LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع صرف3سے 5روزکےلیے کی، جلد ڈیل چاہتےہیں، امریکی میڈیا اگلے 36سے 72گھنٹوں میں پاکستان میں امریکا ایران مذاکرات ممکن ہیں،ٹرمپ سفارتی میدان میں ہونے والی پیش رفت پر نظررکھے ہوئے ہیں، ایرانی وزارت خارجہ آبنائے ہرمزکے قریب 3بحری جہازوں پر فائرنگ، 2جہازایرانی تحویل میں وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ایرانی سفیر کی ملاقات: علاقائی امن اور دوطرفہ تعاون پر اہم گفتگو برطانیہ کی امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستان کے ثالثی کردار کی حمایت، اسحاق ڈار اور برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات حکومت اور آئی ایم ایف میں نئی آٹو پالیسی پر اتفاق، ڈیوٹیز میں کمی کا فیصلہ پہلگام واقعہ کے ایک سال بعد بھی بھارت شواہد پیش نہ کر سکا: عطاء اللہ تارڑ ایران جنگ کی مخالفت: ایرانی نژاد امریکی رکن کانگریس یاسمین انصاری کو دھمکیاں زمین کے قدرتی وسائل انسانی زندگی کی بقا کیلئے ناگزیر ہیں: وزیراعظم جنگ کیلئے تیار، جنگ بندی کے دوران صلاحیتیں مزید بہتر بنا رہے ہیں: سینٹ کام ایران سے حقائق پر بات کرنے کے بجائے اسے ٹرخایا گیا، دھمکیاں بھی دی گئیں: روس اقوام متحدہ کا جنگ بندی میں توسیع کا خیر مقدم، پاکستانی کوششوں کی مکمل حمایت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا دورہ پاکستان منسوخ، وائٹ ہاؤس نے تصدیق کردی ایران نے مذاکرات کے حوالے سے امریکہ کی  شرائط مسترد کردیں: ایرانی سرکاری میڈیا

عظیم انقلابی شاعر حبیب جالب کو دنیا سے رخصت ہوئے 33 برس بیت گئے

Web Desk

12 March 2026

عظیم انقلابی شاعر حبیب جالب کو دنیا سے رخصت ہوئے 33 سال گزر گئے۔

حبیب جالب 24 مارچ 1928ء کو مشرقی پنجاب کے شہر ہوشیارپور میں پیدا ہوئے۔ صرف 15 سال کی عمر میں ہی انہوں نے رومانوی شعر کہنے کا آغاز کیا۔ قیام پاکستان کے بعد جالب کراچی منتقل ہوئے اور پھر لاہور آ گئے، جہاں انہوں نے معاشرتی ناانصافیوں کو قریب سے دیکھا اور مزاحمت و احتجاج ان کی شاعری کا بنیادی موضوع بن گیا۔

شاعر نے ہر دور میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، مگر کسی بھی حکمران کے سامنے جھکنے سے انکار کیا۔ انہوں نے فلموں کے لیے بھی مزاحمتی اور رومانوی گیت لکھے جو عوام میں بے حد مقبول ہوئے۔

فیض احمد فیض نے حبیب جالب کو “عوامی شاعر” قرار دیا۔ ان کی مشہور شعری تصانیف میں شامل ہیں: برگ آوارہ، سر مقتل، عہد ستم، ذکر بہتے خون کا، گوشے میں قفس کے، حرف حق، اس شہر خرابی، حرف سردار۔

ساری زندگی فقیری میں گزارنے والے یہ مرد قلندر شاعر 12 مارچ 1993ء کو 65 برس کی عمر میں اس جہان فانی سے رخصت ہوئے۔ حکومت پاکستان نے ان کی وفات کے 16 برس بعد انہیں نشان امتیاز کے اعزاز سے نوازا۔