پی ٹی آئی کالعدم ٹی ٹی پی کی بی ٹیم، مالی معاونت میں ملوث ہے: وفاقی وزرا
Web Desk
28 September 2026
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری نے اسلام آباد میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ افغانستان سے دہشت گردوں کی تشکیلیں لگاتار پاکستان آ رہی ہیں، جو ڈالرز کے عوض تخریبی کارروائیوں کو انجام دیتی ہیں، جبکہ تحریک انصاف کی قیادت دہشت گردوں کی مالی معاونت میں براہِ راست ملوث ہے۔
وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ڈی آئی خان امن میلہ چیک پوسٹ پر ہونے والے دہشت گردی کے واقعہ میں معصوم خواتین اور بچوں سمیت شہری شہید ہوئے، اور سفاکیت کی انتہا یہ ہے کہ دہشت گردوں نے امدادی سرگرمیوں میں مصروف ریسکیو اہلکاروں کو بھی اپنا نشانہ بنایا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ حملے کے بعد جب ایک ہلاک دہشت گرد کی تصویر فوری طور پر نادرا اور دیگر سسٹمز پر چیک کی گئی تو اس کی مقامی سطح پر کوئی شناخت نہیں ملی، تاہم اوپن سورس معلومات سے پتا چلا کہ وہ افغانستان کے دارالحکومت کابل کا رہائشی تھا۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان آنے والے دہشت گردوں میں سے قریباً 70 فیصد کا تعلق افغانستان سے ہوتا ہے۔ ہم نے ڈوزیئرز کے تبادلے، مذاکرات اور سفارتی ذرائع سمیت ہر ممکن طریقے سے افغان حکام سے بارہا رابطے کر کے دیکھ لیے، لیکن ہمارا ہمسایہ ملک اپنا منفی رویہ بدلنے کو تیار نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا واحد مقصد پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے، اور اس پورے معاملے میں افغانستان ایک ’سپر پراکسی‘ کا کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا ڈی آئی خان تو گئے اور پریس کانفرنس بھی کی، مگر انہوں نے کھل کر افغانستان کا نام کیوں نہیں لیا؟
وزیر مملکت نے الزام عائد کیا کہ خیبرپختونخوا کی سیاسی قیادت گزشتہ 14 برسوں کے دوران ایک دن بھی سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی نہیں ہوئی، اور نہ ہی صوبائی حکومت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوبہ وسائل اور جدید ساز و سامان فراہم کیا۔ انہوں نے کہا کہ سی ٹی ڈی، بلٹ پروف گاڑیوں اور جدید ہتھیاروں کے بغیر دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں لڑی جا سکتی، لیکن صوبائی حکومت نے سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لیے سکیورٹی فورسز کو فراہم کی جانے والی بلٹ پروف گاڑیاں تک واپس لے لیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اپنے خطاب میں کہا کہ کے پی کی موجودہ قیادت کی نیت اور طبیعت خراب ہے، اور ہمارا یہ مؤقف بالکل درست ثابت ہوتا جا رہا ہے کہ صوبے میں پی ٹی آئی کی قیادت کالعدم ٹی ٹی پی کی ’بی ٹیم‘ کا کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ عوامی نیشنل پارٹی (ANP)، مسلم لیگ (ن) اور جے یو آئی (ف) کی قیادتیں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر چکی ہیں، لیکن حیرت انگیز طور پر صرف پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو دہشت گرد کبھی نشانہ نہیں بناتے، اس کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے دوٹوک الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی دہشت گردوں کی مالی معاونت میں ملوث ہے۔
عطا تارڑ نے انکشاف کیا کہ خیبرپختونخوا میں کھلے عام نان کسٹم پیڈ گاڑیاں دوڑ رہی ہیں، یہاں تک کہ موٹر سائیکلوں پر بھی نمبر پلیٹس موجود نہیں ہیں۔ صوبائی حکومت جان بوجھ کر ان گاڑیوں کو قانونی دائرے میں نہیں لا رہی کیونکہ یہی غیر قانونی گاڑیاں دہشت گردانہ کارروائیوں میں استعمال ہوتی ہیں۔ اگر ان گاڑیوں کی رجسٹریشن کی جاتی تو اس سے صوبے کو اربوں روپے کی آمدنی بھی ہو سکتی تھی اور دہشت گردوں کا سراغ لگانا بھی آسان ہوتا، لیکن دہشت گردوں کا سراغ نہ ملنے دینے کے لیے ایسا نہیں کیا گیا۔
وزیر اطلاعات نے سوال کیا کہ ڈی آئی خان میں شہید ہونے والے معصوم بچوں کا خون کیا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے ہاتھوں پر تلاش کیا جائے؟ انہوں نے کہا کہ سیاست اپنی جگہ، لیکن دہشت گردی جیسے حساس قومی معاملے پر ہر کسی کو واضح فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں یا افغانستان کے ساتھ۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ حکومت پاکستان اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہے اور سکیورٹی اداروں کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جاتا رہے گا۔
متعلقہ عنوانات
صدر آصف علی زرداری سے محسن نقوی کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
29 September 2026
آئینِ پاکستان کو نہ ماننے والوں سے کوئی بات نہیں ہوگی: فیصل کریم
29 September 2026
پولیس پر تشدد کا کیس: ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ پر فرد جرم کی تاریخ مقرر
29 September 2026
ہراسگی قانون کے تحت کارروائی کیلئے جنسی نوعیت کا عنصر ضروری ہے: آئینی عدالت
29 September 2026
بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی گرفتاری اور ان تک رسائی نہ دینا بدترین سیاسی انتقام ہے: ترجمان تحریکِ انصاف
29 September 2026
4 اکتوبر کا لانگ مارچ فی الحال حتمی ہے، مگر حالات کے مطابق فیصلے کا حق رکھتے ہیں: سینیٹر علی ظفر
29 September 2026
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 1.2 ارب ڈالر قسط کیلئے مذاکرات کا آغاز
29 September 2026
حکومت کا یکساں گیس ٹیرف نافذ کرنے کا فیصلہ، آئی ایم ایف سے منظوری لی جائے گی
29 September 2026