LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

یورپ کی بلند ترین عمارت: برف پوش پہاڑوں میں ایک تاریخی شاہکار

Web Desk

9 February 2026

یورپ کی بلند ترین عمارت کسی جدید فلک بوس ٹاور کی صورت میں نہیں بلکہ ایک تاریخی کیبن نما عمارت ہے جو اٹلی کے برفانی الپس کے ایک انتہائی دشوار مقام پر واقع ہے۔

تفصیلات کے مطابق یہ عمارت مارگریٹا ہٹ کے نام سے مشہور ہے اور سطح سمندر سے تقریباً 15 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہونے کی وجہ سے یورپ کی سب سے بلند عمارت سمجھی جاتی ہے۔

مارگریٹا ہٹ مونٹے روزا ماسف کے پونتا گنیفیٹی مقام پر تعمیر کی گئی ہے، جو سوئٹزرلینڈ کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ اس عمارت کا نام اٹلی کی ملکہ مارگریٹا آف ساوائے کے اعزاز میں رکھا گیا تھا، جنہوں نے اس کا افتتاح 1893 میں کیا۔ اُس دور میں یہاں پہنچنا نہایت دشوار تھا کیونکہ سخت موسمی حالات اور بلند پہاڑی راستوں نے سفر کو مزید مشکل بنا دیا تھا۔

ابتدائی طور پر مارگریٹا ہٹ کو ہائی الیویشن میڈیسن کے لیے استعمال کیا جاتا رہا، جہاں سائنس دان بلند مقامات پر انسانی جسم پر اثرات کا مطالعہ کرتے تھے۔ بعد ازاں یہ مقام کوہ پیماؤں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بن گیا تاکہ وہ شدید برف باری اور سخت موسمی حالات میں قیام کر سکیں۔

مارگریٹا ہٹ نہ صرف مونٹے روزا ماسف کی بلند ترین پناہ گاہ ہے بلکہ دنیا کے منفرد پہاڑی ڈھانچوں میں بھی شمار ہوتی ہے۔ یہاں پہنچنے کا واحد ذریعہ پیدل سفر ہے، جس میں عموماً دو دن لگتے ہیں اور اس کے لیے جسمانی فٹنس اور کوہ پیمائی کا تجربہ ضروری ہوتا ہے۔

یہ تاریخی مقام نہ صرف اپنی بلندی بلکہ اپنے منفرد جغرافیائی محل وقوع اور انسانی عزم و حوصلے کی علامت کے طور پر بھی دنیا بھر کے سیاحوں اور کوہ پیماؤں کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔