LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسحاق ڈار کی یو این سیکرٹری جنرل عہدے کی امیدوار سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، 6 فلسطینی شہید سندھ طاس معاہدے پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، جنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے: بلاول بھٹو اسرائیلی وزیرِ دفاع کی ایرانی قیادت ختم کرنے کی دھمکی روس کا یوکرین آپریشن ایک حقیقی جنگ کی شکل اختیار کر رہا ہے: کریملن ایران میں ہفتۂ سوگ کے باعث امن مذاکرات مؤخر کیے: ٹرمپ منی پور میں کشیدگی کی نئی لہر، مودی سرکار حالات پر قابو پانے میں مکمل ناکام امریکہ ہی اسرائیل کا واحد طاقتور اتحادی نہیں، ’ایک چھوٹا سا ملک انڈیا‘ بھی ہے: نیتن یاہو ایران کا تہران کی فضائی حدود مکمل طور پر بند رکھنے کا اعلان ایران اور قطری حکام کی دوحہ میں بیٹھک، بحری تجارت بحال کرنے کا اعلان لبنان کے اکثریتی مسیحی قصبے رمیش کے میئر نے نیتن یاہو کا دعویٰ مسترد کردیا لبنانی مسیحی دیہات نے حزب اللہ سے تحفظ کیلئے اسرائیل سے الحاق کا اظہار کیا: نیتن یاہو کا دعویٰ سندھ طاس معاہدے پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، جنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے: بلاول بھٹو سانحہ بلدیہ تفصیلی فیصلہ جاری, سزائے موت پانے والے ملزمان رحمان بھولا اور زبیر چریا کو بری کر دیا سہیل آفریدی کی ضم اضلاع میں عوامی خدمات بہتر بنانے کیلئے تین ماہ کی مہلت

اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی اور بشریٰ بی بی کی توہینِ عدالت کی درخواستیں غیرموثر قرار دے کر نمٹا دیں

Web Desk

29 June 2026

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں قائم بنچ نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف دائر مرکزی اپیلوں پر سماعت کی، جس کے دوران وکلاء صفائی کی جانب سے التوا کی استدعا مسترد کرتے ہوئے عدالت نے قومی احتساب بیورو (نیب) کو دلائل کا آغاز کرنے کی تزویراتی ہدایت جاری کر دی۔ سماعت کے آغاز پر بانی پی ٹی آئی کے مرکزی وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ “اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی اور بشریٰ بی بی کی توہینِ عدالت کی درخواستیں غیر موثر قرار دے کر نمٹا دی ہیں، جس کے خلاف ہم نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں باقاعدہ اپیل دائر کر رکھی ہے، لہٰذا ہمیں اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے تک کا وقت دیا جائے۔”

بیرسٹر سلمان صفدر نے تزویراتی نقطہ اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اگر ہائیکورٹ میں ان مرکزی اپیلوں پر دلائل شروع ہو جاتے ہیں، تو پھر سپریم کورٹ جانے کی پوری قانونی ایکسرسائز بے معنی ہو کر رہ جائے گی۔ انہوں نے استدعا کی کہ “میری گزارشات پہلے سن لیں، میں سزا معطلی کے فیصلوں کے خلاف بھی سپریم کورٹ گیا ہوں، تو دوسری طرف عدالت کیسے مرکزی اپیلوں پر دلائل شروع کر سکتی ہے؟” وکیلِ صفائی کا کہنا تھا کہ یہ اپیلیں چار ہفتے پہلے ہی میچور ہوئی ہیں، جبکہ سردار لطیف کھوسہ اور بیرسٹر علی ظفر کی دیگر اپیلیں اب بھی التوا میں پڑی ہیں۔ اس پر چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے استفسار کیا کہ “کیا آپ ہائیکورٹ کو ڈائریکشن دے سکتے ہیں؟ جب میں کہہ رہا ہوں کہ ہم نے اپیلیں سننی ہیں، تو ہم سن رہے ہیں۔” بیرسٹر سلمان صفدر نے جواب دیا کہ وہ عدالت کو ڈائریکشن نہیں دے سکتے، تاہم ان کے پاس اس وقت مرکزی اپیلوں پر دلائل دینے کے حوالے سے موکل کی طرف سے کوئی ہدایات موجود نہیں ہیں۔

وکلاء صفائی کی جانب سے دلائل نہ دینے پر چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ “بانی اور بشریٰ بی بی کے وکلاء نے عدالتی حکم کے باوجود دلائل کا آغاز نہیں کیا، اس لیے عدالت کے پاس اب کوئی دوسرا آپشن نہیں بچا کہ نیب کو دلائل شروع کرنے کا کہا جائے۔” معزز عدالت نے نیب پراسیکیوٹر کو روسٹرم پر بلا کر باقاعدہ دلائل شروع کرنے کی ہدایت کر دی۔ اس نازک موڑ پر پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان روسٹرم پر آگئے اور استدعا کی کہ “ہمیں صرف دو ہفتے کا وقت دے دیں، ہم اس حساس معاملے پر عدالت کی بھرپور معاونت کریں گے۔” چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ “یہ کوئی مناسب طریقہ کار نہیں ہے، میں محسوس کر رہا ہوں کہ آپ لوگ مل کر عدالت کو پریشرائز کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؛ آپ سب کے وکالت نامے فائل پر موجود ہیں اور پھر بھی آپ کہہ رہے ہیں کہ دلائل نہیں دے سکتے۔”

اسی دوران سینئر قانون دان سردار لطیف کھوسہ نے مداخلت کرتے ہوئے مصلحانہ پیشکش کی اور کہا کہ “مجھے دو ہفتے کا وقت دے دیں، میں خود جیل جا کر بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سے تفصیلی ملاقات کر لوں گا۔” چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے سردار لطیف کھوسہ سے استفسار کیا کہ “کیا ہم آپ کی طرف سے اس حوالے سے باقاعدہ انڈر ٹیکنگ (Undertaking) لکھ دیں؟” لطیف کھوسہ کی رضامندی پر عدالت نے تحریری عدالتی آرڈر میں یہ انڈر ٹیکنگ ریکارڈ کا حصہ بنا دی کہ مروجہ وکلاء دو ہفتوں میں بانی پی ٹی آئی سے جیل میں ملاقات مکمل کریں گے اور آئندہ سماعت پر ہر صورت اپیلوں پر اپنے حتمی دلائل کا آغاز کریں گے۔ اس یقین دہانی کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت کو دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دیا۔