LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاک بحریہ کا فضا سے سطح سمندر پر مار کرنے والے تیمور کروز میزائل کا کامیاب تجربہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں میں تیزی کیلئے نیا نظام منظور چینی سفیر کی اسحاق ڈار سے ملاقات: امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستان کے کردار کی تعریف، مکمل اعتماد کا اظہار آئی ایم ایف کا شکنجہ مزید سخت: 11 نئی شرائط عائد، پاکستان کی 2027 تک اصلاحات مکمل کرنے کی یقین دہانی حج فلائٹ آپریشن میں تیزی، مزید 3510 عازمین آج سعودی عرب روانہ ہوں گے امریکا کا تجارتی جہاز پر قبضہ،ایران نے اقوام متحدہ میں شکایت درج کروا دی عالمی سفارت کاری کا مرکز اسلام آباد: ایران امریکہ مذاکرات کے لیے ریڈ زون سیل سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو مزید 1 ارب ڈالر کے فنڈز موصول پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر تیزی کا رجحان خیبرپختونخوا کابینہ کا آج ہونے والا اجلاس ملتوی ٹرمپ مذاکرات کی میز کو ہتھیار ڈالنے میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں: باقر قالیباف ایران سے ہونے والا معاہدہ جلد اور اوباما دور کے معاہدے سے بہتر ہوگا: امریکی صدر اسرائیل اور لبنان کے درمیان امن مذاکرات جمعرات کو واشنگٹن میں ہوں گے ریڈ زون کے اداروں میں 21 اپریل کو ورک فرام ہوم کا فیصلہ : نوٹیفکیشن جاری ایرانی وفد کا امریکاسے مذاکرات کیلیے اسلام آبادآنے کاامکان، برطانوی نیوزایجنسی

یورپی یونین پر بڑا سائبر حملہ، 29 اداروں کا 92 جی بی حساس ڈیٹا چوری

Web Desk

7 April 2026

یورپی یونین کے کلاؤڈ انفرااسٹرکچر پر ایک بڑے پیمانے کے سائبر حملے کے نتیجے میں 29 اہم اداروں کا تقریباً 92 جی بی حساس ڈیٹا چوری کر لیا گیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ہیکرز نے یورپی کمیشن کے سرکاری ریکارڈز اور صارفین کی ذاتی معلومات تک رسائی حاصل کی، جس میں اعلیٰ حکام کے نام، سرکاری ای میل ایڈریسز اور خفیہ نوعیت کی دستاویزات شامل ہیں۔ یورپی یونین کی سائبر سیکیورٹی ٹیم نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حملہ آوروں نے ایمازون ویب سروسز (AWS) کے ایک کمزور اکاؤنٹ کو نشانہ بنایا جو یورپی کمیشن کے مرکزی پلیٹ فارم “Europa.eu” سے منسلک تھا، جو متعدد سرکاری ویب سائٹس کی میزبانی کرتا ہے۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے اس حملے کو یورپی یونین کے ڈیجیٹل ڈھانچے کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا ہے، کیونکہ چوری شدہ ڈیٹا کے ذریعے اندرونی مواصلاتی نظام میں مداخلت کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کم از کم 29 یورپی ادارے اس حملے سے براہِ راست متاثر ہوئے ہیں، جبکہ ڈیٹا کی واپسی اور سیکیورٹی لیپس کو دور کرنے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ یورپی یونین کی تاریخ کے بڑے ڈیٹا لیکس میں سے ایک سمجھا جا رہا ہے جس نے بین الاقوامی سطح پر ڈیجیٹل سیکیورٹی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔