LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کی 40 روزہ جنگ کے دوران 3519 افراد جاں بحق ہونے کی تصدیق امریکا کے ساتھ عبوری معاہدے پر عملدرآمد تک مذاکرات نہیں ہوں گے: عراقچی ترکش پیٹرولیم پاکستان کے سمندروں میں آف شور ڈرلنگ کرنے جا رہی ہے: علی پرویز گڈز اور منی مزدا ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کا دوسرا روز، گاڑیوں کی روانگی معطل افغان حکومت اپنی سرزمین پاکستان میں دہشتگردی کیلئے استعمال نہ ہونے دے، حافظ نعیم پاکستان، سعودیہ اور ترکیہ کا مکہ باہمی دفاعی معاہدے کے بعد خصوصی نغمہ جاری مریم نواز سے ایم پی ایز کی ملاقات، سیاسی امور، عوامی فلاحی منصوبوں پر تبادلہ خیال کوسوو میں اپوزیشن رکن اسمبلی نے قائم مقام وزیراعظم پر انڈے پھینک دیے سعودی عرب اور یمن کی متحدہ عرب امارات کے آئل ٹینکر پر حملے کی مذمت آزاد جموں و کشمیر قانون اسمبلی کے انتخابات کا تیسرا مرحلہ کل ہوگا آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ پروگرام، ڈاکٹر معید یوسف کی طلبہ کیساتھ خصوصی نشست نائجیریا کی تاریخ کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن، 6ماہ سے جنگل میں قید 308 افراد بازیاب صدر کا قدیم مقامی باشندگان کے حقوق، ثقافت کے تحفظ کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ محسن نقوی کا لاہور ایئرپورٹ کا دورہ، امیگریشن کے عمل کا جائزہ لیا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے کے کسی ملک کیلئے خطرہ نہیں: سعودی عہدیدار

ڈھوک ٹاہلیاں ڈیم میں مچھلیوں کی ہلاکت کا معاملہ وفاق تک پہنچ گیا، تحقیقات کا حکم

Web Desk

13 July 2026

ضلع چکوال کے خوبصورت تفریحی مقام ‘ڈھوک ٹاہلیاں ڈیم’ میں انتہائی بڑی تعداد میں مچھلیوں کی پراسرار ہلاکت کا معاملہ اب وفاق تک پہنچ گیا ہے۔ وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (Pak-EPA) کو فوری اور شفاف تحقیقات شروع کرنے کا باضابطہ حکم دے دیا ہے۔ وفاقی وزیر نے حکام کو سخت ہدایت جاری کی ہے کہ ڈیم کے پانی کے نمونے ہنگامی بنیادوں پر حاصل کر کے ان کا تفصیلی کیمیائی و حیاتیاتی تجزیہ کیا جائے اور جلد از جلد رپورٹ پیش کی جائے تاکہ مچھلیوں کی اچانک ہلاکت کی اصل وجوہات کا سائنسی بنیادوں پر تعین کیا جا سکے۔

وفاقی وزیر مصدق ملک کا کہنا تھا کہ پانی کے معیار کی باریک بینی سے جانچ کرنے کے بعد ہی یہ معلوم ہو سکے گا کہ آیا مچھلیوں کی موت پانی میں آلودگی، آکسیجن کی اچانک کمی، زہریلے مادوں کی شمولیت یا کسی اور سنگین ماحولیاتی بگاڑ کی وجہ سے ہوئی ہے۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اتنے بڑے پیمانے پر آبی حیات کا نقصان انتہائی تشویشناک ہے اور اس معاملے کی جامع تحقیقات ناگزیر ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر ترین اقدامات تجویز کیے جا سکیں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل ڈپٹی کمشنر چکوال سارہ حیات بھی واقعے کا نوٹس لے چکی ہیں، تاہم اب وفاقی ماحولیاتی تحفظ کے ادارے کو بھی اس اہم تحقیقات کا حصہ بنا دیا گیا ہے اور حتمی وجوہات کا فیصلہ لیبارٹری رپورٹ موصول ہونے کے بعد ہی کیا جائے گا