LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا، حکومت نے ریلیف سے قبل قیمتیں آسمان پر پہنچا دیں پمز ایم سی ایچ سے نومولود چوری کی کوشش ناکام، دو خواتین اور لڑکی گرفتار پٹرولیم لیوی کے خاتمے تک احتجاج جاری رہے گا: حافظ نعیم الرحمان انڈونیشین نیوی کے سربراہ کی نیول چیف سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے کا عزم ملائیشین وزیراعظم سے من گھڑت بیانیہ نکلوانے کی بھارتی کوشش ناکام، انٹرویو پھر سرخیوں میں اسحاق ڈار سے لبنانی وزیر داخلہ کی ملاقات ہوئی، تمام شعبوں میں تعاون پر اتفاق پٹرولیم قیمتوں میں ریلیف، حکومت اور جماعت اسلامی میں اہم ملاقات خیبرپختونخوا دو دن سے لاوارث، سہیل آفریدی سیر سپاٹے کر رہے ہیں: عظمیٰ بخاری سینیٹ کمیٹی میں ایم ڈی کیٹ اور میڈیکل داخلہ نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی سفارشات افغان میڈیکل طلبہ کی پاکستان میں تعلیم جاری رکھنے کی درخواست پر فیصلہ جاری پٹرولیم مصنوعات پر لیوی ختم کی جائے، حکومت ہوش کے ناخن لے: شرجیل میمن امریکا خلا میں فوجی طاقت بڑھانے کا سلسلہ بند کرے، چین کا مطالبہ باب المندب کی بندش پوری دنیا کیلئے تباہ کن ہوگی: قطر کا اظہارِ تشویش ازبکستان کا 10 رکنی میڈیا وفد 7 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گیا حکومت ریلیف کا ڈرامہ بند اور پٹرولیم لیوی کا بھتہ ختم کرے: حافظ نعیم

غیرملکی کرنسی کی خرید و فروخت کے لیے جنوری سے چہرے کی شناخت لازمی

Web Desk

13 December 2025

سٹیٹ بینک نے ملک بھر کی ایکسچینج کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ یکم جنوری 2025 سے غیرملکی کرنسی کی خرید و فروخت کرنے والے شہریوں کی بائیومیٹرک کے ساتھ ساتھ فیشل ریکگنیشن (چہرے کی شناخت) کے ذریعے بھی لازمی تصدیق کریں۔

چہرے کی شناخت کا مطلب یہ ہے کہ اب کوئی بھی شخص اگر غیرملکی کرنسی خریدنے یا منی ایکسچینج پر فروخت کرنے آئے گا تو اس کی بائیومیٹرک کے ساتھ ساتھ نادرا کے فیشل ریکگنیشن سسٹم کے ذریعے شناخت کی تصدیق بھی لازمی کی جائے گی۔

اس اقدام کا بنیادی مقصد ملک میں غیرقانونی کرنسی کے لین دین کی روک تھام کے ساتھ ساتھ نادرا اور سٹیٹ بینک کے پاس کرنسی خریدنے یا فروخت کرنے والے تمام افراد کا مکمل اور مستند ریکارڈ یقینی بنانا ہے۔

سٹیٹ بنک نے ایک باضابطہ سرکلر کے ذریعے منی چینجرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی تمام برانچوں میں ہائی ریزولوشن کیمرے نصب کریں جو نادرا کے سسٹم سے منسلک ہوں، تاکہ شناخت کے عمل کو فوری، محفوظ اور مؤثر بنایا جا سکے۔

اس وقت منی چینجرز بائیومیٹرک نظام پر عمل تو کر رہے ہیں، مگر اس میں کچھ نرمی موجود ہے جیسے 2500 ڈالر تک کے بدلے پاکستانی روپے لیتے وقت شناختی کارڈ کی ضرورت نہیں، جبکہ 2500 ڈالر سے اوپر صرف شناختی کارڈ کی کاپی لازمی ہے۔

اس کے علاوہ پانچ ہزار ڈالر سے زائد کی رقم کے لیے فنڈز کے ماخذ اور مقصد کی دستاویزات فراہم کرنا ضروری ہے، تاہم غیرملکی کرنسی خریدنے والے ہر شہری کے لیے بائیومیٹرک تصدیق اور متعلقہ دستاویزات پہلے ہی لازمی تھیں۔

اب سٹیٹ بینک چاہتا ہے کہ ہر قسم کے کرنسی کے لین دین، رقم کی حد سے قطع نظر، پر بائیومیٹرک اور فیشل ریکگنیشن دونوں لازمی ہوں۔

اس معاملے پر چیئرمین ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان ملک بوستان نے بتایا کہ گزشتہ چند برسوں سے غیرملکی کرنسی حاصل کرنے والے تمام افراد کی بائیومیٹرک تصدیق کی جا رہی ہے، لیکن سسٹم کی بعض کمزوریوں کی وجہ سے بعض شہریوں کی تصدیق مکمل نہیں ہو پاتی تھی۔