LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایرانی حکام کا جنگ کے دوران امریکا کے 370 طیاروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ امریکی محکمہ خارجہ نے سعودی عرب کو جدید ہتھیار بیچنے کی منظوری دے دی احسن اقبال نے ملک میں 15 نئے صوبوں کی تجویز دیدی لاہور سمیت بڑے شہروں سے میئر کا عہدہ ختم کرنے سے بلدیاتی نظام کمزور ہوگا: سعد رفیق امریکی صدر ٹرمپ کی ایران کے پِک ایکس ماؤنٹین پر حملے کی دھمکی پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ورلڈ چیرٹی ڈے منایا جارہا ہے سیالکوٹ: مسلح ڈاکو گھر سے ساڑھے 3 کروڑ روپے کا سونا، سعودی ریال اور نقدی لے اڑے امریکا کی ایران کی مالی معاونت کرنیوالے عالمی مالیاتی اداروں کو سنگین نتائج کی دھمکی صدر سے بلاول بھٹو کی طویل ملاقات، سندھ کی تقسیم پر پارٹی مؤقف پر ڈٹنے رہنے کا فیصلہ کراچی ڈیفنس تشدد کیس: انکوائری رپورٹ میں ایس ایس پی فدا جانوری ذمہ دار قرار، مقدمہ درج کرنے اور معطلی کی سفارش ایران جنگ کے 6 ماہ بعد مزید پراعتماد ہوگیا: امریکی اخبار بائیں بازو کے انتہا پسند، کمیونسٹ امریکا کی شکست چاہتے ہیں: ٹرمپ میجر جنرل فیصل نصیر نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر مقرر اسحاق ڈار سے یوگنڈا کے سابق وزیراعظم کی ملاقات، عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال روس کا یوکرین کے دارالحکومت کیف پر حملہ، 5 افراد زخمی

ارشاد بھٹی کا میرا سے نامناسب سوالات پر سوشل میڈیا صارفین کی سخت تنقید پر ردعمل سامنے آگیا

Web Desk

21 April 2026

سینئر صحافی اور سیاسی تجزیہ کار ارشاد بھٹی نے اداکارہ میرا کے ساتھ حالیہ پوڈکاسٹ انٹرویو پر پیدا ہونے والے تنازع کے بعد اپنا تفصیلی مؤقف واضح کر دیا ہے۔ ارشاد بھٹی کا کہنا ہے کہ انٹرویو کے دوران اٹھائے گئے سوالات غیر متوقع یا نئے نہیں تھے، بلکہ یہ وہی موضوعات تھے جو ماضی میں بھی عوامی سطح پر زیر بحث رہ چکے ہیں اور اداکارہ کو ان کے بارے میں پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پوڈکاسٹ کی تیاری کے دوران شیڈولنگ کے شدید مسائل پیش آئے؛ اداکارہ طے شدہ اور معاوضہ شدہ سیشنز میں وقت پر شریک نہ ہوئیں اور کئی بار ریکارڈنگ ملتوی کروانی پڑی، حتیٰ کہ ایک بار وہ رات دیر سے اسٹوڈیو پہنچیں جب تکنیکی ٹیم موجود نہیں تھی۔

ارشاد بھٹی نے اس تاثر کی نفی کی کہ گفتگو کے دوران کسی ذاتی حد کو عبور کیا گیا یا اداکارہ کی تضحیک کی گئی، بلکہ ان کا مقصد میرا کے کیریئر اور ماضی کے عوامی تنازعات پر پیشہ ورانہ گفتگو کرنا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ میرا نے ان موضوعات پر بات کرنے کی رضامندی دی تھی اور پروگرام کی ریلیز کے بعد وہ مجموعی ردعمل سے مطمئن نظر آئیں۔ تاہم، سوشل میڈیا پر جاری بحث کے پیش نظر انہوں نے واضح کیا کہ وہ تمام عوامی شخصیات کا احترام کرتے ہیں اور اگر انٹرویو کے مواد سے کسی کو تکلیف پہنچی ہو تو وہ معذرت کے لیے تیار ہیں، اگرچہ ان کا مؤقف ہے کہ پورا سیشن پیشہ ورانہ دائرہ کار کے اندر رہ کر مکمل کیا گیا تھا۔