LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسلام آبادمیں پاک، سعودیہ، ترکیہ ، مصرکی وزارتِ خارجہ کے سینئرحکام کا اہم اجلاس جنگ بندی کےلیے ثالثی نہیں کررہے، پاکستانی کردارکی حمایت کرتے ہیں، قطر جنگ میں حصہ لینے والے تمام ممالک نقصانات پرہرجانہ اداکریں ، ایران کا مطالبہ فرانسیسی صدرکا امریکی و ایرانی صدور سے رابطہ، غلط فہمیاں دورکرنے کا مطالبہ بحری ناکہ بندی کا امریکی فیصلہ غیرقانونی اور اشتعال انگیز، ایرانی سفیررضاامیری پاکستان میں معاشی شرح نموسست، مہنگائی میں اضافے کا خدشہ،آئی ایم ایف کی آؤٹ لک رپورٹ صدرزرداری سے وزیراعظم کی ملاقات، پاک ایران مذاکرات کے تمام پہلوؤں پر اعتماد میں لیا وزیراعظم شہباز شریف کل سعودی عرب روانہ ہوں گے؛ ایک ماہ میں دوسرا دورہ اسحاق ڈار کی یورپی یونین خارجہ امور سے رابطہ، پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا گیا پاک فضائیہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس مضبوط فورس ہے: نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف امریکہ ایران مذاکرات کی ناکامی شرمناک ہے، مسلم ممالک متحد ہوں تو دشمن کچھ نہیں؛ امیر جماعت اسلامی اسحاق ڈار کا کینیڈین ہم منصب سے رابطہ، امریکا ایران مذاکرات پر تبادلہ خیال مشرقِ وسطیٰ بحران کے اثرات؛ ملک میں بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا اہم انٹرویو؛ پاکستان کا ایک ارب ڈالر کے پانڈا بانڈز اور نئے مالیاتی ذرائع کی تلاش کا اعلان واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان براہِ راست مذاکرات آج ہوں گے

وفاقی آئینی عدالت کا بڑا فیصلہ: توہینِ عدالت کے مقدمات سننے کے اختیار کی توثیق، چیئرمین ڈرگ کورٹ کی اپیل خارج

Web Desk

8 April 2026

وفاقی آئینی عدالت نے توہینِ عدالت کے مقدمات کی سماعت کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے اپنے قانونی اختیارِ سماعت کی توثیق کر دی ہے۔ عدالت نے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 189 اور 204 اسے توہینِ عدالت کے مقدمات سننے کا مکمل اختیار دیتے ہیں اور توہین کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کرنا عدالت کا بنیادی آئینی حق ہے۔ یہ فیصلہ ایک درخواست گزار کے اعتراض پر سامنے آیا جس کا موقف تھا کہ توہینِ عدالت آرڈیننس 2003 میں آئینی عدالت کا ذکر نہیں ہے، تاہم عدالت نے اسے مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ آئین کا آرٹیکل 204 اس حوالے سے بالکل واضح ہے۔

اسی فیصلے کے ساتھ عدالت نے چیئرمین ڈرگ کورٹ گوجرانوالہ کی برطرفی کے خلاف دائر اپیل بھی خارج کر دی ہے۔ درخواست گزار پر بطور چیئرمین ڈرگ کورٹ کوئی مقدمہ نہ نمٹانے کا الزام تھا اور عدالت نے قرار دیا کہ انہیں قانونی طریقہ کار کے مطابق برطرف کیا گیا۔ فیصلے میں اس بات پر بھی شدید برہمی کا اظہار کیا گیا کہ درخواست گزار نے فیصلہ محفوظ ہونے کے بعد بینچ کے رکن جسٹس عامر فاروق کو خطوط لکھ کر بینچ سے الگ ہونے کا کہا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ فیصلہ محفوظ ہونے کے بعد جج کو ایسے خطوط لکھنا توہینِ عدالت کے زمرے میں آتا ہے اور عدالت کارروائی کا حق رکھتی ہے، تاہم اس معاملے میں تحمل کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔