LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
معاشی محاذ پر مثبت پیش رفت، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 70 فیصد کم ہوگیا پاور سیکٹر اصلاحات، ریگولیٹری اداروں کی خودمختاری اور مؤثریت مضبوط بنانے پر غور روس میں پارلیمانی انتخابات شروع، پاکستانی مبصر وفد بھی ماسکو پہنچ گیا اپوسٹیل اور دستاویزات کی تصدیق کے نظام کی تحقیقات کیلئے انکوائری کمیٹی قائم ٹرمپ اور نیتن یاہو کے اقتدار تک آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی، باقر ذوالقدر پاکستان کیخلاف کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی امریکا پوری ایرانی قوم کی معاشی زندگی کو نشانہ بنا رہا ہے، اسماعیل بقائی نوجوانوں کواے آئی سمیت جدید ٹیکنالوجی کےعلوم سےآراستہ کرنا ناگزیر: احسن اقبال کوہاٹ پولیس لائنز مسجد حملے میں شہید ہونے والوں کی نماز جنازہ ادا تحریک تحفظ آئین کا اجلاس، 27 ستمبر کا احتجاج ملک بھر میں پھیلانے کا فیصلہ وزیراعظم خصوصی ریلیف سکیم کا پورے پاکستان میں کامیاب اجرا پٹرولیم لیوی ختم نہ ہوئی تو 20 ستمبر سے سپر لانگ مارچ ہوگا: حافظ نعیم الرحمان حکومت تحریک انصاف کو سپیس دینے کیلئے تیار نہیں: فواد چودھری لندن سے بنگلادیش جانیوالی پرواز میں مسافروں کے درمیان جھگڑے کی ویڈیو وائرل امریکا میں تربیتی مشق کے دوران ایف 16 طیارہ گر کر تباہ

آبنائے ہرمز سے کسی جہاز کو بغیر اجازت گزرنے کی اجازت نہیں: ایران

Web Desk

28 August 2026

تہران: ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے اعلان کیا ہے کہ ایرانی مسلح افواج اور پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کی باضابطہ اجازت کے بغیر کوئی بھی تجارتی یا عسکری بحری جہاز آبنائے ہرمز سے نہیں گزر سکتا۔

ابراہیم عزیزی نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ اس اہم عالمی آبی گزرگاہ کو استعمال کرنے والے تمام بحری جہازوں کو ایرانی حکام سے پیشگی این او سی (NOC) اور پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی بحریہ سے رابطہ قائم کر کے مقررہ سیکورٹی ضوابط کی مکمل پاسداری کرنا ہو گی۔ ایرانی حکام کے مطابق اس اقدامات کا مقصد خطے کی سیکیورٹی کے تحت سمندری آمدورفت کو مزید منظم اور باضابطہ بنانا ہے۔

واضح رہے کہ تہران انتظامیہ گزشتہ کچھ عرصے سے آبنائے ہرمز میں اپنے انتظامی و سیکورٹی کنٹرول کو قانونی شکل دینے کے لیے قانون سازی پر کام کر رہی ہے۔ رواں برس مئی میں بھی ایرانی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ متعدد یورپی ممالک اپنے تجارتی جہازوں کی محفوظ اور بلا تعطل گزرگاہ کے لیے تہران کے ساتھ رابطہ کر رہے ہیں، جبکہ ایرانی پارلیمنٹ میں آبی گزرگاہ کے انتظام کا نیا نظام نافذ کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔