LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
دنیا کے بڑے کنٹینر بردار جہازوں میں شامل ایم ایس سی مرجام کراچی پورٹ پہنچ گیا جاپان میں 7.1 شدت کا زلزلہ، سونامی کی وارننگ جاری پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی میں ترامیم منظور، پٹرولیم مصنوعات کے سٹریٹیجک ریزروز بڑھانے کی ہدایت کویت کے وزیر خارجہ آج 2 روزہ دورے پر پاکستان پہنچیں گے نیتن یاہو امریکا پہنچ گئے، ٹرمپ سے ملاقات میں ایران جنگ پر تبادلہ خیال متوقع عمران خان رہائی فورس کیس: آئینی عدالت کا فریقین کو جواب جمع کرانے کیلئے مہلت پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال بہتر، پانی کا بہاؤ معمول پر آگیا آزاد کشمیر الیکشن: ن لیگ نے 8 نشستیں جیت کر میدان مار لیا، پیپلزپارٹی 4 پرکامیاب عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر مثبت رجحان صدر مملکت اور وزیراعظم کا 2030 تک ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ محسن نقوی کی قطری ہم منصب سے ملاقات، سکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق انتخابی عمل کا پہلا مرحلہ آزادانہ اور شفافیت سے مکمل ہوا:چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر اقوام متحدہ کی مقبوضہ مغربی کنارے اسرائیلی بستیوں کے توسیعی منصوبے کی شدید مذمت میرپور نے شیر پر مہر لگا کر اعلان کر دیا ترقی ن لیگ سے جڑی ہے: مریم اورنگزیب

امریکی پابندیاں،بھارت نے ایرانی چاہ بہاربندرگاہ کے تعمیراتی کام کا معاہدہ ترک کردیا

Web Desk

16 January 2026

میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت نے معمولی امریکی دباؤ کے بعد ایران کے ساتھ کیا گیا چاہ بہار منصوبے کامعاہدہ ترک کر دیا۔۔ پابندیوں کے نفاذ سے قبل بھارت نے تہران کو معاہدے کے تحت طے شدہ 120 ملین ڈالر کی رقم ادا کی تھی جو اب ڈوب چکی ہے۔ تاہم بعدمیں منصوبے سے منسلک سرکاری کمپنی انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ کے بورڈ پر موجود تمام سرکاری نامزد ڈائریکٹرز نے اجتماعی استعفیٰ دے دیا۔کمپنی کی ویب سائٹ اچانک بند کر دی گئی، جس کا مقصد امریکی پابندیوں کے ممکنہ اثرات سے متعلق اداروں اور افراد کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت نے بظاہر چاہ بہار بندرگاہ میں سرمایہ کاری تجارتی مقاصد کے لیے کی، لیکن خدشہ ہے کہ اس منصوبے کے پس پردہ دیگر اسٹریٹجک عزائم بھی موجود تھے۔ ماہرین کے مطابق انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ دراصل خاص طور پر چاہ بہار منصوبے کے لیے قائم کی گئی تھی۔ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ امریکی پابندیوں کی صورت میں کمپنی کی سرگرمیوں اور اصل کردار سے پردہ اٹھ سکتا تھا، جس سے بھارت کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچنے کا امکان تھا۔ بعض ماہرین کے مطابق، اس بندرگاہ سے بھارتی خفیہ ایجنسی را کی ممکنہ سرگرمیوں کے شبہات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے بعد ایرانی حکام پہلے ہی چاہ بہار بندرگاہ اور اس سے منسلک سرگرمیوں پر الرٹ تھے۔ چاہ بہار منصوبے سے دستبرداری بھارت کے اس دعوے کے برعکس ہے جس میں وہ اصولوں پر مبنی اور متوازن خارجہ پالیسی کی بات کرتا ہے