LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بنگلادیشی صدر محمد شہاب الدین اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے جیفری ایپسٹین کے نام ٹرمپ کا فحش خط منظرعام پر لانیوالے صحافیوں کیلئے ایوارڈ کا اعلان ٹرمپ کا بڑا اعلان، تیسری بار صدر بننے کی خواہش ظاہر کر دی 18 ارب ڈالر کا تیل فروخت کر چکے، ایران کا دعویٰ یوکرین نے بحیرہ کیسپیئن میں ایرانی تجارتی جہاز پر حملہ کر دیا روس کے جوہری دفاع نظام کا بحری حصہ مزید طاقتور بن رہا ہے: پوتن سعودی امریکا جوہری معاہدے میں اسرائیل سے تعلقات کی شرط کی تردید دریائے سندھ میں کالاباغ، چشمہ اور تونسہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ملک عمران خلیل پی ٹی آئی برطانیہ اور آصف بٹ نارتھ ویسٹ کے صدر منتخب وزیراعظم کا جنوبی وزیرستان میں دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنانے پر فورسز کو خراجِ تحسین نیویارک کے میئر ظہران ممدانی بھی پاکستانی گلوکار شمعون اسماعیل کے مداح نکلے چیف الیکشن کمشنر کی میرپور ڈویژن کے عوام سے انتخابات میں بھرپور شرکت کی اپیل صدر ٹرمپ نے فی الحال ایران پر حملوں میں شدت نہ لانے کا فیصلہ کر لیا: امریکی میڈیا حوثیوں کے سعودی شہروں ینبع اور جازان میں آرامکو تنصیبات پر میزائل و ڈرون حملے محسن نقوی کا تربت میں ایف سی کے جدید ترین ہسپتال کا افتتاح

ایرانی ریال کی قدر میں تاریخی کمی، ایک امریکی ڈالر 13 لاکھ ریال تک پہنچ گیا

Web Desk

16 December 2025

تہران: ایرانی کرنسی ریال کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں ریکارڈ نچلی سطح پر آ گئی ہے، جس کے بعد ایک امریکی ڈالر اب 13 لاکھ ایرانی ریال کے برابر ہو گیا ہے۔ ملک کو درپیش یہ مالیاتی بحران گزشتہ دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، ایرانی کرنسی کی قدر میں مسلسل کمی کا یہ رجحان امریکہ کی جانب سے 2018 میں جوہری معاہدے سے یکطرفہ علیحدگی اختیار کرنے اور ملک پر سخت پابندیاں عائد کرنے کے بعد شروع ہوا تھا۔

یاد رہے کہ 2015 میں جب ایران کا عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدہ طے پایا تھا، تو اس وقت ایک امریکی ڈالر صرف 32,000 ایرانی ریال کے برابر تھا۔ تاہم، پابندیوں کے بعد صورتحال تیزی سے بگڑتی چلی گئی۔ تین دسمبر 2025 کو ایک امریکی ڈالر 12 لاکھ ایرانی ریال کا تھا، اور محض دو ہفتوں کے اندر یہ شرح مزید گر کر 13 لاکھ ریال تک پہنچ چکی ہے۔

کرنسی کی قدر میں اس تباہ کن کمی کی وجہ سے ایرانی عوام کو شدید افراطِ زر اور روزمرہ زندگی کے اخراجات میں بے تحاشا اضافے جیسے سنگین معاشی مسائل کا سامنا ہے۔