LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران میں صدر مسعود پزشکیان کی ہدایت پر انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا فیصلہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کی امید، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا زبردست تیزی پر اختتام سوئی گیس کا عید الاضحیٰ کے لیے نیا شیڈول جاری، صارفین کو سہولت دینے کا اعلان پاکستان میں گردشی قرض، غربت اور بے روزگاری میں اضافہ پٹرول پر مقررہ ہدف سے زیادہ لیوی وصول کی جا رہی ہے، قائمہ کمیٹی میں انکشاف رضوان کی کپتانی میں ٹیم بہتر نتائج نہ دے سکی، ہیڈ کوچ مائیک ہیسن امریکا ایران امن معاہدے کی توقع؛ خام تیل کی عالمی قیمتوں میں بڑی کمی امریکی صدر کا سعودی عرب، قطر اور پاکستان سمیت مسلم ممالک سے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کا مطالبہ 2سال میں پیٹرولیم لیوی سے 2 ہزار 725 ارب وصول، رقم آئی ایم ایف کے 2 قرض پروگراموں سے بھی زیادہ نکلی پاکستان کی پہلی شیڈو پالیسی دستاویزات جاری، نجی شعبے کی ترقی پر زور فیلڈ مارشل نے مذاکرات نتیجہ خیز بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا: امریکی ٹی وی اسلام آباد: وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی 15 دستاویزات پر دستخط امریکا کے ساتھ فریم ورک پر پہنچ گئے، وفد ابھی پاکستان بھیجنے کا ارادہ نہیں: ایران پاکستان اور چین کا قومی مفادات پر ایک دوسرے کی مکمل حمایت کا اعلان

یونان میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد

Web Desk

9 April 2026

یونان نے بچوں کی ذہنی صحت کے تحفظ کے لیے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر مکمل پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق یونانی وزیراعظم کیریاکوس میتسوتاکس نے اعلان کیا ہے کہ اس فیصلے کا اطلاق یکم جنوری 2027 سے ہوگا۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد بچوں میں سوشل میڈیا کی لت، نیند کی کمی، اور بڑھتی ہوئی ذہنی بے چینی (Anxiety) جیسے سنگین مسائل پر قابو پانا ہے۔

یونان کا یہ فیصلہ آسٹریلیا کی جانب سے 16 سال سے کم عمر بچوں پر لگائی گئی حالیہ پابندی کے بعد سامنے آیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر بچوں کو ڈیجیٹل دنیا کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے سخت قوانین بنائے جا رہے ہیں۔ یونانی حکام نے یورپی یونین سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ اس حساس معاملے پر پورے یورپی بلاک میں ایک مشترکہ اور موثر نظام متعارف کرایا جائے۔ حکام کا ماننا ہے کہ اس قانونی پابندی سے بچوں کو ایک صحت مند اور محفوظ ماحول فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔