LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
شمالی وزیرستان: سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 5 دہشت گرد ہلاک، میجر شہید ہر گھرغریب، معیشت بدترین بحران کا شکار ہے: شاہد خاقان عباسی حکومت پر برس پڑے عرفان صادق تارڑ پراسکیوٹر جنرل پنجاب تعینات افواجِ پاکستان اور پیپلز لبریشن آرمی حقیقی شراکت دار، امن و استحکام کیلئے پرعزم ہیں: فیلڈ مارشل امن منصوبے پر مثبت پیش رفت: 1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جائے: دفتر خارجہ سندھ میں نئے صوبے کی ضرورت نہیں، یہ پنجاب کی عوام کا مطالبہ ہے، سعید غنی خطے کے ممالک امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظرثانی کریں: ایرانی فوج پنجاب میں ماتحت عدلیہ کے ججز پر مونیٹائزیشن پالیسی نافذ آزاد کشمیر انتخابات کا دوسرا مرحلہ: 21 نشستوں پر پولنگ کل، 12 لاکھ سے زائد ووٹرز شامل پیٹرول پر لیوی بھتہ ٹیکس، فارم 45 کی بنیاد پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے,حافظ نعیم الرحمٰن امریکا اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ میں ایران کامیاب رہا: باقر قالیباف وزیراعلیٰ پنجاب کی امریکی اعلیٰ سطحی کاروباری وفد کو سرمایہ کاری کی دعوت کشمیر کی حکومت و مستقبل کے فیصلے کشمیری عوام خود کریں: بلاول بھٹو زرداری سورینج کان حادثہ: 45 گھنٹے بعد ریسکیو آپریشن مکمل، 34 لاشیں نکال لی گئیں ایف بی آر نے جولائی میں ہدف سے 40 ارب روپے زائد ٹیکس وصول کر لیا

پی ٹی آئی کے اصل وارث قید،نوازشریف سیاسی ہیجان کے حل کیلئے کردار ادا کریں:فواد چودھری

Web Desk

9 January 2026

سابق وفاقی وزیر فواد چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اصل وارث اس وقت جیلوں میں ہیں جبکہ ملک کو درپیش سیاسی بحران کے حل کے لیے مذاکرات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ انہوں نے نواز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے طویل سیاسی تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے سیاسی ہیجان کم کرنے میں کردار ادا کریں۔

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چودھری کا کہنا تھا کہ ہم بار بار مذاکرات کی بات اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ ملک شدید مشکلات کا شکار ہے اور استحکام کے لیے بات چیت ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سیاسی ہیجان ہے مگر اپوزیشن کی جانب سے بھی کوئی سنجیدہ پیش رفت نظر نہیں آتی۔

انہوں نے پی ٹی آئی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں وہ جیلوں میں ہیں جبکہ پارٹی کے ’’مہمان اداکار‘‘ بیرون ملک دوروں پر ہیں اور مذاکرات سے انکار کر رہے ہیں۔ فواد چودھری نے کہا کہ بڑے عہدوں پر بیٹھنے والوں کو حوصلے کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور غیر سنجیدہ بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔

سابق وفاقی وزیر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے، بشریٰ بی بی، ڈاکٹر یاسمین راشد اور دیگر سیاسی کارکنوں کی رہائی سے سیاسی دباؤ کم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہمارے پاس بھی بیرون ملک جانے کا آپشن موجود ہے لیکن ایسا کرنے سے ملک کے حالات مزید خراب ہوں گے۔

فواد چودھری کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا پچاس سالہ سیاسی کیریئر ہے اور انہیں چاہیے کہ پاکستان کی سیاست میں مثبت کردار ادا کریں، کیونکہ سیاسی کشمکش کا نقصان براہ راست عوام کو ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر مملکت اور وزیراعظم کو بھی صورتحال کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔

انہوں نے معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے اپنے ہاؤس ہولڈ سروے کے مطابق 30 فیصد لوگ تین وقت کا کھانا نہیں کھا سکتے، آمدنیاں 2015 کی سطح پر آ چکی ہیں جبکہ اخراجات 2025 کے حساب سے ادا کیے جا رہے ہیں۔ مہنگائی 200 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے، تنخواہ دار طبقہ 40 فیصد ٹیکس دے رہا ہے اور اوورسیز پاکستانی سرمایہ کاری سے گریزاں ہیں۔

عبوری ضمانتوں میں توسیع
دوسری جانب انسداد دہشت گردی عدالت نے فواد چودھری کی عبوری ضمانتوں میں 13 فروری تک توسیع کر دی ہے۔ اے ٹی سی کے جج منظر علی گل نے 9 مئی جلاؤ گھیراؤ سے متعلق پانچ مقدمات کی سماعت کی، عدالت نے پراسکیوشن سے مقدمات کا ریکارڈ طلب کر لیا۔

یاد رہے کہ فواد چودھری جناح ہاؤس چوک میں گاڑی جلانے اور شیر پاؤ پل جلاؤ گھیراؤ کے مقدمات میں نامزد ہیں۔