LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیویارک میں ملازمین کے حقوق کی پامالی پر والگرینز سمیت 4 کمپنیوں کو 21 لاکھ ڈالر جرمانہ؛ 1600 سے زائد ورکرز کو ہرجانہ ملے گا ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں، معاہدہ ترجیح ہے: ٹرمپ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے: فیلڈ مارشل صدرمملکت کرغزستان پہنچ گئے، ایئر پورٹ پر گارڈ آف آنرز پیش ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا: ٹرمپ کا ایک بار پھر دعویٰ اسحاق ڈار کی یو این سیکرٹری جنرل عہدے کی امیدوار سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، 6 فلسطینی شہید سندھ طاس معاہدے پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، جنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے: بلاول بھٹو اسرائیلی وزیرِ دفاع کی ایرانی قیادت ختم کرنے کی دھمکی روس کا یوکرین آپریشن ایک حقیقی جنگ کی شکل اختیار کر رہا ہے: کریملن ایران میں ہفتۂ سوگ کے باعث امن مذاکرات مؤخر کیے: ٹرمپ منی پور میں کشیدگی کی نئی لہر، مودی سرکار حالات پر قابو پانے میں مکمل ناکام امریکہ ہی اسرائیل کا واحد طاقتور اتحادی نہیں، ’ایک چھوٹا سا ملک انڈیا‘ بھی ہے: نیتن یاہو ایران کا تہران کی فضائی حدود مکمل طور پر بند رکھنے کا اعلان ایران اور قطری حکام کی دوحہ میں بیٹھک، بحری تجارت بحال کرنے کا اعلان

لیتھیم نکالنے کیلئے نئی ٹیکنالوجی تیار

Web Desk

25 May 2026

عالمی سطح پر الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کی پیداوار میں بے پناہ تیزی اور ونڈ و سولر پاور جیسے کلین انرجی منصوبوں کے لیے بڑے بیٹری سسٹمز کی تعمیر کے باعث لیتھیم (معروف بہ وائٹ گولڈ) کی مانگ اس وقت آسمان کو چھو رہی ہے۔ تاہم، روایتی طور پر لیتھیم کی تیاری کو اب بھی ایک انتہائی سست، مہنگا اور ماحولیات کے لیے شدید نقصان دہ عمل سمجھا جاتا ہے۔

اس دیرینہ عالمی مسئلے کا حل تلاش کرتے ہوئے اب کولمبیا یونیورسٹی اسکول آف انجینئرنگ اینڈ سائنسز (Columbia Engineering) کے محققین نے لیتھیم نکالنے کی ایک ایسی جدید اور انقلابی ٹیکنالوجی تیار کر لی ہے، جو اس پورے عمل کو نہ صرف تیز اور کم آلودہ بنائے گی بلکہ اس کی افادیت کو بھی دگنا کر دے گی۔

معروف سائنسی جرنل ’جول‘ (Joule) میں شائع ہونے والی اس بریک تھرو تحقیق کے مطابق، محققین نے اس نئے طریقہ کار کو ’سوئچ ایبل سالوینٹ سلیکٹو ایکسٹریکشن‘ (Switchable Solvent Selective Extraction – S3E) کا نام دیا ہے۔

  • درجہ حرارت پر ردِعمل: یہ ٹیکنالوجی ایک ایسے خصوصی سالوینٹ (مائع) پر مبنی ہے جو مخصوص درجہ حرارت پر سمارٹ ردِعمل دیتا ہے۔

  • براہِ راست علیحدگی: یہ سالوینٹ زیرِ زمین موجود شدید نمکین پانی (Brine) سے کسی روایتی فلٹریشن یا مہنگے کیمیائی عمل کے بغیر، براہِ راست لیتھیم کو کھینچ کر الگ کر لیتا ہے۔

  • کم مقدار میں بھی مؤثر: محققین کے مطابق یہ طریقہ کار ان مائع ذخائر پر بھی انتہائی مؤثر ثابت ہوا جہاں پانی میں لیتھیم کی مقدار نہ ہونے کے برابر تھی یا وہ دیگر معدنیات کے ساتھ اس طرح ملی ہوئی تھی کہ روایتی طریقوں سے اسے الگ کرنا ناممکن سمجھا جا رہا تھا۔

تحقیقی ٹیم کی جانب سے کیے گئے تجربات کے دوران S3E نظام نے روایتی مائننگ فلٹرز کے مقابلے میں حیران کن اور تیز ترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا:

موازنہ برائے لیتھیم علیحدگی رفتار میں اضافہ
بمقابلہ سوڈیم (Sodium) 10 گنا زیادہ تیز رفتار
بمقابلہ پوٹاشیم (Potassium) 12 گنا زیادہ تیز رفتار

اس کے علاوہ، یہ ٹیکنالوجی میگنیشیم (Magnesium) کو بھی انتہائی مؤثر انداز میں علیحدہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ واضح رہے کہ میگنیشیم لیتھیم والے نمکین ذخائر میں پایا جانے والا سب سے مشکل اور عام آلودہ عنصر (Contaminant) سمجھا جاتا ہے جو لیتھیم کی کوالٹی خراب کرتا ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی میں ایک مخصوص کیمیائی عمل کے ذریعے ان غیر ضروری اور زہریلے مادوں کو صفائی سے الگ کر دیا جاتا ہے۔