LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم سے وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج کی ملاقات آئی ایم ایف پروگرام: پانچویں قسط کے حصول کے لئے تیاریاں شروع پاکستان کے 1100 سے زائد نوادرات کی بیرونِ ملک سے واپسی کوئٹہ سے دیگر صوبوں کو جانے والی ٹرین سروس ایک روز کیلئے معطل رہبرِ انقلاب نے دشمن کے خلاف قومی اتحاد، یکجہتی برقرار رکھنے پر زور دیا: ایرانی صدر ایرانی دھمکی کے باعث ٹرمپ کا ترکیہ سے برطانیہ تک خفیہ فوجی پرواز میں سفر امریکا اور اسرائیل کے شام سے جوہری مواد ہٹانے کے لیے مذاکرات کامیاب بانی اور اہلیہ کی قید تنہائی: بیرسٹر سلمان نے تحریری دلائل جمع کرا دیئے یوکرینی صدر اور سعودی ولی عہد کا رابطہ، ڈرونز معاہدے سمیت مختلف امور پر گفتگو ملکی ترقی و خوشحالی میں اقلیتوں کا کردار انتہائی اہم ہے: فیصل کریم کنڈی ہانگ کانگ میں درجہ حرارت 42 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا سعودیہ کے شاہ سلمان ریلیف مرکز کا غزہ میں ’’مکہ سکول‘‘ کا قیام، ایک ہزار طلبہ مستفید ہونگے صدر ٹرمپ نے ول شارف کو نیا اسسٹنٹ ٹو دی پریذیڈنٹ اور وائٹ ہاؤس کونسل مقرر کردیا برطانیہ کا گمراہ ڈسکاؤنٹس اور سبسکرپشن فراڈ کیخلاف نئے اقدامات کا اعلان سعودی نئی فضائی کمپنی ریاض ایئر کا بنگلہ دیش کیلئے یومیہ پروازوں کا آغاز

پاک سعودیہ تعلقات امتِ مسلمہ کی قوت کا سرچشمہ ہیں: مولانا فضل الرحمان

Web Desk

12 July 2026

سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے برادرانہ تعلقات محض سفارتی نہیں بلکہ ایمان، اخوت اور مشترکہ اسلامی مفادات کے گہرے رشتوں پر قائم ہیں اور دونوں ممالک کا یہ مضبوط تعلق پوری امتِ مسلمہ کے لیے قوت کا سرچشمہ ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے رابطۂ عالمِ اسلامی (مسلم ورلڈ لیگ) کے زیرِ اہتمام منعقدہ پاکستانی علمائے کرام کے ایک اہم مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس باوقار علمی اجتماع میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی، رابطۂ عالمِ اسلامی کے سیکرٹری جنرل شیخ ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسیٰ، ممتاز عالمِ دین مفتی تقی عثمانی، مولانا حنیف جالندھری سمیت ملک بھر سے جید علمائے کرام اور مقتدر شخصیات نے شرکت کی۔

مولانا فضل الرحمٰن نے معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے امتِ مسلمہ کے اتحاد، اعتدال پسندی اور رواداری کے فروغ کے لیے رابطۂ عالمِ اسلامی کے کلیدی کردار کو سراہا اور شیخ ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسیٰ کی پاکستان آمد کو انتہائی خوش آئند قرار دیا۔ سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں مسلم امہ کو درپیش مشترکہ مسائل کا واحد حل باہمی تعاون اور اعتدال میں مضمر ہے، اور علماء کا یہ اتحاد ہی امت کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔

انہوں نے اس بابرکت تقریب کے انعقاد پر سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی کاوشوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاک سعودی دوستی تاریخ اور عقیدے کے لازوال اصولوں پر استوار ہے جو وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوگی۔ اپنے خطاب کے اختتام پر مولانا فضل الرحمٰن نے خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی صحت و درازیٔ عمر، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی کامیابی اور مملکتِ سعودی عرب کے امن، استحکام اور ترقی کے لیے خصوصی دعا بھی کروائی۔