LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

لاکھوں سال پرانے قدیم ترین لکڑی کے اوزار دریافت

Web Desk

27 January 2026

یونان کے Megalopolis علاقے میں ماہرین آثار قدیمہ کو لکڑی کے دو اوزار ملے ہیں جو دنیا کے قدیم ترین لکڑی کے ٹولز قرار دیے جا سکتے ہیں۔

ان میں سے ایک 80 سینٹی میٹر لمبی پتلی چھڑی ہے جو ممکنہ طور پر کیچڑ کھودنے کے لیے استعمال ہوتی ہوگی، جبکہ دوسرا اوزار پتھروں کے ٹولز کو تیز کرنے میں مددگار ہو سکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق لکڑی کے اوزار محفوظ رکھنا بہت مشکل ہے کیونکہ لکڑی جلد خراب ہو جاتی ہے، مگر یہ اوزار تلچھٹ میں دفن اور نم ماحول کی وجہ سے محفوظ رہے۔

ابھی تک انسانی باقیات دریافت نہیں ہوئیں، اس لیے یہ واضح نہیں کہ ان اوزاروں کو Neanderthals یا ابتدائی انسانی آباؤ اجداد استعمال کرتے تھے۔

یہ دریافت جرنل Proceedings of the National Academy of Sciences میں شائع ہوئی۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس مقام پر مزید قدیم نوادرات دریافت ہونے کے امکانات موجود ہیں۔