LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاک بحریہ کا فضا سے سطح سمندر پر مار کرنے والے تیمور کروز میزائل کا کامیاب تجربہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں میں تیزی کیلئے نیا نظام منظور چینی سفیر کی اسحاق ڈار سے ملاقات: امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستان کے کردار کی تعریف، مکمل اعتماد کا اظہار آئی ایم ایف کا شکنجہ مزید سخت: 11 نئی شرائط عائد، پاکستان کی 2027 تک اصلاحات مکمل کرنے کی یقین دہانی حج فلائٹ آپریشن میں تیزی، مزید 3510 عازمین آج سعودی عرب روانہ ہوں گے امریکا کا تجارتی جہاز پر قبضہ،ایران نے اقوام متحدہ میں شکایت درج کروا دی عالمی سفارت کاری کا مرکز اسلام آباد: ایران امریکہ مذاکرات کے لیے ریڈ زون سیل سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو مزید 1 ارب ڈالر کے فنڈز موصول پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر تیزی کا رجحان خیبرپختونخوا کابینہ کا آج ہونے والا اجلاس ملتوی ٹرمپ مذاکرات کی میز کو ہتھیار ڈالنے میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں: باقر قالیباف ایران سے ہونے والا معاہدہ جلد اور اوباما دور کے معاہدے سے بہتر ہوگا: امریکی صدر اسرائیل اور لبنان کے درمیان امن مذاکرات جمعرات کو واشنگٹن میں ہوں گے ریڈ زون کے اداروں میں 21 اپریل کو ورک فرام ہوم کا فیصلہ : نوٹیفکیشن جاری ایرانی وفد کا امریکاسے مذاکرات کیلیے اسلام آبادآنے کاامکان، برطانوی نیوزایجنسی

یونان میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد

Web Desk

9 April 2026

یونان نے بچوں کی ذہنی صحت کے تحفظ کے لیے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر مکمل پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق یونانی وزیراعظم کیریاکوس میتسوتاکس نے اعلان کیا ہے کہ اس فیصلے کا اطلاق یکم جنوری 2027 سے ہوگا۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد بچوں میں سوشل میڈیا کی لت، نیند کی کمی، اور بڑھتی ہوئی ذہنی بے چینی (Anxiety) جیسے سنگین مسائل پر قابو پانا ہے۔

یونان کا یہ فیصلہ آسٹریلیا کی جانب سے 16 سال سے کم عمر بچوں پر لگائی گئی حالیہ پابندی کے بعد سامنے آیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر بچوں کو ڈیجیٹل دنیا کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے سخت قوانین بنائے جا رہے ہیں۔ یونانی حکام نے یورپی یونین سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ اس حساس معاملے پر پورے یورپی بلاک میں ایک مشترکہ اور موثر نظام متعارف کرایا جائے۔ حکام کا ماننا ہے کہ اس قانونی پابندی سے بچوں کو ایک صحت مند اور محفوظ ماحول فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔