LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
روسی افواج کے یوکرین کی دفاعی صنعت اور توانائی تنصیبات پر بڑے حملے سپریم کورٹ: ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی سزائیں معطل، ضمانت پر رہائی کا حکم امریکا میں بس حادثے کی لائیو کوریج کرنے والا نیوز ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 3 افراد ہلاک پنجاب کی ماتحت عدالتوں میں عملے کی بھرتیوں کا 150 سالہ پرانا نظام ختم پی آئی اے کی جدہ پہنچنے والی پرواز میں آگ کی اطلاع پر مسافروں کا ہنگامی اخراج بشری بی بی نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا معطلی کی اپیل پر جلد سماعت کیلئے آئینی عدالت سے رجوع ملک میں طبقاتی کشمکش اور پی ٹی آئی رہنماؤں پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے، سپریم کورٹ میں بے بسی دیکھی: سلمان اکرم راجہ افغانستان سے دہشتگردی کے خطرات پر دفاع میں کارروائی کریں گے: عاصم افتخار حرمین شریفین کی حرمت، سعودی عرب کی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: دفتر خارجہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے حوثیوں سے براہِ راست رابطے کی تصدیق کردی حوثیوں کا سعودی جنگی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ، اتحادی افواج کے کمیونیکیشن ٹاورز پر حملے ہونہار اور مستحق طلبہ کو میرٹ پر معیاری تعلیم کی فراہمی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم ایران کسی معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے، جنگ کے خاتمہ کے قریب ہیں: ٹرمپ مکہ مکرمہ کی حفاظت کیلئے کسی معاہدے کی ضرورت نہیں: خواجہ آصف سفارتی حل کیلئے تیار، قومی خود مختاری کا دفاع کریں گے: ایرانی وزیر خارجہ

پنجاب کی ماتحت عدالتوں میں عملے کی بھرتیوں کا 150 سالہ پرانا نظام ختم

Web Desk

17 September 2026

لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کی ماتحت عدالتوں میں عملے کی بھرتیوں کے ۱۵۰ سالہ پرانے روایتی نظام کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں منعقدہ لاہور ہائیکورٹ کے فل کورٹ اجلاس نے نئے اور جدید بھرتی رولز کی متفقہ منظوری دے دی ہے۔ اس تاریخی فیصلے کے تحت اضلاع کے سیشن ججز کے پاس ڈیڑھ صدی سے موجود ماتحت عدلیہ کے عملے کو براہِ راست ملازمتیں دینے اور بھرتی کرنے کے اختیارات کو باضابطہ طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔

نئے نافذ العمل طریقہ کار کے مطابق اب نائب قاصد (گریڈ ۱) سے لے کر گریڈ ۱۶ تک کی تمام بنیادی اور انتظامی آسامیوں پر سیشن ججز اپنے ضلع میں براہِ راست تعیناتیاں نہیں کر سکیں گے۔ اس کی بجائے ماتحت عدالتوں میں شفاف بھرتیوں کا پورا نظام اب لاہور ہائیکورٹ کے مرکزی سیکریٹریٹ کے تحت قائم کیا جائے گا۔ نئے ضوابط کے تحت جس ضلع میں بھی عملے کی کمی ہوگی، متعلقہ سیشن جج ڈی جی اسٹیبلشمنٹ کو خالی آسامیوں کی تفصیلی رپورٹ بھیجے گا، جو ضروری چھان بین کے بعد کیس ہائیکورٹ سیکرٹریٹ کو منتقل کرے گا۔

لاہور ہائیکورٹ انتظامیہ نے ماتحت عدلیہ میں سفارشی کلچر کا خاتمہ کرنے اور مکمل میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے یہ شفاف اور جدید نظام وضع کیا ہے۔ نئے نظام کے تحت تمام امیدواروں کا انتخاب باضابطہ تحریری امتحان اور معیاری انٹرویو کے بعد ہی کیا جائے گا۔ ہائیکورٹ فل کورٹ سے منظوری کے بعد پنجاب حکومت جلد ہی عدالتی عملے کی نئی بھرتیوں سے متعلق ان نئے رولز کا رسمی نوٹیفکیشن جاری کرے گی۔