LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان، کرغزستان کا تجارت، سرمایہ کاری اور سٹریٹجک شراکت داری پر اتفاق شام میں فرانسیسی صدر کی قیام گاہ کے قریب دو دھماکے، 18 افراد زخمی وفاقی وزیرِ خزانہ کا بڑا اقدام؛ اسٹیٹ بینک کی سربراہی میں ‘ایس ایم ای فنانس ٹاسک فورس’ قائم چین: 325 ملین ڈالرز رشوت لینے پر سرکاری عہدیدار کو سزائے موت کراچی میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، بی ایل اے کے 2 دہشت گرد گرفتار حکومت پیٹرول پر لیوی کا بھتہ وصول کر رہی ہے، قیمت 225 روپے ہونی چاہیے؛ حافظ نعیم الرحمن ملکی برآمدات میں اضافے کے لیے ایس ایم ایز کو قرضوں کی فراہمی آسان بنائی جائے؛ وزیرِ اعظم معیشت مضبوط استحکام کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، جی ڈی پی 3.7 فیصد ریکارڈ؛ وزیرِ خزانہ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان کے باعث ریکارڈ ٹوٹنے کا سلسلہ برقرار اقوام متحدہ کا ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ زیارت میں دہشت گردوں کا پولیس چوکی پر حملہ، 9 اہلکار شہید یو اے ای میں ‘ویزا آن ارائیول’ کی شرائط تبدیل، کیا اب آپ اہل ہیں؟ انسانی سمگلنگ کیخلاف 59 ممالک میں عالمی کریک ڈاؤن، ایک ہزار سے زائد ملزم گرفتار اسرائیل کا امریکا سے ترکیہ کو ایف 35 جنگی طیارے اور پرزے فروخت نہ کرنے کا مطالبہ دہشتگردی کا مقابلہ جاری، ریاست کی رٹ ہر صورت قائم ہوگی: سرفراز بگٹی

پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ آبادی پر ڈیٹا کا فقدان ہے، جرمن ماہر

Web Desk

10 April 2026

ممتاز جرمن ماہر ڈاکٹر یان فرایئہارٹ نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں قیمتی زرعی اراضی تیزی سے دریا برد ہو رہی ہے، جس کے سماجی و معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر تحقیق کی ضرورت ہے۔ جامعہ کراچی کے بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس) میں یونیسکو چیئر کے تحت منعقدہ ایک خصوصی لیکچر میں انہوں نے بنگلہ دیش میں ماحولیاتی شدت اور انسانی نقل مکانی پر اپنی طویل تحقیق کے نتائج پیش کیے۔ ای ٹی ایچ زیورخ سے وابستہ ڈاکٹر یان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش اور پاکستان دونوں کو یکساں چیلنجز کا سامنا ہے، جہاں طویل دریائی اراضی سیلاب کی وجہ سے کٹاؤ کا شکار ہے اور موسمیاتی تبدیلیاں بڑے پیمانے پر آبادی کی نقل مکانی کا سبب بن رہی ہیں۔

ڈاکٹر یان فرایئہارٹ نے اپنی تحقیق کو سادہ انداز میں پیش کرتے ہوئے شرکا کو بتایا کہ کئی برسوں کے سروے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ دریائی کٹاؤ محض جغرافیائی تبدیلی نہیں بلکہ ایک انسانی بحران ہے، جو زرعی اراضی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ غربت میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بنگلہ دیش میں کی گئی تحقیق پاکستان کے لیے دو طرح سے مفید ہو سکتی ہے: اول، یہ دریائی کٹاؤ کی سائنسی وجوہات کو سمجھنے میں مدد دے گی، اور دوم، یہ موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد کی آباد کاری کے لیے پالیسی سازی میں معاون ثابت ہوگی۔ ماہرین نے اس لیکچر کو پاکستان میں ماحولیاتی تحفظ اور وسائل کے انتظام کے حوالے سے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا ہے۔