LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان اور قطرموجودہ کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں: اسماعیل بقائی عمران خان کی صحت اور جیل ملاقاتوں کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں مکمل، پولنگ ڈے کا فیصلہ 20 اگست کو متوقع پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا دھرنا دوسرے روز میں داخل پشاور ہائیکورٹ کے 4 مستقل ہونے والے ججز نے حلف اٹھا لیا سکیورٹی فورسز کا بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 2 دہشت گرد ہلاک طالبان حکومت خود خطے کو غیر مستحکم کرنے کیلئے پراکسی بن چکی ہے: عاصم افتخار عمرہ زائرین اور ورکرز کیلئے پاکستانی سفارت خانے کی اہم ہدایات وفاقی حکومت کے قرضوں میں 18ہزار ارب روپے سے زائد کا اضافہ آئل ٹینکرز پر حالیہ حملے، آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں شدید کمی ٹرمپ کا جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کم کرنے کا اعلان آئرلینڈ میں خوفناک ٹریفک حادثہ، 5 نوجوان ہلاک، 4 افراد زخمی سعودی عرب میں بدھ تک شدید گرمی، درجہ حرارت 50 ڈگری تک پہنچنے کی پیشگوئی عراق میں بس اور ٹرک میں تصادم، 7 سیاح جاں بحق، 23 زخمی آبنائے ہرمز میں تیل کے اخراج سے ماحولیاتی نقصان کھربوں ڈالر ہو سکتا ہے: ایران

مالی سال 27ء میں 44 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر کا تخمینہ، رواں سال کے اختتام پر اسٹیٹ بینک قرض دینے کے قابل ہوگا: گورنر اسٹیٹ بینک

Web Desk

3 July 2026

گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملکی معیشت، زرمبادلہ کے ذخائر اور بینکنگ سیکٹر کی اصلاحات کے حوالے سے اہم پیش رفت اور مستقبل کے اہداف کا اعلان کیا ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق، آئندہ مالی سال 2027ء میں سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر (Remittances) کا حجم 44 ارب ڈالر تک رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک مضبوط سہارا ثابت ہوگا۔

گورنر نے زرمبادلہ کے ذخائر پر بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ عالمی بینچ مارک کے اصولوں کے مطابق پاکستان کے پاس کم از کم 3 ماہ کی درآمدات (Imports) کے برابر زرمبادلہ کے ذخائر ہونے چاہیئیں، اور اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے ایک مثبت پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اسٹیٹ بینک کی واجب الادا ادائیگیاں (Liabilities) اب کم ہو کر صرف 95 کروڑ ڈالر رہ گئی ہیں۔

معیشت کی بحالی کے حوالے سے گورنر اسٹیٹ بینک نے ایک اہم اور خوش آئند نوید سناتے ہوئے کہا کہ رواں مالی سال کے اختتام تک مرکزی بینک کی مالی پوزیشن اتنی مستحکم ہو جائے گی کہ اسٹیٹ بینک دوبارہ قرضے دینے کا متحمل (اہل) ہو سکے گا۔

اس کے علاوہ، کرنسی مارکیٹ کو دستاویزی اور ریگولیٹ کرنے کے لیے کیے جانے والے کریک ڈاؤن اور اصلاحات کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں کام کرنے والی 166 ایکسچینج کمپنیوں میں نمایاں کمی کر دی گئی ہے، اور اب ان کی تعداد کو محدود کر کے صرف 18 ایکسچینج کمپنیوں تک کر دیا گیا ہے تاکہ مارکیٹ میں شفافیت برقرار رکھی جا سکے۔