LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اقوام متحدہ کی تحقیقات، ایران میں امریکی حملوں پر جنگی جرائم کے شواہد کا دعویٰ کردیا 27ستمبر کو پی ٹی آئی اسلام آباد نہیں پہنچے گی، بانی کی رہائی سزا پوری ہونے کے بعد ممکن ہے: فیصل کریم کنڈی پارلیمنٹ ہاؤس: اپوزیشن چیمبر میں علامہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی کی ملاقات، آئین تحفظ اجلاس پر اہم مشاورت وزیراعلیٰ مریم نواز نے دورہ لندن کیلئے سرکاری طیارے کے استعمال کی رقم ادا کردی روسی افواج کے یوکرین کی دفاعی صنعت اور توانائی تنصیبات پر بڑے حملے سپریم کورٹ: ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی سزائیں معطل، ضمانت پر رہائی کا حکم امریکا میں بس حادثے کی لائیو کوریج کرنے والا نیوز ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 3 افراد ہلاک پنجاب کی ماتحت عدالتوں میں عملے کی بھرتیوں کا 150 سالہ پرانا نظام ختم پی آئی اے کی جدہ پہنچنے والی پرواز میں آگ کی اطلاع پر مسافروں کا ہنگامی اخراج بشری بی بی نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا معطلی کی اپیل پر جلد سماعت کیلئے آئینی عدالت سے رجوع ملک میں طبقاتی کشمکش اور پی ٹی آئی رہنماؤں پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے، سپریم کورٹ میں بے بسی دیکھی: سلمان اکرم راجہ افغانستان سے دہشتگردی کے خطرات پر دفاع میں کارروائی کریں گے: عاصم افتخار حرمین شریفین کی حرمت، سعودی عرب کی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: دفتر خارجہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے حوثیوں سے براہِ راست رابطے کی تصدیق کردی حوثیوں کا سعودی جنگی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ، اتحادی افواج کے کمیونیکیشن ٹاورز پر حملے

روسی افواج کے یوکرین کی دفاعی صنعت اور توانائی تنصیبات پر بڑے حملے

Web Desk

17 September 2026

روسی افواج نے یوکرین کے خلاف اپنی عسکری کارروائیوں کو تیز کرتے ہوئے رات بھر اس کی دھات سازی، ریڈیو الیکٹرانکس، دفاعی صنعت اور توانائی و نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کو وسیع پیمانے پر بمباری کا نشانہ بنایا ہے۔ روسی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق مسلح افواج نے زمین، سمندر اور فضا سے داغے جانے والے جدید اور اعلیٰ درستگی کے حامل (High-Precision) ہتھیاروں اور خودکش ڈرونز (بغیر پائلٹ فضائی گاڑیوں) کی مدد سے یوکرینی اہداف پر ایک بڑا مشترکہ حملہ منظم کیا۔

روسی عسکری حکام کے مطابق ان شدید حملوں کا بنیادی ہدف کیف، زاپوروژے اور اوڈیسا کے علاقوں میں واقع اہم تکنیکی اور لاجسٹک تنصیبات تھیں۔ وزارتِ دفاع نے موقف اختیار کیا ہے کہ ان کارروائیوں کے دوران یوکرین کے ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس، فوجی سامان تیار کرنے والے کارخانوں اور ان کو توانائی فراہم کرنے والے بجلی کے نظام کو مفلوج کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں، یوکرینی فوج کے آپریشنل مفادات، نقل و حمل اور لاجسٹک امداد کے لیے استعمال ہونے والے بحری جہازوں کو بھی کامیابی کے ساتھ نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

اس بڑے پیمانے کے فضائی و میزائل حملے کے بعد یوکرین کے مختلف صوبوں میں بجلی کے نظام میں خلل اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ روسی وزارتِ دفاع نے عزم ظاہر کیا ہے کہ یوکرین کی جنگی صلاحیتوں اور ملٹری سپلائی چین کو توڑنے کے لیے اس نوعیت کے نشانہ بند مشترکہ آپریشنز آئندہ بھی جاری رکھے جائیں گے، جبکہ یوکرینی حکام کی جانب سے نقصان کا تفصیلی تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔