LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
صدر آصف علی زرداری سے محسن نقوی کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال آئینِ پاکستان کو نہ ماننے والوں سے کوئی بات نہیں ہوگی: فیصل کریم پولیس پر تشدد کا کیس: ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ پر فرد جرم کی تاریخ مقرر ہراسگی قانون کے تحت کارروائی کیلئے جنسی نوعیت کا عنصر ضروری ہے: آئینی عدالت 4 اکتوبر کا لانگ مارچ فی الحال حتمی ہے، مگر حالات کے مطابق فیصلے کا حق رکھتے ہیں: سینیٹر علی ظفر پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 1.2 ارب ڈالر قسط کیلئے مذاکرات کا آغاز حکومت کا یکساں گیس ٹیرف نافذ کرنے کا فیصلہ، آئی ایم ایف سے منظوری لی جائے گی ملک بھر کے صارفین کے لیے بجلی مزید مہنگی کرنے کی تیاری نیتن یاہو نے اماراتی صدر کی دعوت پر ابوظہبی کا دورہ کیا: اسرائیلی وزیراعظم دفتر حافظ نعیم سے منسوب لغو بات پھیلائی جا رہی ہے: لیاقت بلوچ قطر نے ہمارے مؤقف سے امریکا کو آگاہ کر دیا، اب جواب کا انتظار ہے: عراقچی پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ، کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر پابندی عائد سعودی عرب کی سلامتی پاکستان کیلئے ریڈ لائن ہے: مولانا طاہر اشرفی پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز سکیورٹی فورسز کے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں آپریشنز، 7 دہشت گرد جہنم واصل

خوراک کی تلاش میں ڈولفن مچھلیوں کی گوادر واپسی

Web Desk

29 December 2025

موسمی سمندری مظہر کے باعث گوادر کے ساحلی پانی غیر معمولی طور پر سبز رنگ اختیار کر گئے ہیں، تاہم اس کے باوجود سمندر میں آبی حیات بدستور وافر مقدار میں موجود ہے۔ بندرگاہی شہر کی مغربی خلیج میں بوٹل نوز ڈولفنز کے جھنڈ دیکھے گئے ہیں، جسے ماہرین نے سمندری ماحول کی صحت مند حالت کی علامت قرار دیا ہے۔

ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کے مطابق یہ کیفیت نوکٹیلوکا بلوم کے باعث پیدا ہوئی ہے، جو موسمِ سرما میں رونما ہونے والا ایک قدرتی سمندری عمل ہے۔ اس بلوم کے نتیجے میں کراچی سے جیوانی تک ساحلی علاقوں میں سمندری پانی بڑے پیمانے پر سبز رنگ اختیار کر گیا ہے، جبکہ اس کے اثرات ایران کے ساحلی پانیوں تک بھی پھیل چکے ہیں۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے بیان کے مطابق گوادر اور اس کے اطراف میں سمندری پانی کا گہرا سبز رنگ اگرچہ غیر معمولی دکھائی دیتا ہے، تاہم یہ عموماً غیر زہریلا ہوتا ہے اور بیشتر صورتوں میں آبی حیات کی افزائش کا سبب بنتا ہے۔

مقامی ماہی گیر امیر داد خان نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں بلوچستان کے ساحل کے ساتھ جھینگوں کے شکار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور جھینگے معمول سے بڑے سائز کے ہیں، جو سمندری حالات کے مستحکم ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔

بلوچستان کے ڈائریکٹر میرین فشریز احمد ندیم نے گوادر کی مغربی خلیج میں ڈولفنز کی بڑی تعداد دیکھے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ سمندری ماحولیاتی نظام کے متوازن ہونے کا ثبوت ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے تکنیکی مشیر محمد معظم خان کے مطابق سمندر میں رنگ کی ایسی تبدیلیاں عموماً نقصان دہ نہیں ہوتیں اور نوکٹیلوکا بلوم صرف انتہائی صورتوں میں آبی حیات کی اموات کا باعث بنتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس کیفیت کو بلوچی زبان میں مقامی طور پر بد آب کہا جاتا ہے، جو بحیرۂ عرب میں وقفے وقفے سے ظاہر ہوتی رہتی ہے اور موسمِ سرما میں اس کی شدت بڑھ جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ماہی گیری کی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں اور ماہی گیر بلا تعطل اپنا روزگار حاصل کر رہے ہیں۔

محمد معظم خان کا کہنا تھا کہ گوادر کی مغربی خلیج میں بوٹل نوز ڈولفنز کی موجودگی اس بات کی واضح علامت ہے کہ سمندر کے سبز ہونے کی یہ کیفیت علاقے کے سمندری حیاتیاتی تنوع پر منفی اثر نہیں ڈال رہی۔