LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بلوچستان کے عوام کا امن، خوشحالی اور فلاح ریاستی کوششوں کا مرکز ہے: فیلڈ مارشل امریکی سینٹرل کمانڈ کی ایران کے 3 آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے کی تصدیق نئے صوبوں کا معاملہ محاذ آرائی نہیں، مشاورت سے حل ہونا چاہیے: چودھری شجاعت یونان میں فضائی مظاہرے کے دوران ایف-4 فینٹم جنگی طیارہ تباہ امریکا کی اقتصادی جنگ کا مقابلہ کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا: ایرانی نائب صدر شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں پوتن کی متحرک سفارت کاری نمایاں کوئی فرد واحد یا سیاسی جماعت نئے انتظامی یونٹس روک نہیں سکتی: محسن نقوی سانحہ گل پلازا: پولیس کا چالان عدالت میں جمع، ایسوسی ایشن مرکزی ذمہ دار قرار آئین پامال کر کے جتنے مرضی چھوٹے صوبے بنالیں کوئی فائدہ نہیں: خواجہ سعد رفیق سیف گیمز 2027 کی تاریخیں مقرر، 28 کھیلوں میں 6 ہزار سے زائد کھلاڑی و آفیشلز شریک ہوں گے پیٹرولیم لیوی ختم کی جائے، روٹی 10 روپے کی ہو: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کی پریس کانفرنس مشرقِ وسطیٰ کے عوام بیرونی مداخلت مسترد کر دیں: چینی صدر نائیجیریا میں پیٹرول چوری کے دوران زہریلی گیس سے 37 افراد ہلاک محکمہ موسمیات کی بالائی پنجاب، اسلام آباد اور خیبر پختونخوا میں شدید بارش کی پیشگوئی پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر اور سفارت کاری عالمی امن کیلئے ناگزیر ہے: رضوان سعید

فیلڈمارشل عاصم منیرکی تہران آمدپرپیش کردہ امریکی تجاویزکاجائزہ لے رہےہیں، ایرانی سپریم سیکیورٹی کونسل

Web Desk

18 April 2026

ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے کہاہے کہ پاکستان کے آرمی چیف فیلڈمارشل عاصم منیر کی تہران آمد کے بعد امریکاکی جانب سے نئی تجاویز پیش کی گئی ہیں جن کا ابھی جائزہ لیاجارہاہے، ان پر کوئی حتمی جواب نہیں دیا گیا۔

سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ایران خود کو جنگ میں کامیاب سمجھتا ہے ۔ امریکا کو اپنے مطالبات حقیقت کے مطابق تبدیل کرنے چاہئیں۔

ایرانی میڈیاکے مطابق  نیشنل سیکیورٹی کونسل کا کہنا ہے کہ عارضی جنگ بندی قبول کرنے کی اہم شرط یہ تھی کہ لبنان سمیت تمام محاذوں پرجنگ بندی ہو۔ ایرانی مؤقف کے مطابق اسرائیل نے ابتدا میں ہی لبنان اور حزب اللہ پر حملے کر کے اس شرط کی خلاف ورزی کی لیکن ایران کے دباؤ کے بعد اسرائیل نے لبنان میں جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر دشمن تمام محاذوں پر جنگ بندی کی پابندی کرے تو ایران آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر صرف تجارتی جہازوں کے لیے کھولنے پر تیار ہے۔ یہ اجازت بھی ایران کی نگرانی، اس کے مقرر کردہ راستے اور صرف غیر فوجی جہازوں تک محدود ہوگی، جبکہ مخالف ممالک کے فوجی جہازوں کو اس سے استثنا حاصل نہیں ہوگا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکاکے خطے میں موجود فوجی اڈوں کی زیادہ تر سپلائی آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے اور یہ صورتحال ایران اور خلیج فارس کے لیے سکییورٹی خطرہ سمجھی جاتی ہے۔

بیان کے مطابق دشمن کی ناکامی اور ایرانی عوام و مسلح افواج کی مزاحمت کے بعد جنگ کے دسویں دن سے امریکا کی جانب سے جنگ بندی اور مذاکرات کی درخواستیں موصول ہونا شروع ہوئیں۔ یہ وہی جنگ تھی جس کا آغاز خود امریکا نے کیا تھا۔

بیان میں ایرانی عوام اور مسلح افواج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مذاکراتی ٹیم خدا پر بھروسے اور عوامی حمایت کے ساتھ سیاسی میدان میں داخل ہوئی ہے تاکہ جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو مضبوط بنایا جا سکے۔

بیان کے مطابق، ایرانی وفد کسی قسم کی رعایت، پسپائی یا نرمی اختیار نہیں کرے گا اور پوری قوت کے ساتھ ایران کے مفادات، قومی عزت اور جنگ میں دی گئی قربانیوں کا دفاع کرے گا۔