LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان اور کویت کے درمیان ‘پروٹوکول معاہدہ 2026’ پر دستخط بلوچستان کی صورتحال بارے دفاعی جائزہ اجلاس، سیف سٹی پروجیکٹ فعال کرنے کا فیصلہ وزیر خزانہ سے اسیاڈ گروپ کے وفد کی ملاقات، پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کا عزم فیلڈ مارشل عاصم منیر سے کویت کے اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات، دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال یوکرین میں غیر ملکی فوجی دستے روس کے جائز فوجی اہداف بنیں گے، ماریہ زخارووا شاہ غلام قادر، راجہ فاروق حیدر نے بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزیراعظم نامزد کرنے کا فیصلہ مسترد کر دیا وزیر داخلہ کا نادرا میگا سینٹر میں پاسپورٹ آفس کی سہولت مہیا کرنے کا اعلان پاکستانی طالبات کیلئے بڑی خوشخبری، ٹیوشن فیس اور ہاسٹل سمیت اسکالرشپ کا اعلان پمز ہسپتال کے واقعے نے قوم کو غم میں مبتلا کر دیا: حافظ نعیم الرحمٰن بانی پی ٹی آئی کی شفا انٹرنیشنل منتقلی کا معاملہ: عظمیٰ خان کی توہینِ عدالت کی فوری سماعت کے لیے نئی درخواست دائر پمز حادثہ انتہائی دل خراش، کیٹی بندر پر ڈیپ سی پورٹ بنانا شہید بینظیر بھٹو کا خواب تھا: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے وفاقی وزیر صحت سے استعفے کا مطالبہ کردیا سانحہ پمز کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست دائر دو سال سے زائد عرصے میں ٹرائل شروع نہ ہوسکا، قتل کیس کے ملزم کو ضمانت مل گئی امریکا، ایران کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں: دفتر خارجہ

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں: حافظ نعیم الرحمان

Web Desk

9 June 2026

کراچی: امیرِ جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے وفاقی اور سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے معاشی حب کراچی کے بنیادی مسائل، خصوصاً پانی، ٹرانسپورٹ اور روزگار کے بحران کو حل کرنے کے لیے آئندہ وفاقی بجٹ میں جرات مندانہ اور عملی اقدامات کیے جائیں، بصورتِ دیگر جماعت اسلامی بجٹ کے اگلے ہی روز ملک گیر ہڑتال کا اعلان کر سکتی ہے۔

ادارے کے مرکزی مینوئل کے مطابق، کراچی میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے ملک کی موجودہ سیاسی پوزیشن اور معاشی صورتحال پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت سیاسی جماعتیں عوامی مسائل سے نظریں چرا کر 28ویں آئینی ترمیم کا شوشہ چھوڑ رہی ہیں اور صرف اپنے ذاتی و سیاسی مفادات کے تحفظ کے لیے مہم جوئی میں مصروف ہیں، جبکہ عوام کے جنیون مسائل بدستور حل طلب ہیں۔

امیرِ جماعت اسلامی نے شہرِ قائد کے انفراسٹرکچر کی ابتر صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے درج ذیل اہم مطالبات پیش کیے: انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ کراچی کو روزانہ 260 ملین گیلن اضافی پانی فراہم کرنے والا یہ انتہائی اہم ترین منصوبہ تاحال نامکمل ہے۔ انہوں نے اس کے لیے فوری فنڈز ریلیز کرنے کا مطالبہ کیا۔ شہر میں سیوریج کی بہتری کے لیے ایس تھری پراجیکٹ اور پبلک ٹرانسپورٹ کے بحران کے خاتمے کے لیے ماس ٹرانزٹ گرین و ریڈ لائنز جیسے منصوبوں کو مروجہ بجٹ کا حصہ بنانے پر زور دیا۔

حافظ نعیم الرحمان نے پریس کانفرنس کے دوران سرکاری محکموں میں ملازمتوں اور ٹیکسیشن کے مینوئل پر بات کرتے ہوئے مروجہ اشاریے سامنے رکھے:سرکاری ملازمتیں کراچی میں 653 سرکاری نشستیں خالی پڑی ہیں، جن پر مقامی نوجوانوں کو بائی پاس کیا جا رہا ہے۔
ایف بی آر (FBR) ایف بی آر ایک نااہل ادارہ بن چکا ہے جہاں اربوں کی کرپشن ہے، مگر افسران کے لیے مہنگی گاڑیاں خریدی جا رہی ہیں۔ٹیکسیشن اور مافیاز حکومت نے غریب عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھا کر چند مخصوص مافیاز کو جنیون فائدہ پہنچایا ہے۔