LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاک بحریہ کا فضا سے سطح سمندر پر مار کرنے والے تیمور کروز میزائل کا کامیاب تجربہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں میں تیزی کیلئے نیا نظام منظور چینی سفیر کی اسحاق ڈار سے ملاقات: امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستان کے کردار کی تعریف، مکمل اعتماد کا اظہار آئی ایم ایف کا شکنجہ مزید سخت: 11 نئی شرائط عائد، پاکستان کی 2027 تک اصلاحات مکمل کرنے کی یقین دہانی حج فلائٹ آپریشن میں تیزی، مزید 3510 عازمین آج سعودی عرب روانہ ہوں گے امریکا کا تجارتی جہاز پر قبضہ،ایران نے اقوام متحدہ میں شکایت درج کروا دی عالمی سفارت کاری کا مرکز اسلام آباد: ایران امریکہ مذاکرات کے لیے ریڈ زون سیل سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو مزید 1 ارب ڈالر کے فنڈز موصول پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر تیزی کا رجحان خیبرپختونخوا کابینہ کا آج ہونے والا اجلاس ملتوی ٹرمپ مذاکرات کی میز کو ہتھیار ڈالنے میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں: باقر قالیباف ایران سے ہونے والا معاہدہ جلد اور اوباما دور کے معاہدے سے بہتر ہوگا: امریکی صدر اسرائیل اور لبنان کے درمیان امن مذاکرات جمعرات کو واشنگٹن میں ہوں گے ریڈ زون کے اداروں میں 21 اپریل کو ورک فرام ہوم کا فیصلہ : نوٹیفکیشن جاری ایرانی وفد کا امریکاسے مذاکرات کیلیے اسلام آبادآنے کاامکان، برطانوی نیوزایجنسی

پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ آبادی پر ڈیٹا کا فقدان ہے، جرمن ماہر

Web Desk

10 April 2026

ممتاز جرمن ماہر ڈاکٹر یان فرایئہارٹ نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں قیمتی زرعی اراضی تیزی سے دریا برد ہو رہی ہے، جس کے سماجی و معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر تحقیق کی ضرورت ہے۔ جامعہ کراچی کے بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس) میں یونیسکو چیئر کے تحت منعقدہ ایک خصوصی لیکچر میں انہوں نے بنگلہ دیش میں ماحولیاتی شدت اور انسانی نقل مکانی پر اپنی طویل تحقیق کے نتائج پیش کیے۔ ای ٹی ایچ زیورخ سے وابستہ ڈاکٹر یان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش اور پاکستان دونوں کو یکساں چیلنجز کا سامنا ہے، جہاں طویل دریائی اراضی سیلاب کی وجہ سے کٹاؤ کا شکار ہے اور موسمیاتی تبدیلیاں بڑے پیمانے پر آبادی کی نقل مکانی کا سبب بن رہی ہیں۔

ڈاکٹر یان فرایئہارٹ نے اپنی تحقیق کو سادہ انداز میں پیش کرتے ہوئے شرکا کو بتایا کہ کئی برسوں کے سروے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ دریائی کٹاؤ محض جغرافیائی تبدیلی نہیں بلکہ ایک انسانی بحران ہے، جو زرعی اراضی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ غربت میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بنگلہ دیش میں کی گئی تحقیق پاکستان کے لیے دو طرح سے مفید ہو سکتی ہے: اول، یہ دریائی کٹاؤ کی سائنسی وجوہات کو سمجھنے میں مدد دے گی، اور دوم، یہ موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد کی آباد کاری کے لیے پالیسی سازی میں معاون ثابت ہوگی۔ ماہرین نے اس لیکچر کو پاکستان میں ماحولیاتی تحفظ اور وسائل کے انتظام کے حوالے سے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا ہے۔