آٹھ عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا فلسطین پر مشترکہ مذمتی اعلامیہ جاری
Web Desk
19 June 2026
فلسطین کی سنگین ہوتی جیو پولیٹیکل صورتحال اور مقبوضہ مغربی کنارے (West Bank) میں جاری حالیہ کشیدگی کے تناظر میں مسلم امہ کی سطح پر ایک بہت بڑا اور اہم سفارتی بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا کے آٹھ بڑے اور بااثر عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک انتہائی اہم مشترکہ تزویراتی اعلامیہ جاری کرتے ہوئے فلسطینی عوام کے خلاف بڑھتے ہوئے اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔اس مشترکہ اعلامیے میں شامل اسلامی بلاک کی قیادت، اٹھائے گئے تزویراتی مطالبات اور اصولی موقف کی تفصیلات درج ذیل ہیں:مشترکہ اعلامیے میں شامل آٹھ اسلامی و عرب ممالکاس اعلیٰ سطحی سفارتی پوزیشن میں درج ذیل ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ طور پر دستخط کیے ہیں:پاکستان (Pakistan)سعودی عرب (Saudi Arabia)متحدہ عرب امارات (UAE)ترکیہ (Türkiye)مصر (Egypt)قطر (Qatar)انڈونیشیا (Indonesia)اردن (Jordan)مساجد پر حملے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوزرائے خارجہ نے رام اللہ کے شمال میں واقع فلسطینی دیہاتوں میں مذہبی مقامات کو نشانہ بنائے جانے کے حالیہ واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے کھلی دہشت گردی قرار دیا ہے:مقدس مقامات کی بے حرمتی: اعلامیے میں جیلجیلیا گاؤں کی گرینڈ مسجد اور مزارعہ النوبانی کی ‘الفاروق مسجد’ پر اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں کو مذہبی مقامات کی سنگین ترین بے حرمتی اور ناقابلِ قبول قرار دیا گیا ہے۔عالمی قوانین کی پامالی: وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ شہریوں اور ان کی عبادت گاہوں پر یہ حملے بین الاقوامی انسانی قانون (International Humanitarian Law) اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔عدم استحکام کی بڑی وجہ: اعلامیے میں صراحت کی گئی ہے کہ اسرائیلی آبادکاروں کے یہ منظم حملے اور غیر قانونی توسیعی اقدامات خطے میں مستقل عدم استحکام اور سیکیورٹی بحران کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔عالمی برادری سے تزویراتی مطالبات اور اسرائیل کی ذمہ داریاسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے اس پورے بحران اور معصوم شہریوں کے جان و مال کے نقصان کا ذمہ دار براہِ راست اسرائیلی حکومت کو ٹھہرایا ہے اور عالمی فورمز کے لیے درج ذیل مطالبات پیش کیے ہیں:عالمی برادری کے لیے تزویراتی مطالباتبنیادی مقصد اور مطلوبہ نتائجاستثنیٰ (Impunity) کا خاتمہمساجد اور معصوم فلسطینیوں پر حملوں میں ملوث انتہا پسندوں کو قانون کے کٹہرے میں لا کر سخت ترین جوابدہ بنایا جائے۔اسرائیل پر دباؤ کا مطالبہعالمی برادری اور اقوامِ متحدہ اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کر کے اسرائیل کو یہ وحشیانہ تشدد فوری طور پر روکنے پر مجبور کرے۔کشیدگی میں فوری کمیمغربی کنارے میں جاری فوجی آپریشنز، زمینوں پر قبضے اور غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ فی الفور بند کیا جائے۔فلسطین کے سیاسی حل پر اصولی موقف کا اعادہآٹھوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے مظلوم فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل اور مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کا واحد راستہ دو ریاستی حل (Two-State Solution) میں ہی مضمر ہے۔سفارتی روڈ میپ کے تحت درج ذیل بنیادی اصولوں پر دوبارہ زور دیا گیا ہے:حقِ خودارادیت کی حمایت: فلسطینیوں کے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے بنیادی حقِ خودارادیت کی بھرپور اور بلا مشروط تائید کی جائے گی۔1967 کی سرحدیں: 1967 کی جنگ سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق ایک مکمل آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر جڑی ہوئی فلسطینی ریاست قائم کی جائے۔مشرقی یروشلم دارالحکومت: مسلم امہ کے اس متفقہ اعلامیے میں دو ٹوک انداز میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ مشرقی یروشلم (East Jerusalem) کو ہی آزاد فلسطینی ریاست کا مستقل دارالحکومت تسلیم کیا جائے۔عرب امن منصوبہ: خطے میں منصفانہ اور دیرپا امن کے قیام کے لیے ‘عرب امن منصوبے’ (Arab Peace Initiative) اور بین الاقوامی قانونی فریم ورک کے مطابق مسئلے کا حتمی حل نکالا جائے۔
متعلقہ عنوانات
پاکستان کا خطے میں کشیدگی پر اظہار تشویش، فریقین سے وعدوں کی پاسداری کی اپیل
12 July 2026
آبنائے ہرمز مکمل بند، جہازرانوں کو اگلے نوٹس تک سفر نہ کرنے کی ہدایت
12 July 2026
واشک میں مسلح افراد کی فائرنگ سے 5 افراد جاں بحق
12 July 2026
وزیراعظم شہباز شریف کی کل قطر روانگی متوقع
12 July 2026
بنگلادیش میں طوفانی بارشوں کے باعث 44 افراد ہلاک،متعدد لاپتہ
12 July 2026
جماعت اسلامی کا آزاد کشمیر میں قیام امن کیلئے گرینڈ جرگہ تشکیل دینے کا فیصلہ
12 July 2026
قطر نے سمندری سرگرمیاں غیر معینہ مدت تک معطل کر دیں، ایرانی حملوں کی شدید مذمت
12 July 2026
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی ملاقات
12 July 2026