LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان، کرغزستان کا تجارت، سرمایہ کاری اور سٹریٹجک شراکت داری پر اتفاق شام میں فرانسیسی صدر کی قیام گاہ کے قریب دو دھماکے، 18 افراد زخمی وفاقی وزیرِ خزانہ کا بڑا اقدام؛ اسٹیٹ بینک کی سربراہی میں ‘ایس ایم ای فنانس ٹاسک فورس’ قائم چین: 325 ملین ڈالرز رشوت لینے پر سرکاری عہدیدار کو سزائے موت کراچی میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، بی ایل اے کے 2 دہشت گرد گرفتار حکومت پیٹرول پر لیوی کا بھتہ وصول کر رہی ہے، قیمت 225 روپے ہونی چاہیے؛ حافظ نعیم الرحمن ملکی برآمدات میں اضافے کے لیے ایس ایم ایز کو قرضوں کی فراہمی آسان بنائی جائے؛ وزیرِ اعظم معیشت مضبوط استحکام کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، جی ڈی پی 3.7 فیصد ریکارڈ؛ وزیرِ خزانہ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان کے باعث ریکارڈ ٹوٹنے کا سلسلہ برقرار اقوام متحدہ کا ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ زیارت میں دہشت گردوں کا پولیس چوکی پر حملہ، 9 اہلکار شہید یو اے ای میں ‘ویزا آن ارائیول’ کی شرائط تبدیل، کیا اب آپ اہل ہیں؟ انسانی سمگلنگ کیخلاف 59 ممالک میں عالمی کریک ڈاؤن، ایک ہزار سے زائد ملزم گرفتار اسرائیل کا امریکا سے ترکیہ کو ایف 35 جنگی طیارے اور پرزے فروخت نہ کرنے کا مطالبہ دہشتگردی کا مقابلہ جاری، ریاست کی رٹ ہر صورت قائم ہوگی: سرفراز بگٹی

یورپی یونین پر بڑا سائبر حملہ، 29 اداروں کا 92 جی بی حساس ڈیٹا چوری

Web Desk

7 April 2026

یورپی یونین کے کلاؤڈ انفرااسٹرکچر پر ایک بڑے پیمانے کے سائبر حملے کے نتیجے میں 29 اہم اداروں کا تقریباً 92 جی بی حساس ڈیٹا چوری کر لیا گیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ہیکرز نے یورپی کمیشن کے سرکاری ریکارڈز اور صارفین کی ذاتی معلومات تک رسائی حاصل کی، جس میں اعلیٰ حکام کے نام، سرکاری ای میل ایڈریسز اور خفیہ نوعیت کی دستاویزات شامل ہیں۔ یورپی یونین کی سائبر سیکیورٹی ٹیم نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حملہ آوروں نے ایمازون ویب سروسز (AWS) کے ایک کمزور اکاؤنٹ کو نشانہ بنایا جو یورپی کمیشن کے مرکزی پلیٹ فارم “Europa.eu” سے منسلک تھا، جو متعدد سرکاری ویب سائٹس کی میزبانی کرتا ہے۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے اس حملے کو یورپی یونین کے ڈیجیٹل ڈھانچے کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا ہے، کیونکہ چوری شدہ ڈیٹا کے ذریعے اندرونی مواصلاتی نظام میں مداخلت کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کم از کم 29 یورپی ادارے اس حملے سے براہِ راست متاثر ہوئے ہیں، جبکہ ڈیٹا کی واپسی اور سیکیورٹی لیپس کو دور کرنے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ یورپی یونین کی تاریخ کے بڑے ڈیٹا لیکس میں سے ایک سمجھا جا رہا ہے جس نے بین الاقوامی سطح پر ڈیجیٹل سیکیورٹی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔