LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا کا چین پر ٹیرف سے بچنے کے لیے بڑے پیمانے پر تجارتی دھوکے کا الزام کیرولائن لیوٹ نے استعفیٰ صدر ٹرمپ سے دلبرداشتہ ہونے پر دیا: ایرانی سفارتخانہ ٹرمپ نے اسلام آباد مفاہمت کے ذریعے ایران کو تسلیم کر لیا: باقر قالیباف ٹرمپ آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکیاں دینا بند کریں، اپنی سکیورٹی کی فکر کریں: ابراہیم عزیزی امریکی سینٹ کام کمانڈر بریڈ کوپر کا 10 روزہ مشرق وسطیٰ کا دورہ مکمل استاد نصرت فتح علی خان کو مداحوں سے بچھڑے 29 برس بیت گئے بابائے اردو مولوی عبدالحق کی 65ویں برسی آج منائی جا رہی ہے اسرائیل کا جنوبی لبنان میں سیز فائر کے بعد سب سے مہلک ترین حملہ، 11 افراد شہید جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کو جنگ باضابطہ ختم کرنے کی تجویز پیش کر دی ایران نے فرانس کو ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے خبردار کر دیا آبنائے ہرمز کی بندش کسی کے مفاد میں نہیں، دوبارہ کھولنا ترجیح ہے: ترک صدر ایران نے امریکی فوجیوں کی تدفین کیلئے جگہ مختص کر دی، 5 ہزار قبروں کی گنجائش ہوگی حوثی باغیوں کے حملوں کے بعد یمن کی المخا بندرگاہ نے آپریشن معطل کر دیا قطر نے ایرانی طیاروں کے 3 پائلٹس کی گرفتاری کے دعوؤں کی تردید کر دی ایران کو اپنے 3 پائلٹس قطر میں قید ہونے کا شبہ، ریڈ کراس سے مدد کی اپیل

مالی سال 27ء میں 44 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر کا تخمینہ، رواں سال کے اختتام پر اسٹیٹ بینک قرض دینے کے قابل ہوگا: گورنر اسٹیٹ بینک

Web Desk

3 July 2026

گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملکی معیشت، زرمبادلہ کے ذخائر اور بینکنگ سیکٹر کی اصلاحات کے حوالے سے اہم پیش رفت اور مستقبل کے اہداف کا اعلان کیا ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق، آئندہ مالی سال 2027ء میں سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر (Remittances) کا حجم 44 ارب ڈالر تک رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک مضبوط سہارا ثابت ہوگا۔

گورنر نے زرمبادلہ کے ذخائر پر بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ عالمی بینچ مارک کے اصولوں کے مطابق پاکستان کے پاس کم از کم 3 ماہ کی درآمدات (Imports) کے برابر زرمبادلہ کے ذخائر ہونے چاہیئیں، اور اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے ایک مثبت پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اسٹیٹ بینک کی واجب الادا ادائیگیاں (Liabilities) اب کم ہو کر صرف 95 کروڑ ڈالر رہ گئی ہیں۔

معیشت کی بحالی کے حوالے سے گورنر اسٹیٹ بینک نے ایک اہم اور خوش آئند نوید سناتے ہوئے کہا کہ رواں مالی سال کے اختتام تک مرکزی بینک کی مالی پوزیشن اتنی مستحکم ہو جائے گی کہ اسٹیٹ بینک دوبارہ قرضے دینے کا متحمل (اہل) ہو سکے گا۔

اس کے علاوہ، کرنسی مارکیٹ کو دستاویزی اور ریگولیٹ کرنے کے لیے کیے جانے والے کریک ڈاؤن اور اصلاحات کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں کام کرنے والی 166 ایکسچینج کمپنیوں میں نمایاں کمی کر دی گئی ہے، اور اب ان کی تعداد کو محدود کر کے صرف 18 ایکسچینج کمپنیوں تک کر دیا گیا ہے تاکہ مارکیٹ میں شفافیت برقرار رکھی جا سکے۔