LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
کسی بھی دورے کے دوران مارکیٹیں اور کاروبار بند نہ کئے جائیں، مریم نواز کی حکام کو ہدایت امریکی انتخابات کے نتائج نے امریکا کو تاریخ میں کئی قدم پیچھے دھکیل دیا: ٹرمپ مصر میں مسافر ٹرین حادثہ، متعدد بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، 64 افراد زخمی غزہ میں بارشوں سے 70 ہزار خیمے زیر آب، ساڑھے 3 لاکھ بے گھر افراد متاثر ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم

فرانس کے نفسیاتی ہسپتال میں گدھوں کے ذریعے ذہنی تناؤ کا علاج

Web Desk

2 June 2026

پیرس: فرانس کے دارالحکومت پیرس کے نواح میں واقع ایک نفسیاتی ہسپتال میں ان دنوں روایتی دواؤں کے ساتھ ساتھ ذہنی امراض کا ایک انتہائی انوکھا اور منفرد علاج جاری ہے، جہاں مریضوں کو شدید ذہنی تناؤ، اینگزائٹی اور ڈپریشن سے نجات دلانے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق، فرانس بھر میں اپنی نوعیت کا یہ واحد اور منفرد ترین منصوبہ ہے۔ یہ تھراپی ‘ویل ایورارڈ ہسپتال’ کے سرسبز و شاداب ماحول اور 19ویں صدی کی تاریخی عمارتوں کے درمیان قائم ایک خاص مرکز میں دی جا رہی ہے، جہاں مریضوں کو ہسپتال کے روزمرہ کے روایتی اور بوجھل علاج سے ہٹ کر ایک انتہائی پرسکون ماحول میسر آتا ہے۔

اس تھراپی سیشن کے دوران مریض وہاں موجود پانچ گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں مختلف راستوں پر ٹہلاتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور سیشن کے اختتام پر انہیں محبت سے گلے لگاتے ہیں۔

  • 60 سالہ مریضہ نتھالی کا کہنا ہے: “جب آپ سکون پہنچانے والی کوئی دوا لیتے ہیں تو یہ بالکل ویسا ہی احساس ہے۔ میں اسے جانوروں سے علاج کہوں گی، یہ آپ کو اندرونی سکون دیتا ہے اور آپ دنیا بھر کی پریشانیاں بھول جاتے ہیں۔”

  • 52 سالہ مریض جیروم کہتے ہیں: “اس پروگرام سے میرا اکیلا پن دور ہوا ہے۔ لوگوں سے بات کرنا اور ایسی سرگرمیوں میں حصہ لینا جو میں عام زندگی میں نہیں کرتا، میری روزمرہ زندگی میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔ یہ ہمیں دواؤں کے روایتی چکر سے باہر نکالتا ہے۔”

واضح رہے کہ یہ تمام سیشنز فرانس کے پبلک ہیلتھ سسٹم (سرکاری نظامِ صحت) کے تحت مریضوں کو بالکل مفت فراہم کیے جا رہے ہیں۔

عام طور پر سیشن کے دوران ہر مریض کو ایک مخصوص گدھا دیا جاتا ہے جس کے ساتھ وقت گزار کر وہ ایک دوسرے کے مزاج اور عادات کو سمجھنے لگتے ہیں۔ اس خصوصی یونٹ میں تعینات نرس ‘آڈرے سیفار’ بتاتی ہیں کہ مریضہ نتھالی میں چند ہی سیشنز کے بعد نمایاں تبدیلی آئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شروع میں نتھالی اپنی جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے اترنے کو تیار نہیں تھیں، لیکن گدھے کی محبت بھری موجودگی نے ان کا حوصلہ اس حد تک بڑھایا کہ آج وہ نہ صرف چیئر سے اٹھیں بلکہ اپنے گدھے کے ساتھ پیروں پر کھڑی ہوئیں۔ نرس کے مطابق، جانور یہاں ایک بہترین مددگار کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

اس ہسپتال میں یہ انقلابی منصوبہ 2016 میں ‘ارمیلیڈنا’ اور ‘فرانکوئس ہادی’ نامی میاں بیوی نے شروع کیا تھا۔ ارمیلیڈا پیشے کے لحاظ سے ایک نفسیاتی امراض کی نرس ہیں اور ان کا خیال تھا کہ گدھے اپنے پرسکون اور ملن سار مزاج کی وجہ سے اس تھراپی کے لیے بہترین ہیں۔ ان کے شوہر فرانکوئس ہادی نے ان گدھوں کو خاص طور پر اس تھراپی کے لیے ٹریننگ دی ہے، جن میں سے کچھ گدھوں کو شیلٹرز ہومز (بے آسرا جانوروں کے مراکز) سے لایا گیا تھا۔

فرانکوئس ہادی کا کہنا ہے:

“گدھا ایک انتہائی ذہین جانور ہے جو چیزوں کو بہت جلدی سمجھتا ہے، بس آپ کو اس کے ساتھ نرمی سے پیش آنا پڑتا ہے، یہ مریضوں کے جذبات کو اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں۔”

اب اس پروگرام کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے اسے باقاعدہ ‘ہیلتھ کیئر یونٹ’ کا درجہ مل چکا ہے اور اس میں گدھوں کے علاوہ اب مرغیاں، کبوتر، کچھوے اور خرگوش بھی شامل کر لیے گئے ہیں۔

18 سالہ نرسنگ سٹوڈنٹ الیشیا فابی بتاتی ہیں کہ اس تھراپی کے بہانے مریضوں اور طبی عملے کے درمیان بیماری سے ہٹ کر خوشگوار موضوعات پر گفتگو کا موقع ملتا ہے جس سے مریض خود کو ہلکا محسوس کرتے ہیں۔ یہ تھراپی اینگزائٹی، ڈپریشن، آٹزم اور شیزوفرینیا جیسے پیچیدہ امراض میں مبتلا مریضوں کے لیے انتہائی مفید ثابت ہو رہی ہے۔

منصوبے کی بانی ارمیلیڈا کا کہنا ہے کہ یہ تھراپی کسی ڈاکٹر یا دوا کا متبادل تو نہیں ہے لیکن یہ مریض کا کھویا ہوا اعتماد بحال کرتی ہے، اور جانوروں کی صفائی و خوراک کا خیال رکھتے رکھتے مریض اپنی ذاتی عادات کو بھی بہتر بنا لیتے ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ اس تھیراپی کو نفسیاتی علاج کی دنیا میں باقاعدہ طور پر تسلیم کیا جائے، تاہم اس مقصد کے لیے ابھی مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔