LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر قطر پہنچ گئے، نواز شریف بھی ہمراہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز پر مشترکہ طریقہ کار میں امریکا رکاوٹ بن رہا ہے: اسماعیل بقائی ضلع دیامر میں سیلابی ریلوں سے تباہی، متعدد مکانات اور رابطہ پل بہہ گئے وفاقی آئینی عدالت کا تاریخی فیصلہ؛ نئی گج ڈیم کیس میں ہائی کورٹ کا حکم کالعدم یوکرینی صدر نے وزیراعظم یولیا کو عہدے سے ہٹا دیا، حکومت مستعفی وفاق اپنے نظام کی خامیوں کا بوجھ عوام پر ڈالنے کے بجائے انہیں دور کرے، سہیل آفریدی بنگلہ دیش میں بارشوں اور سیلاب سے تباہی، اموات کی تعداد 52 ہوگئی مریم نواز سے پرتگال کے سفیر کی ملاقات، تجارت، سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق آئینی عدالت کا پیرسوہاہ مونال ریسٹورنٹ گرانے کا فیصلہ کالعدم قرار قومی ٹیسٹ اسکواڈ دورۂ ویسٹ انڈیز کے لیے روانہ؛ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، انڈیکس 2 ہزار سے زائد پوائنٹس گر گیا یومِ شہدائے کشمیر،13 جولائی حق، قربانی اور استقامت کا عظیم دن ہے: محسن نقوی امریکا کے سرک، بندر عباس اور جاسک پر حملے، پہلی بار سمندری ڈرون استعمال وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر قطر روانہ پاسداران انقلاب نے کویت، بحرین اور اردن میں امریکی اڈوں پر میزائل داغ دیئے

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں: حافظ نعیم الرحمان

Web Desk

9 June 2026

کراچی: امیرِ جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے وفاقی اور سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے معاشی حب کراچی کے بنیادی مسائل، خصوصاً پانی، ٹرانسپورٹ اور روزگار کے بحران کو حل کرنے کے لیے آئندہ وفاقی بجٹ میں جرات مندانہ اور عملی اقدامات کیے جائیں، بصورتِ دیگر جماعت اسلامی بجٹ کے اگلے ہی روز ملک گیر ہڑتال کا اعلان کر سکتی ہے۔

ادارے کے مرکزی مینوئل کے مطابق، کراچی میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے ملک کی موجودہ سیاسی پوزیشن اور معاشی صورتحال پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت سیاسی جماعتیں عوامی مسائل سے نظریں چرا کر 28ویں آئینی ترمیم کا شوشہ چھوڑ رہی ہیں اور صرف اپنے ذاتی و سیاسی مفادات کے تحفظ کے لیے مہم جوئی میں مصروف ہیں، جبکہ عوام کے جنیون مسائل بدستور حل طلب ہیں۔

امیرِ جماعت اسلامی نے شہرِ قائد کے انفراسٹرکچر کی ابتر صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے درج ذیل اہم مطالبات پیش کیے: انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ کراچی کو روزانہ 260 ملین گیلن اضافی پانی فراہم کرنے والا یہ انتہائی اہم ترین منصوبہ تاحال نامکمل ہے۔ انہوں نے اس کے لیے فوری فنڈز ریلیز کرنے کا مطالبہ کیا۔ شہر میں سیوریج کی بہتری کے لیے ایس تھری پراجیکٹ اور پبلک ٹرانسپورٹ کے بحران کے خاتمے کے لیے ماس ٹرانزٹ گرین و ریڈ لائنز جیسے منصوبوں کو مروجہ بجٹ کا حصہ بنانے پر زور دیا۔

حافظ نعیم الرحمان نے پریس کانفرنس کے دوران سرکاری محکموں میں ملازمتوں اور ٹیکسیشن کے مینوئل پر بات کرتے ہوئے مروجہ اشاریے سامنے رکھے:سرکاری ملازمتیں کراچی میں 653 سرکاری نشستیں خالی پڑی ہیں، جن پر مقامی نوجوانوں کو بائی پاس کیا جا رہا ہے۔
ایف بی آر (FBR) ایف بی آر ایک نااہل ادارہ بن چکا ہے جہاں اربوں کی کرپشن ہے، مگر افسران کے لیے مہنگی گاڑیاں خریدی جا رہی ہیں۔ٹیکسیشن اور مافیاز حکومت نے غریب عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھا کر چند مخصوص مافیاز کو جنیون فائدہ پہنچایا ہے۔