LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران میں صدر مسعود پزشکیان کی ہدایت پر انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا فیصلہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کی امید، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا زبردست تیزی پر اختتام سوئی گیس کا عید الاضحیٰ کے لیے نیا شیڈول جاری، صارفین کو سہولت دینے کا اعلان پاکستان میں گردشی قرض، غربت اور بے روزگاری میں اضافہ پٹرول پر مقررہ ہدف سے زیادہ لیوی وصول کی جا رہی ہے، قائمہ کمیٹی میں انکشاف رضوان کی کپتانی میں ٹیم بہتر نتائج نہ دے سکی، ہیڈ کوچ مائیک ہیسن امریکا ایران امن معاہدے کی توقع؛ خام تیل کی عالمی قیمتوں میں بڑی کمی امریکی صدر کا سعودی عرب، قطر اور پاکستان سمیت مسلم ممالک سے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کا مطالبہ 2سال میں پیٹرولیم لیوی سے 2 ہزار 725 ارب وصول، رقم آئی ایم ایف کے 2 قرض پروگراموں سے بھی زیادہ نکلی پاکستان کی پہلی شیڈو پالیسی دستاویزات جاری، نجی شعبے کی ترقی پر زور فیلڈ مارشل نے مذاکرات نتیجہ خیز بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا: امریکی ٹی وی اسلام آباد: وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی 15 دستاویزات پر دستخط امریکا کے ساتھ فریم ورک پر پہنچ گئے، وفد ابھی پاکستان بھیجنے کا ارادہ نہیں: ایران پاکستان اور چین کا قومی مفادات پر ایک دوسرے کی مکمل حمایت کا اعلان

پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ آبادی پر ڈیٹا کا فقدان ہے، جرمن ماہر

Web Desk

10 April 2026

ممتاز جرمن ماہر ڈاکٹر یان فرایئہارٹ نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں قیمتی زرعی اراضی تیزی سے دریا برد ہو رہی ہے، جس کے سماجی و معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر تحقیق کی ضرورت ہے۔ جامعہ کراچی کے بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس) میں یونیسکو چیئر کے تحت منعقدہ ایک خصوصی لیکچر میں انہوں نے بنگلہ دیش میں ماحولیاتی شدت اور انسانی نقل مکانی پر اپنی طویل تحقیق کے نتائج پیش کیے۔ ای ٹی ایچ زیورخ سے وابستہ ڈاکٹر یان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش اور پاکستان دونوں کو یکساں چیلنجز کا سامنا ہے، جہاں طویل دریائی اراضی سیلاب کی وجہ سے کٹاؤ کا شکار ہے اور موسمیاتی تبدیلیاں بڑے پیمانے پر آبادی کی نقل مکانی کا سبب بن رہی ہیں۔

ڈاکٹر یان فرایئہارٹ نے اپنی تحقیق کو سادہ انداز میں پیش کرتے ہوئے شرکا کو بتایا کہ کئی برسوں کے سروے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ دریائی کٹاؤ محض جغرافیائی تبدیلی نہیں بلکہ ایک انسانی بحران ہے، جو زرعی اراضی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ غربت میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بنگلہ دیش میں کی گئی تحقیق پاکستان کے لیے دو طرح سے مفید ہو سکتی ہے: اول، یہ دریائی کٹاؤ کی سائنسی وجوہات کو سمجھنے میں مدد دے گی، اور دوم، یہ موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد کی آباد کاری کے لیے پالیسی سازی میں معاون ثابت ہوگی۔ ماہرین نے اس لیکچر کو پاکستان میں ماحولیاتی تحفظ اور وسائل کے انتظام کے حوالے سے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا ہے۔