چین کا انسان کو چاند پر اتارنے کےلیے مشن کامیابی سے روانہ
Web Desk
25 May 2026
چین نے خلائی تسخیر کی دنیا میں ایک اور بڑی کامیابی سمیٹتے ہوئے اپنا جدید ترین خلائی مشن شینژو-23 (Shenzhou-23) کامیابی سے خلا میں روانہ کر دیا ہے۔ یہ مشن چین کے اس عظیم الشان عزم کی جانب ایک انتہائی اہم پیشرفت ہے جس کے تحت وہ سال 2030 تک انسان کو چاند کی سرزمیں پر اتارنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔چین کے شمال مغربی صحرائے گوبی میں واقع جیوکوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر (Jiuquan Satellite Launch Center) سے طاقتور لانگ مارچ 2-ایف (Long March 2-F) راکٹ کے ذریعے روانہ ہونے والا یہ خلائی جہاز زمین کے مدار میں کامیابی سے داخل ہوچکا ہے۔ چائنا مینڈ اسپیس ایجنسی (CMSA) نے مشن کے آغاز کو مکمل کامیاب قرار دیتے ہوئے تمام خلابازوں کی صحت اور خیریت کی تصدیق کی ہےشینژو-23 مشن کئی حوالوں سے سائنسی تاریخ بدلنے جا رہا ہے۔ اس مشن کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے چینی خلائی تاریخ میں پہلی بار کوئی خلاباز خلائی مدار میں پورا ایک سال (365 دن) مسلسل قیام کرے گا۔اس طویل ترین قیام کا مقصد مائیکرو گریویٹی (کششِ ثقل کی کمی) کے انسانی جسم، ہڈیوں کی کثافت اور پٹھوں کی ساخت پر پڑنے والے طویل مدتی اثرات کا باریک بینی سے سائنسی مطالعہ کرنا ہے۔یہ تحقیق مستقبل میں چاند کی سطح پر طویل قیام اور مریخ (Mars) پر بھیجے جانے والے انسان بردار مشنز کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔
اس خلائی سفر پر روانہ ہونے والے تین رکنی عملے میں سرفہرست 43 سالہ لائی کا یِنگ (Lai Ka-ying) ہیں، جو ہانگ کانگ کی تاریخ کی پہلی خلاباز بن گئی ہیں۔ خلا میں جانے سے قبل وہ ہانگ کانگ پولیس فورس کا حصہ رہ چکی ہیں۔ ان کے ہمراہ مشن میں درج ذیل ارکان شامل ہیں:
-
لائی کا یِنگ: ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والی پہلی خاتون خلاباز (سابق پولیس اہلکار)۔
-
ژو یانگ ژو: مایہ ناز خلائی انجینیئر۔
-
ژانگ ژی یوآن: چینی ایئر فورس کے سابق پائلٹ۔
پاکستان کے لیے اعزاز اور چین کے آئندہ کے بڑے اہداف
پاکستان کے لیے یہ مشن انتہائی فخر کا باعث ہے، کیونکہ چین رواں سال (2026) کے آخر تک اپنے مستقل خلائی اسٹیشن ’تیانگونگ‘ (Tiangong Space Station) پر جس پہلے غیر ملکی خلاباز کا استقبال کرنے کی باقاعدہ منصوبہ بندی کر رہا ہے، اس کا تعلق پاکستان سے ہے۔ یہ پاک چین دوستی اور خلائی تعاون کے شعبے میں ایک نئی تاریخ رقم کرے گا۔
علاوہ ازیں، چین اپنے خلائی پروگرام کو تیز ترین رفتار سے وسعت دے رہا ہے۔ اسی سال 2026 میں چین اپنے اگلی نسل کے گہرے خلائی جہاز ’مینگ ژو‘ (Mengzhou) کا پہلا تجرباتی فلائٹ ٹیسٹ بھی کرنے جا رہا ہے۔ یہ وہی جدید ترین خلائی جہاز ہے جو مستقبل قریب میں چینی خلابازوں کو چاند کی سطح پر لے جانے اور وہاں سے محفوظ واپس لانے کا اہم ترین فریضہ انجام دے گا
متعلقہ عنوانات
سپارکو نے پاکستان سپیس بیسڈ آگمینٹیشن سسٹم متعارف کرا دیا
8 November 2026
میٹا نے متنازع تبدیلی کے حوالے سے فیصلہ واپس لے لیا
8 November 2026
پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے کے لیے 6 کمپنیاں رجسٹرڈ
7 November 2026
میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76 ہزار اکاؤنٹس بند کردیے
6 November 2026
خوش مزاج بچی کو خودکشی کے دہانے پہنچا دیا: والدین کا گوگل پر مقدمہ
6 November 2026
پاکستان اور روس کا آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور جدید کمپیوٹنگ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
6 November 2026
امریکی کمپنی کا رات کو سورج کی روشنی بیچنے کا منصوبہ
6 November 2026
خلائی دوربین کا 22 سالہ مشن اختتام پذیر، ملبہ زمین پر گرنے کا خدشہ
6 November 2026