LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
حوثیوں کا سعودی وزارت دفاع، آرامکو اور دو بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر حملوں کا دعویٰ قومی اسمبلی میں حکومت غائب، پارلیمانی تقاریر کی سنسر شپ آئین کی خلاف ورزی ہے: محمود خان اچکزئی خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور عوامی مینڈیٹ پر ڈاکا نا قابلِ قبول، گرفتار و مغوی رہنماؤں کی فوری بازیابی کی جائے: پی ٹی آئی 5 سال میں ٹرینوں کے پٹڑی سے اترنے کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش خیبرپختونخوا: اپیکس کمیٹی کا اجلاس، دہشت گردی کے مکمل خاتمے کا عزم ٹرمپ کا ہنگاموں کیلئے مسلمانوں کو ذمہ دار ٹھہرانا احمقانہ ہے: فرانسیسی صدر پی ایم یوتھ پروگرام اور امریکی ادارے PRG میں تاریخی معاہدہ سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، انڈیکس ایک لاکھ 64 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا بیرسٹر گوہر کی میڈیا سے گفتگو: سہیل آفریدی ہی وزیراعلیٰ اور جنید اکبر کے پی کے صدر رہیں گے، تبدیلیوں کی تردید کرک میں سی ٹی ڈی اور پولیس پر دہشت گردوں کا حملہ: ڈی ایس پی اور ایس ایچ او سمیت 4 اہلکار شہید، 2 دہشت گرد ہلاک پی ٹی آئی خیبرپختونخوا پارلیمانی پارٹی کا اجلاس: علی امین گنڈاپور مذاکراتی نمائندہ نامزد، گورنر راج مسترد روس پر یوکرین کے بڑے ڈرون حملے، ماسکو کی جانب 630 ڈرونز کی پرواز، تین افراد زخمی ٹرمپ کا ہنگاموں کیلئے مسلمانوں کو ذمہ دار ٹھہرانا احمقانہ ہے: فرانسیسی صدر پاکستان کی معاشی شرحِ نمو 3.7 فیصد اور زرمبادلہ ذخائر 19.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئے: عالمی بینک رپورٹ ڈپٹی چیئرمین اور پراسیکیوٹر جنرل نیب کی تعیناتی چیلنج: اسلام آباد ہائی کورٹ کا وفاق اور نیب کو نوٹس

صدر ٹرمپ نے ول شارف کو نیا اسسٹنٹ ٹو دی پریذیڈنٹ اور وائٹ ہاؤس کونسل مقرر کردیا

Web Desk

11 August 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے موجودہ اسٹاف سیکرٹری ول شارف کو اہم ترین عہدے پر فائز کرتے ہوئے انہیں نیا اسسٹنٹ ٹو دی پریذیڈنٹ اور وائٹ ہاؤس کونسل مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ول شارف یکم ستمبر سے اپنی نئی ذمہ داریاں باقاعدہ طور پر سنبھالیں گے۔

امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر جاری بیان میں ول شارف کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بطور اسٹاف سیکرٹری اور نیشنل کیپیٹل پلاننگ کمیشن کے چیئرمین شاندار خدمات انجام دی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کے پیشہ ورانہ پس منظر کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ول شارف سابق وفاقی پراسیکیوٹر رہ چکے ہیں، نجی شعبے میں بطور وکیل کام کیا ہے اور دو وفاقی اپیل عدالتوں کے ججوں کے ساتھ بطور کلرک بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق ول شارف نے 40 کروڑ ڈالر کے وائٹ ہاؤس بال روم منصوبے کی منظوری میں کلیدی کردار ادا کیا تھا، جسے حال ہی میں واشنگٹن ڈی سی کی وفاقی اپیل عدالت نے غیر قانونی قرار دیا ہے اور اب یہ معاملہ امریکی سپریم کورٹ میں جانے کا امکان ہے۔