LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
حوثی باغیوں کا سعودی عرب پر حملہ، ایک پاکستانی سمیت 11 شہری زخمی پاکستان، سعودیہ، ترکیہ کا سربراہی اجلاس آج، مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط متوقع وزیراعظم کی فیلڈ مارشل کے ہمراہ عمرہ کی ادائیگی، ملک کیلئے خصوصی دعائیں سعودیہ میں عراقی ملیشیا اور حوثیوں کے حملوں کا خدشہ، سکیورٹی ادارے ہائی الرٹ صدر ٹرمپ ایران کیخلاف جنگ میں شدید مشکلات سے دوچار: میڈیا رپورٹ ایران اور عمان میں آبنائے ہرمز معاہدے پر عملدرآمد انتہائی مشکل ہے: عالمی شپنگ انڈسٹریز انسانی حقوق تنظیموں نے جنوبی لبنان میں صحافیوں پر اسرائیلی حملے جنگی جرائم قرار دیدیئے صدر ٹرمپ کے پیدائشی شہریت کو محدود کرنے کیلئے 2 نئے احکامات پر دستخط امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے جلد خاتمے کیلئے پر امید ایرانی دفاعی ٹیکنالوجی سب سے بہترین، خطے کے ممالک کو جلد اندازہ ہوجائیگا: مجید ابن الرضا آزاد کشمیر میں بدترین دھاندلی زدہ الیکشن کرایا گیا: نیئر بخاری راجہ فاروق حیدر کا آزاد کشمیر الیکشن میں پیپلزپارٹی پر دھاندلی، انتظامی مشینری کے استعمال کا الزام محمد باقر قالیباف نے دھونس اور جھوٹی خبروں کی حکمت عملی ناکام قرار دیدی امریکی ناظم الامور کی اورنگزیب کھچی سے ملاقات، ثقافتی تعاون بڑھانے پر اتفاق پٹرول 3 روپے 19 پیسے، ڈیزل ایک روپے 50 پیسے فی لٹر سستا

8 اسلامی ممالک کی غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت، مشترکہ اعلامیہ جاری

Web Desk

7 August 2026

پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی جاری عسکری کارروائیوں اور سنگین خلاف ورزیوں کی پرزور مذمت کرتے ہوئے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی خلاف ورزیوں کا تسلسل بین الاقوامی قوانین کے تحت اس کی ذمہ داریوں اور غزہ تنازع کے خاتمے کے جامع منصوبے کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اعلامیے کے مطابق یہ یکطرفہ اقدامات امن منصوبے کے دوسرے مرحلے پر عملدرآمد کے لیے جاری بین الاقوامی اور علاقائی کوششوں کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اسلامی ممالک نے واضح کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد تمام فلسطینی دھڑوں نے روڈ میپ کو قبول کر لیا تھا، تاہم اسرائیل کی تازہ کشیدگی سیاسی عمل کو سبوتاژ کرنے اور غزہ کے انسانی بحران کو مزید سنگین بنانے کا باعث بن رہی ہے۔

8 اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے خواتین اور بچوں سمیت شہریوں کی ہلاکتوں کو بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ غزہ میں فوری، محفوظ اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور طبی مراکز، طبی عملے و امدادی کارکنوں کا ہر صورت تحفظ کیا جائے۔ اعلامیے میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو بین الاقوامی قانون کا پابند بنائے اور اسے تمام سنگین خلاف ورزیوں پر جوابدہ ٹھہرائے۔ اعلامیے کے اختتام پر 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بناتے ہوئے آزاد اور مستقل فلسطینی ریاست کے قیام کو خطے میں دیرپا امن کا واحد حل قرار دیا گیا۔