LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاور سیکٹر اصلاحات، ریگولیٹری اداروں کی خودمختاری اور مؤثریت مضبوط بنانے پر غور روس میں پارلیمانی انتخابات شروع، پاکستانی مبصر وفد بھی ماسکو پہنچ گیا اپوسٹیل اور دستاویزات کی تصدیق کے نظام کی تحقیقات کیلئے انکوائری کمیٹی قائم ٹرمپ اور نیتن یاہو کے اقتدار تک آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی، باقر ذوالقدر پاکستان کیخلاف کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی امریکا پوری ایرانی قوم کی معاشی زندگی کو نشانہ بنا رہا ہے، اسماعیل بقائی نوجوانوں کواے آئی سمیت جدید ٹیکنالوجی کےعلوم سےآراستہ کرنا ناگزیر: احسن اقبال کوہاٹ پولیس لائنز مسجد حملے میں شہید ہونے والوں کی نماز جنازہ ادا تحریک تحفظ آئین کا اجلاس، 27 ستمبر کا احتجاج ملک بھر میں پھیلانے کا فیصلہ وزیراعظم خصوصی ریلیف سکیم کا پورے پاکستان میں کامیاب اجرا پٹرولیم لیوی ختم نہ ہوئی تو 20 ستمبر سے سپر لانگ مارچ ہوگا: حافظ نعیم الرحمان حکومت تحریک انصاف کو سپیس دینے کیلئے تیار نہیں: فواد چودھری لندن سے بنگلادیش جانیوالی پرواز میں مسافروں کے درمیان جھگڑے کی ویڈیو وائرل امریکا میں تربیتی مشق کے دوران ایف 16 طیارہ گر کر تباہ اسلام آباد میں احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر پولیس اہلکاروں کی چھٹیوں پر پابندی

سندھ طاس معاہدے کی پاسداری علاقائی امن و استحکام کیلئے ضروری ہے: اسحاق ڈار

Web Desk

28 August 2026

واشنگٹن: نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960ء سے قائم سندھ طاس معاہدہ (Indus Waters Treaty) صرف ایک روایتی معاہدہ نہیں بلکہ خطے کی آبی و اقتصادی سلامتی کے لیے ایک بنیادی قانونی فریم ورک ہے، جس کی پاسداری علاقائی امن کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

امریکہ میں پاکستانی سفارتخانے کے زیراہتمام سندھ طاس معاہدے کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ عالمی بینک کی ثالثی میں طے پانے والا یہ تاریخی معاہدہ کئی دہائیوں سے دونوں ممالک کے درمیان آبی وسائل کی تقسیم کی قانونی بنیاد فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پانی انسانی زندگی، غذائی تحفظ اور معاشی پائیداری کی بنیادی ضرورت ہے، اور بین الریاستی آبی تقسیم کو ہمیشہ عالمی قوانین اور معاہدوں کے تحت ہی برقرار رکھا جانا چاہیے۔

نائب وزیراعظم نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ پاکستان اپنے تاریخی اور قانوناً تفویض کردہ آبی حقوق کے مکمل تحفظ کے لیے عالمی قوانین، سفارتی ذرائع اور بین الاقوامی فورمز پر اپنا مؤثر مؤقف اجاگر کرتا رہے گا۔ انہوں نے اس بات پر اعادہ کیا کہ معاہدے کی بلا تعطل پاسداری ہی ریاستوں کے درمیان اعتماد کی بحالی اور جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی ضامن ہے۔