LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسلام آبادمیں پاک، سعودیہ، ترکیہ ، مصرکی وزارتِ خارجہ کے سینئرحکام کا اہم اجلاس جنگ بندی کےلیے ثالثی نہیں کررہے، پاکستانی کردارکی حمایت کرتے ہیں، قطر جنگ میں حصہ لینے والے تمام ممالک نقصانات پرہرجانہ اداکریں ، ایران کا مطالبہ فرانسیسی صدرکا امریکی و ایرانی صدور سے رابطہ، غلط فہمیاں دورکرنے کا مطالبہ بحری ناکہ بندی کا امریکی فیصلہ غیرقانونی اور اشتعال انگیز، ایرانی سفیررضاامیری پاکستان میں معاشی شرح نموسست، مہنگائی میں اضافے کا خدشہ،آئی ایم ایف کی آؤٹ لک رپورٹ صدرزرداری سے وزیراعظم کی ملاقات، پاک ایران مذاکرات کے تمام پہلوؤں پر اعتماد میں لیا وزیراعظم شہباز شریف کل سعودی عرب روانہ ہوں گے؛ ایک ماہ میں دوسرا دورہ اسحاق ڈار کی یورپی یونین خارجہ امور سے رابطہ، پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا گیا پاک فضائیہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس مضبوط فورس ہے: نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف امریکہ ایران مذاکرات کی ناکامی شرمناک ہے، مسلم ممالک متحد ہوں تو دشمن کچھ نہیں؛ امیر جماعت اسلامی اسحاق ڈار کا کینیڈین ہم منصب سے رابطہ، امریکا ایران مذاکرات پر تبادلہ خیال مشرقِ وسطیٰ بحران کے اثرات؛ ملک میں بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا اہم انٹرویو؛ پاکستان کا ایک ارب ڈالر کے پانڈا بانڈز اور نئے مالیاتی ذرائع کی تلاش کا اعلان واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان براہِ راست مذاکرات آج ہوں گے

یونان میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد

Web Desk

9 April 2026

یونان نے بچوں کی ذہنی صحت کے تحفظ کے لیے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر مکمل پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق یونانی وزیراعظم کیریاکوس میتسوتاکس نے اعلان کیا ہے کہ اس فیصلے کا اطلاق یکم جنوری 2027 سے ہوگا۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد بچوں میں سوشل میڈیا کی لت، نیند کی کمی، اور بڑھتی ہوئی ذہنی بے چینی (Anxiety) جیسے سنگین مسائل پر قابو پانا ہے۔

یونان کا یہ فیصلہ آسٹریلیا کی جانب سے 16 سال سے کم عمر بچوں پر لگائی گئی حالیہ پابندی کے بعد سامنے آیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر بچوں کو ڈیجیٹل دنیا کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے سخت قوانین بنائے جا رہے ہیں۔ یونانی حکام نے یورپی یونین سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ اس حساس معاملے پر پورے یورپی بلاک میں ایک مشترکہ اور موثر نظام متعارف کرایا جائے۔ حکام کا ماننا ہے کہ اس قانونی پابندی سے بچوں کو ایک صحت مند اور محفوظ ماحول فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔