سمیت جدید ٹیکنالوجی کےعلوم سےآراستہ کرنا ناگزیر: احسن اقبال
19 September 2026
کوہاٹ پولیس لائنز مسجد حملے میں شہید ہونے والوں کی نماز جنازہ ادا
18 September 2026