LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا دورہ پاکستان منسوخ، وائٹ ہاؤس نے تصدیق کردی ایران نے مذاکرات کے حوالے سے امریکہ کی  شرائط مسترد کردیں: ایرانی سرکاری میڈیا جنگ بندی میں توسیع پر صدر ٹرمپ کا شکریہ، پاکستان کا سفارتی عمل جاری رکھنے کا اعلان صدر ٹرمپ نے امریکا ایران جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کردیا آبنائے ہرمز میں پھنسے ہزاروں ملاحوں کے لیے اقوام متحدہ کی مدد کی اپیل مذاکراتی ٹیم سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات کے مطابق چل رہی ہے: ایران ایران کے ساتھ جھوٹے وعدے کیے گئے، روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف عمران خان کی بہنیں آج بھی ملاقات کیے بغیر واپس لوٹ گئیں ایران-امریکا مذاکرات: ایران کا جواب نہیں آیا، امریکی نائب صدر کا دورہ پاکستان مؤخر مذاکرات کے لیے وفد اسلام آبادبھیجنے کاابھی تک فیصلہ نہیں کیا، ایرانی وزارت خارجہ جنگ بندی میں توسیع نہیں چاہتا،ایران کے معاملے میں جلدبازی سے فیصلہ نہیں کروں گا، ٹرمپ امریکاوایران جنگ میں توسیع پر غورکریں، سفارتکاری کو موقع دیں، اسحاق ڈار ایران کی جانب سے امن مذاکرات میں شرکت کےلیے تصدیق کا انتظارہے، عطاتارڑ پاک بحریہ کا فضا سے سطح سمندر پر مار کرنے والے تیمور کروز میزائل کا کامیاب تجربہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں میں تیزی کیلئے نیا نظام منظور

امریکا کا اسرائیل کو جدید ایف-15 طیاروں کا بڑا تحفہ، 8.6 ارب ڈالر کا معاہدہ

Web Desk

30 December 2025

امریکی وزارتِ دفاع پینٹاگون نے اعلان کیا ہے کہ امریکی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ کو اسرائیل کے لیے جدید ایف-15 جنگی طیاروں کی فراہمی کا 8.6 ارب ڈالر کا بڑا معاہدہ دے دیا گیا ہے۔

پینٹاگون کے مطابق یہ معاہدہ اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا میں اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کی۔ معاہدے کے تحت اسرائیلی فضائیہ کے لیے 25 نئے ایف-15 آئی اے جنگی طیارے تیار کیے جائیں گے، جبکہ مزید 25 طیاروں کا آپشن بھی شامل ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ منصوبے میں طیاروں کا ڈیزائن، جدید نظاموں کی تنصیب، آزمائش، تیاری اور اسرائیل کو ترسیل شامل ہوگی۔ یہ معاہدہ غیر ملکی فوجی فروخت (FMS) پروگرام کے تحت کیا گیا ہے۔

امریکا طویل عرصے سے اسرائیل کا سب سے بڑا اسلحہ فراہم کرنے والا ملک رہا ہے، اور اس نئے معاہدے کو دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات میں مزید مضبوطی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

دوسری جانب امریکا میں فلسطین کے حامی اور جنگ مخالف مظاہرین مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں کہ غزہ میں جاری اسرائیلی کارروائیوں کے باعث اسرائیل کو فوجی امداد بند کی جائے، تاہم ٹرمپ انتظامیہ اور سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں ان مطالبات پر عمل نہیں کیا گیا۔

پینٹاگون کے مطابق معاہدے پر کام امریکی شہر سینٹ لوئس میں کیا جائے گا، جبکہ اس منصوبے کی تکمیل 31 دسمبر 2035 تک متوقع ہے۔